دنیاوی علم اور دینی علم۔۔ از قلم : عالمہ مبین پالیگار کرناٹک۔
دنیاوی علم اور دینی علم۔
از قلم : عالمہ مبین پالیگار کرناٹک۔
MA M Ed
8904317987
— ہماری ترجیحات کا سوال
آج ہمارے معاشرے میں ایک عجیب صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ دنیاوی علم جو دراصل زیادہ تر ایک ہنر کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے لیے والدین اپنے بچوں پر بے پناہ محنت کرتے ہیں۔ بچہ جب ڈھائی یا تین سال کا ہوتا ہے تو اسے اسکول میں داخل کر دیا جاتا ہے، پھر تقریباً بیس سے پچیس سال تک ماں باپ اس کی تعلیم پر وقت، محنت اور دولت خرچ کرتے ہیں تاکہ بچہ بڑا ہو کر اچھی ملازمت حاصل کرے اور اس کی دنیا سنور جائے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تعلیم زیادہ تر دنیا کی زندگی تک محدود ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان اپنی معاشی حالت اور جسمانی ضروریات کو بہتر بنا سکتا ہے، مگر یہ علم اکیلا آخرت کی کامیابی کی ضمانت نہیں بنتا۔
اس کے مقابلے میں دینی علم وہ علم ہے جو انسان کو اللہ کی معرفت، صحیح عبادت اور آخرت کی کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ قرآن سیکھنا، اسے سمجھنا اور دوسروں کو سکھانا وہ عمل ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔”
افسوس کی بات یہ ہے کہ جس علم کے ذریعے جنت کا راستہ مل سکتا ہے، اس پر آج بہت سے والدین وہ توجہ اور محنت نہیں کرتے جو دنیاوی تعلیم پر کرتے ہیں۔ اگر بچہ اسکول کی تعلیم میں پیچھے رہ جائے تو والدین پریشان ہو جاتے ہیں، لیکن اگر بچہ قرآن پڑھنا، نماز کے مسائل یا دین کی بنیادی باتیں نہ سیکھے تو اتنی فکر نہیں کی جاتی۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیاوی علم اور ہنر دنیا کی زندگی سنوارنے کے لیے ہے، جبکہ دینی علم انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو کامیاب بناتا ہے۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی ضرور دیں، تاکہ وہ اچھے مسلمان، اچھے انسان اور آخرت میں کامیاب بندے بن سکیں
Comments
Post a Comment