یادِ والد — عید کے دن۔۔ ازقلم : جنید عبدالقیوم شیخ۔
یادِ والد — عید کے دن۔
ازقلم : جنید عبدالقیوم شیخ۔
عید آئی تو مرے دل میں یہ حسرت جاگ اٹھی،
یادِ والد سے مری روح میں رحمت جاگ اٹھی۔
کل تلک عید کی محفل میں تھے وہ میرے ساتھ،
آج تنہائی میں یادوں کی حکایت جاگ اٹھی۔
وہ نصیحت، وہ دعا، وہ شفقتِ دل کی ضیا،
یاد آئی تو مرے دل میں بصیرت جاگ اٹھی۔
جن کی باتوں سے ملا مجھ کو تقویٰ کا سبق،
ان کی تعلیم سے دل میں بھی غیرت جاگ اٹھی۔
راہِ دنیا میں جو آیا کبھی لمحۂ امتحاں،
ان کی یادوں سے مرے دل میں ہمت جاگ اٹھی۔
عید کی صبح سہی، دل پہ مگر بوجھ بھی ہے،
ہر خوشی کے ساتھ دل میں بھی کسک سی جاگ اٹھی۔
رب سے بس اتنی دعا ہے کہ عطا ہو رحمت،
قبرِ والد پہ بھی اک نور کی برکت جاگ اٹھی۔
زندگی فانی ہے، ہر شخص کو لوٹنا ہے،
اس حقیقت سے مری روح میں عبرت جاگ اٹھی۔
جو سکھایا تھا مجھے صبر و رضا کا رستہ،
آج اس درس سے دل میں بھی حکمت جاگ اٹھی۔
عید کے دن بھی یہی ذکر ہے لب پر میرے،
رب کی رحمت سے وہاں نورِ جنت جاگ اٹھی۔
اک دعا لب پہ ہے ہر لمحہ مرے بابا کے لیے،
رب کی رحمت سے وہاں راحتِ جنت جاگ اٹھی۔
ان کی تربیت نے سکھلایا تھا اخلاص کا رنگ،
آج اس رنگ سے دل میں بھی طہارت جاگ اٹھی۔
جب بھی قرآن کی آیات پہ ٹھہرا یہ دل،
ان کی تعلیم سے دل میں بھی ہدایت جاگ اٹھی۔
جنید آج بھی کرتا ہے رب سے یہی عرضِ دعا،
میرے والد کے لیے رحمتِ رب جاگ اٹھی۔
Comments
Post a Comment