محافظ .... ازقلم : ڈاکٹر فہمیدہ جمیل۔
محافظ ....
ازقلم : ڈاکٹر فہمیدہ جمیل۔
ہر روز وہ اس موڑ سے ہوکر گزرتی . جب اسکے سامنے سے گزر جاتی تو ایسا لگتا جیسے وه اسی کے انتظار میں بیٹھا ہو ، اور وه خود بھی ایسا محسوس کرتی جیسے وه جان بوجھ کر اسکے سامنے سے گزر رہی ہو. جب وه بس اسٹاپ پر آکھڑی ہوجاتی ، تب بھی اس کی پرسکون نگاہیں اس کا تعاقب کرتی ہوتی اور یہ اپنی نظروں کو دوسری طرف مرکوز کرلیتی یہ سوچ کر کے کہیں وہ اس تعلق سے دل میں کوئی خیال نہ پیدا کر لے ـ
وه جانتی تھی کہ دونوں کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہے . اور وہ رشتہ صرف انسانیت کا ہے ، جو زندگی کے باقی تمام رشتوں سے مضبوط اور پائیدار لیکن اس پاكيزه رشتے کو دنيا نے کبھی سمجھاہی نہیں ہے اس لیے ایسے رشتے ہمیشہ سماج اور معاشره میں بد نام ہی ہوا کرتے ہیں ـ
تقریباً دو سال پہلے سے ، وہ اسی نکڑ پر بیٹھا اسکا انتظار کرتا رہتا اور وه اسی طرح اس کے سامنے سے دھڑکتے دل کے ساتھ گزر جاتی. ایسا نہیں کہ یہ دھڑکن کسی محبت یا چاہت کا اشاره دے رہی ہو. یہ تو اس تناؤ اور کشیدگی کی وجہ ہے جو کسی کی نظروں کی تاب نہ لاسکے ـ
نہ کبھی اس نے اسکا راستہ روکا ، اور نہ ہی کبھی کوئی بات کی اور نہ ہی اس نے کبھی اس کو سلام علیک کہا اور نہ ہی کوئی گفتگو کی. بس نظروں سے باتیں اور خیر خیریت دریافت کرلی جاتی . اسکا وہاں بیٹھے رہنا اس کے لئے ایک سکون قلب اور اس کا ادھر سے گزر جانا اس کے لئے اطمينان بخش تھا .
کبھی کبھار انسان بنا کچھ کہے سب کہہ جاتا ہے اور مخالف بنا کچھ سنے سب کچھ سن جاتا ہے ـ شاید ان دونوں کے بیج ایسا ہی اٹوٹ رشتہ بندھا ہوا ہے ـ
جب وہ بس چڑھ کر کھڑکی کی آڑ سے ذرا اپنی گردن کو خم دے کر باہر دیکھتی تو وه سمجھ جاتا کہ اب کوئی خطرہ نہیں ہے. پھر بس آگے نکل جاتی اور وه سوچتی کہ الحمد اللہ آج کوئی پریشانی لاحق نہ ہوئی .
شام ڈھلے اپنے آفس سے وہ دوباره گھر کی راہ لیتی ہوئی اسی راہ سے گزرتی ، وہ اسے وہیں بیٹھا نظر آتا اور اسکے سامنے سے گزر تی ہوئی وہ نظریں جھکائے تیز تیز گام چل نکلتی .
پھر ایک دن اچانک رنگوں کا تہوار آیا اور ما ں نے آج آفس جانے سے روکا ، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس کے آفس میں ستر فیصد اسٹاف اس تہوار کو منانے والا تھا اب اسے ڈیوٹی کسی حال کرنی تھی لیکن ماں بضد تھی کہ راہ میں کوئی چھیڑ چھاڑ کردے گا تو مصیبت ہوگی ہم ماں بیٹی دونوں بیوگی کی زندگی گزار رہے ہیں ، ہمارا یہاں کوئی محافظ نہیں ، اور خواہ مخواہ کے نئے جھمیلے ـ پر کیا ، کیا جائے اب نوکری بھی ضروری ہے. اس نے ماں کو تسلی دی اور آفس کے لئے نکل پڑی دل میں کسی قسم کا کوئی ڈر خوف نہیں اور نہ ہی کوئی تناؤ بس اس یقین کے ساتھ کہ کوئی ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری نگہبانی پر معمور ہے .
دیکھتے ہی دیکھتے پھر اسی راہ گزر پر چلنے لگی دیکھا وه موجود ہے خاموش نظروں سے اسکا انتظار کرتا ہوا اور یہ بھی ایک پل کو دیکھکر نظر نیچی کئے ہوئے جانے لگی . اچانک سامنے سے کسی نے اس پر رنگ گلال لا کر پھینک دیا اور ہنستا ہوا کہنے لگا ، یہ" یہ دیکھو ہم نے آج بسنتی کو رنگ دیا ہے ، ارے بھئی یہ برقعہ اتار دو اور ہمارے ساتھ ہولی کھیلو " . اس کے تو ہاتھ پاؤں پھولنے لگے زمین پیروں تلے کھسکتی محسوس ہونے لگی ، سانس حلق میں اٹکتی محسوس ہوئی اور وہ جتنا جلدی قدم آگے بڑھانے لگتی اتنا ہی پیچھے کو قدم ہٹنے لگتا ـ اچانک ایک زور دار تھپڑ فضاء میں گونجا ، سامنے وہی محافظ کھڑا اس آدمی کے ہاتھ کو موڑ رہا تھا ـ ارے ايسا کیا کردیا میں نے جو تم نے مجھے اتنی زور کا تھپڑ رسید کیا . کیوں بھئی! تمھیں برا لگا ؟ کیا لگتی ہے؟ وہ وہاں سے جلد نکل جانا چاہتی تھی بس اپنا راستہ ناپا پر کانوں میں اسے جملے صاف سنائی دینے لگے ـ" وه بھارت کی ماں ہے ، بہن ہے ، بیٹی ہے .." سمجھا ـ ارے یار تو کب سے ان کی تائید کرنے لگا ؟ تو ،تو اپنا ہے ـ ہاں! پر سب کا اپنا اور اس دیش کا اپنا .
یہ ریش والا محافظ ؟ میرا ہم مذہب نہیں ؟
وہ اسٹاپ پر کھڑی بس کا انتظار کرنے لگی اور ذہن کئی خیالوں میں گھومنے لگا جیسے دنیا گھوم رہی ہے ـ یہ اتنے دنوں سے میری حفاظت کرنے والا ريش رکھنے والا کوئی غير ہے ؟
ہاں ! الله تعالٰی نے دنیا میں انسانیت کو بھی محافظ عطا کئے ہیں تاکہ اسے قائم رکھا جاسکے .
یہ مذہبی امور اور فرقے تو انسانوں کے اپنے بنائے ہوئے ہیں انسانیت تو ہمیشہ قائم و دائم رہنے والی ہے
چلتی بس اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے اس کی روح کو تازگی بخشی . جو کئی دنوں کی ریاضت سے اسےحاصل ہوئی تھی ـ اور آج اس کے دل نے کہا کہ دنیا میں انسانیت محفوظ ہے بس اسے اپنالیا جائے تو ہماری ہے ورنہ شر اور باطل کے ہاتھوں کی باندی ہوکر ره جائے گی اور انسانیت کے محافظ ایک بدنام شده ہستی .....
Comments
Post a Comment