رمضان صرف فڈ فیسٹیول نہیں بلکہ نفس اور روح کی پاکیزگی کا قدرتی سسٹم ہے: ڈاکٹر آصف اقبال۔مختلف مذاہب کی خواتین نے"افطار اور باہمی گفتگو" پروگرام میں آپسی اختلافات پر قابو پانے کا عزم کیا۔ایشین سینٹر فار سوشل اسٹڈیز سولاپور اور ساوتری مہیلاسنگھٹنا کا انوکھا اور یادگار پروگرام۔

رمضان صرف فڈ فیسٹیول نہیں بلکہ نفس اور روح کی پاکیزگی کا قدرتی سسٹم ہے: ڈاکٹر آصف اقبال۔
مختلف مذاہب کی خواتین نے"افطار اور باہمی گفتگو" پروگرام میں آپسی اختلافات پر قابو پانے کا عزم کیا۔
ایشین سینٹر فار سوشل اسٹڈیز سولاپور اور ساوتری مہیلاسنگھٹنا کا انوکھا اور یادگار پروگرام۔
 
سولاپور (اِقبال باغبان) : ہندوستانی سماج کے کثیر الثقافتی تانے بانے کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ثقافتی سطح پر مکالمہ ضروری ہے۔ مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف مذاہب کے ماننے والے ہندوستانی سماج کے اتحاد کو بات چیت کے ذریعے ہی مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ لہذا، مختلف مذاہب کی خواتین نے ’افطار اور باہمی گفتگو ‘ جیسے پروگرام کے ذریعے اختلاف پر قابو پانے اور ہندوستانی معاشرے کو مزید ترقی دینے اور بلند کرنے کا عزم کیا۔
ایشین سینٹر فار سوشل اسٹڈیز اور ساوتری مہیلا سنگھٹانا کی جانب سے شوشل ہائی اسکول میں افطار اور باہمی گفتگو 'پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ رسمی روایات کو توڑتے ہوئے اس پروگرام میں مہمان خصوصی یا مقرر کے طور پر کسی کو مدعو نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے ان خواتین کے لیے ایک کھلا پلیٹ فارم مہیا کیا گیا جو اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ ابتدا میں ادارے کے سربراہ ڈاکٹر آصف اقبال اور ساوتری سنگھٹنا کی ذمہ دار سریتا موکاشی نے تعارف اور استقبال کیا۔ ڈاکٹر آصف اقبال نے کہا کہ رمضان صرف فڈ فیسٹیول نہیں بلکہ نفس اور روح کی پاکیزگی کا قدرتی سسٹم ہے. پھر وہاں موجود خواتین کو اپنے خیالات کا اظہار کا موقع دیا گیا۔
شروع میں قومی ترانا سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا اور ساوتری کی اووی کو سنایاگیا۔ نشا بھوسلے، سنیتا پگائیکواڑ، مونیکا سرکار، ایڈوکیٹ پیرزادے، افسانہ بیگ وغیرہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب خواتین ایک دوسرے سے رابطہ کریں گی تب ہی وہ اپنے مسائل کا خود حل تلاش کر سکیں گی اور بھائی چارہ بڑھے گا۔ اس لیے ان خواتین کو ثقافتی تہواروں اور تقریبات کے ذریعے اکٹھے ہونے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ جس کے ذریعے وہ قریب آئیں گے اور زیادہ منظم ہوں گے۔ اس وقت موجود خواتین میں سے کئی نے امید ظاہر کی کہ دیوالی اور کرسمس جیسے تہواروں کے دوران اس طرح کے پروگرام منعقد کیے جانے چاہئیں۔ آخر میں تمام خواتین نے ہاتھ پکڑ کر یکجا ہو کر 'ہم ہوں گے کامیاب' یہ گیت گایا۔
 پروگرام کی نظامت سمترا دیشمکھ نے کی۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں ششیکلا دیشمکھ، سرفراز احمد، معیز سراج احمد، الطاف کڈلے، واعظ سید، عاقد شیخ، قدسیہ منیار، غوثیہ یعقوب علی، ثمینہ منیار، نکہت پروین، شبانہ قاضی، ریحانہ شیخ، وقار النساء بندوق والے نے وغیرہ نے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے سخت محنت کی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ