پیٹ کی فکر یا تعلیم کی اہمیت؟۔عبدالرازق۔ازقلم : لیکچرر ۔ ڈاکٹر صوفی جونیئر کالج انجن گاؤں۔


پیٹ کی فکر یا تعلیم کی اہمیت؟۔
عبدالرازق۔
ازقلم : لیکچرر ۔ ڈاکٹر صوفی جونیئر کالج انجن گاؤں۔

اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو ہر طرف کھانے پینے کے ٹھیلے، ہوٹل اور دکانیں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن رات محنت کر رہے ہیں، مگر ان کی سوچ محدود ہو کر صرف اس بات تک رہ گئی ہے کہ کسی طرح پیٹ بھر جائے اور زندگی گزر جائے۔
اس کے برعکس کچھ بستیاں ایسی بھی ہیں جہاں تعلیم کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ وہاں اسکول، کالج، لائبریریاں اور کوچنگ سینٹرز قائم ہو رہے ہیں۔ بچے کتابوں میں مصروف ہیں اور نوجوان اپنی توانائی تعلیم اور مستقبل کی تیاری میں لگا رہے ہیں۔ یہی فرق سوچ اور ترقی کا اصل سبب ہے۔
جو قوم صرف وقتی ضروریات میں الجھ جائے، وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ جبکہ وہ قومیں جو علم کو اپنی طاقت بناتی ہیں، وہی دنیا میں آگے بڑھ کر قیادت سنبھالتی ہیں۔ آج ہم روزی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، اور دوسرے علم کے ذریعے روزگار پیدا کرنے والے بن چکے ہیں۔
اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ شعور کی کمی ہے۔ ہم فضول خرچی میں پیسہ ضائع کرتے ہیں، مگر تعلیم پر خرچ کرنے سے کتراتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو کم عمری میں کام پر لگا دیتے ہیں، اور ان کے روشن مستقبل کے دروازے خود بند کر دیتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں۔ بچوں کو تعلیم دیں، گھروں میں تعلیمی ماحول پیدا کریں اور علم کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
✨ یاد رکھیں: کھانا جسم کو زندہ رکھتا ہے، مگر تعلیم انسان کو عزت اور مقام دیتی ہے۔
اگر آج ہم نے خود کو نہ بدلا، تو کل ہمیں صرف پچھتاوا ہی نصیب ہوگا۔
عبدالرازق۔
 لیکچرر ۔ ڈاکٹر صوفی جونیئر کالج انجن گاؤں
 9822462078

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ