افسانچہ: خون آلود بستہ۔۔ ازقلم : ڈاکٹر طیب خرادی۔
افسانچہ: خون آلود بستہ۔۔
ازقلم : ڈاکٹر طیب خرادی۔
بستی کی فضا ابھی پرندوں کی چہچہاہٹ سے مخمور تھی کہ اچانک لوہے کے پرندوں نے بارود کی آگ اگلنا شروع کر دی۔ ایک سو ساٹھ معصوم کلیاں، جو ابھی حروفِ تہجی کی تتلیاں پکڑنا سیکھ رہی تھیں، لمحوں میں مٹی کا رزق بن گئیں۔ وہ عمارت جو علم کا گہوارہ تھی، ملبے کے ڈھیر میں بدل گئی اور بچوں کے قہقہے سسکیوں میں ڈھل کر فضا میں منجمد ہو گئے۔
دھوئیں کے غبار چھٹے تو ملبے پر ایک 'گلابی بستہ' پڑا تھا، جس کی زپ سے اب رنگین پنسلیں نہیں، بلکہ تازہ لہو کی سرخ لکیریں مٹی میں جذب ہو رہی تھیں۔ وہ بستہ، جسے صبح ایک ماں نے بڑے مان سے بیٹی کے ننھے کندھوں پر لٹکایا تھا، اب خود ایک بے جان لاش بنا زمین پر تڑپ رہا تھا۔ اس پر بنی کارٹون کی تصویریں خون کے چھینٹوں تلے دب کر ایک ابدی اور کربناک خاموشی کا اشتہار بن چکی تھیں۔
ایک بلکتی ہوئی ماں نے جب لرزتے ہاتھوں سے اس بوجھل بستے کو اٹھایا، تو اس کی زپ خود بخود کھل گئی۔ اندر سے کتابیں نہیں نکلیں، بلکہ نور کی ایک لہر بلند ہوئی جس نے پوری بستی کے اندھیروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بستے کے خانے میں رکھی تختی پر خونِ ناحق سے صرف ایک ہی لفظ رقم تھا: "انصاف!"
ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اسکول کی گھنٹی اب زمین پر نہیں، بلکہ عرشِ بریں پر بجی ہے، جہاں ایک سو ساٹھ معصوم روحیں اپنے خون آلود بستے میزوں پر سجائے خالقِ کائنات کے حضور اپنی حاضری لگوا رہی تھیں۔ وہ بستہ اب محض ایک بستہ نہیں رہا تھا، بلکہ وقت کے ماتھے پر ایک ایسا 'سرخ نشان' بن گیا تھا جسے تاریخ کا کوئی دھارا مٹا نہیں سکے گا۔
Comments
Post a Comment