زکات کے حقوق اور چندہ جمع کرنے کا نظام: اصلاح کی ضرورت۔۔از قلم: ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی۔(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)
زکات کے حقوق اور چندہ جمع کرنے کا نظام: اصلاح کی ضرورت۔۔
از قلم: ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی۔
(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)
موبائل نمبر: 9325217306
اسلام میں زکات اور صدقات محض چندہ یا عام عطیہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایک مقدس مالی نظام ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ زکات دراصل معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند طبقات کا حق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے صاحبِ نصاب مسلمانوں کے مال میں مقرر کیا ہے۔ اس کا مقصد صرف مالی تعاون فراہم کرنا نہیں بلکہ معاشرتی انصاف قائم کرنا، غربت کو کم کرنا اور محتاج افراد کی کفالت کو یقینی بنانا ہے۔ اسی لیے فقہائے اسلام کے نزدیک زکات ایک عبادت بھی ہے اور ایک اہم معاشی ذمہ داری بھی، جس کی ادائیگی میں امانت، دیانت اور احتیاط بنیادی اصول ہیں۔
قرآنِ مجید نے زکات کے مصارف کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ ان مصارف میں فقرا، مساکین، مقروضین اور دیگر مستحق طبقات شامل ہیں۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ زکات کا مال دراصل انہی لوگوں کے لیے مخصوص ہے اور اسے انہی تک پہنچانا اصل مقصد ہے۔ یہ مال کسی فرد یا ادارے کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ایک شرعی امانت ہے جسے صحیح حق داروں تک پہنچانا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے زکات کی وصولی اور تقسیم کے معاملے میں امانت داری اور شفافیت کو بنیادی اصول قرار دیا ہے۔
موجودہ دور میں ہندوستان جیسے ممالک میں کوئی مرکزی اسلامی نظام موجود نہیں ہے جو زکات اور صدقات کی وصولی اور تقسیم کو منظم انداز میں انجام دے سکے۔ اس خلا کی وجہ سے دینی مدارس اور رفاہی ادارے اس ذمہ داری کو کسی نہ کسی حد تک انجام دے رہے ہیں۔ مدارسِ اسلامیہ نے دین کی حفاظت، قرآن و حدیث کی تعلیم اور اسلامی اقدار کی بقا کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں وہ ملتِ اسلامیہ کے لیے قابلِ فخر ہیں۔ ان اداروں کی بقا اور استحکام کے لیے اہلِ خیر ہمیشہ سے تعاون کرتے رہے ہیں اور یہ تعاون آج بھی جاری ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ایک اہم سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کیا مدارس کے وہ سفراء یا نمائندے جو زکات اور صدقات جمع کرتے ہیں، شرعاً “عاملینِ زکات” کے حکم میں آتے ہیں؟ اور اگر وہ زکات کی رقم میں سے 25 یا 30 فیصد تک کمیشن لیتے ہیں تو کیا یہ عمل درست ہے؟ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر سنجیدہ علمی اور فقہی غور و فکر کی ضرورت ہے۔
فقہی نقطۂ نظر سے “عاملینِ زکات” وہ افراد ہوتے ہیں جنہیں اسلامی حکومت یا کوئی بااختیار نظام زکات کی وصولی اور تقسیم کے لیے مقرر کرے۔ تاریخِ اسلام میں یہ ذمہ داری ریاست کے تحت انجام دی جاتی تھی اور عاملین کو بیت المال سے معاوضہ دیا جاتا تھا۔ موجودہ حالات میں جب ایسا کوئی مرکزی نظام موجود نہیں ہے تو مدارس کے نمائندوں کو براہِ راست اسی درجے میں شمار کرنا آسان نہیں۔
اسی طرح زکات کی رقم میں سے 25 یا 30 فیصد تک بطور کمیشن لینا ایک حساس اور قابلِ غور مسئلہ ہے۔ چونکہ زکات مستحقین کا حق ہے، اس لیے اس میں سے بڑی مقدار بطور کمیشن لینا یقیناً ایک ایسا عمل ہے جس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ اگر زکات جمع کرنے کا عمل کمیشن پر مبنی ہو جائے تو اس سے مستحقین کے حقوق متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے اور زکات کے اصل مقصد کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض جگہوں پر چندہ جمع کرنے کا نظام مسابقتی صورت اختیار کر چکا ہے۔ مختلف مدارس اور ادارے زیادہ سے زیادہ چندہ جمع کرنے کی کوشش میں ایسے طریقے اختیار کرتے ہیں جن میں کمیشن کا عنصر نمایاں ہو جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل مستحقین، یعنی غریب اور ضرورت مند افراد، پس منظر میں چلے جاتے ہیں جبکہ جمع شدہ رقم کا ایک بڑا حصہ انتظامی یا دیگر اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ نظام میں عام غریب افراد کے لیے زکات تک براہِ راست رسائی اکثر مشکل ہو جاتی ہے۔ زکات کی زیادہ تر رقم اداروں کے ذریعے جمع اور خرچ ہوتی ہے جبکہ مستحق افراد کو اس نظام سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوئی واضح راستہ نظر نہیں آتا۔ اس صورتِ حال میں وہ مقصد متاثر ہوتا ہے جس کے لیے اسلام نے زکات کا نظام قائم کیا تھا۔
ایسے حالات میں اہلِ علم، دینی قیادت اور معتبر مدارس کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اس نظام کو زیادہ شفاف، منصفانہ اور شرعی اصولوں کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔ مدارس کو چاہیے کہ زکات کی رقم کے استعمال میں واضح ضابطے اور اصول متعین کریں تاکہ یہ مال واقعی ان مستحق طبقات تک پہنچ سکے جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے مقرر کیا ہے۔
اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ زکات کے مال کا ایک مناسب حصہ براہِ راست غریب، مسکین اور ضرورت مند مسلمانوں تک پہنچایا جائے تاکہ ان کا حق ادا ہو سکے۔ اگر مدارس اس مال کا کچھ حصہ اپنی تعلیمی ضروریات کے لیے استعمال کرتے ہیں تو اس میں بھی شرعی اصولوں اور مستحق طلبہ کی ضروریات کو پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔ جمع و خرچ کے نظام میں شفافیت، دیانت اور جواب دہی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زکات اور صدقات کا نظام اسلامی معاشرتی انصاف کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔ اگر اسے صحیح اصولوں کے مطابق نافذ کیا جائے تو یہ غربت کے خاتمے اور معاشرتی توازن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اگر اس میں ذاتی مفادات، کمیشن یا غیر شفاف طریقے شامل ہو جائیں تو اس کے اصل مقاصد متاثر ہو سکتے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اہلِ علم اور دینی ادارے اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اور ایسا نظام قائم کریں جو شرعی اصولوں کے مطابق بھی ہو اور معاشرتی انصاف کے تقاضوں کو بھی پورا کرے۔ اسی میں زکات اور صدقات کی حقیقی روح اور اس کی برکتوں کا تحفظ ممکن ہے۔اسکے لئے چندہ جمع کرنے والے اساتذہ وسفراء کی محنت وکوششوں کے مدنظر ان کی حسن کارکردگی کو دیکھا جائے چونکہ یہ اساتذہ تعطیلات میں اپنے آپ کو مصروف رکھتے ہیں انہیں اصل تنخواہوں سے زائد تنخواہ کے علاوہ متعینہ دئے گئے ٹارگیٹ پر خصوصی انعامات طئے کئے جائیں تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ وصولی کیلئے دلچسپی لیکر تن من اور اطمینان وسکون سے زیادہ سے زیادہ محنت کرکے اس کام کو بحسن وخوبی انجام دینے میں کامیابی مل سکے اور کمیشن کی لعنت سے محفوظ رہ سکے اور اس طرح کے اقدامات ذمہ داران مدارس کیلئے کچھ مشکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment