زکواۃ کا اجتماعی نظم اور مسجد خدمت کمیٹی وانم باڑیجرعات۔تحریر: اسانغنی مشتاق رفیقی۔
زکواۃ کا اجتماعی نظم اور مسجد خدمت کمیٹی وانم باڑی
جرعات۔
تحریر: اسانغنی مشتاق رفیقی۔
زکواۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے لیکن اس کی اہمیت اس بات سے قوی ہوجاتی ہے کہ قرآن مجید میں اس کا ذکر اکثر مقامات پر ایمان اور نماز کےساتھ آیا ہے ارشاد باری تعالی ہے
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ— وَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ ۟
بے شک جو لوگ ایمان کے ساتھ ﴿سنت کے مطابق﴾ نیک کام کرتے ہیں، نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب تعالیٰ کے پاس ہے، ان پر نہ تو کوئی خوف ہے، نہ اداسی اور غم ۔۔۔ البقرہ277
دور رسالت مآبﷺ میں اسلام کے ہر بنیادی رکن کا ظہور اجتماعی شکل میں ہوا، اس سے جہاں امت بحیثیت ایک اکائی مضبوط ہوئی وہیں ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح ہر آفت و مصیبت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے قابل ہوئی۔ کلمہ کو آپسی بھائی چارہ اور انفاق کا پہلا رکن قرار دے کر ایک مضبوط جمعیت کو وجود بخشا گیا، نماز کے لئے مسجد اور جماعت کا حکم دے کر آپسی اتحاد کی فضا ہموار کی گئی، زکواۃ کا اجتماعی نظام قائم کرکے سماج کے معاشی مسائل کا واضح حل پیش کیا گیا، روزہ اور حج کے لئے مخصوص ایام و اوقات پر ہر مسلمان کے لئے ایک جیسے اعمال مقرر کرکے ایک منظم شکل کے ذریعے وحدت کا ایک ایسا ہالہ ترتیب دیا گیا جس کی تابناکی آج بھی مثالی ہے۔ ان منظم اجتماعی کوششوں سے رسالت مآبﷺ کے وصال کے بعد خلافت راشدہ کا ایسا ادارہ وجود میں آیا جس نے اپنے وقت کے دو طاقتور ترین سلطنتوں کو زمین بوس کر کے ان پر توحید کا پرچم لہرایا۔
جہاں تک زکواۃ کا تعلق ہے اسلام سماج کے معاشی مسائل کے حل اور خوشحالی کے لئے اس کو ناگزیر سمجھتا ہے۔ زکواۃ کا اجتماعی نظام معاشرے سے مفلسی اور ناداری کو ختم کرنے کا ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس کی افادیت مثالی ہے۔ اسلام نے اس سے رتی برابر انحراف کو بھی قابل گرفت قرار دے کر اس سے سخت مواخذہ کی تاکید کی ہے۔ زکواۃ غرباء اور مساکین کا وہ حق ہے جس کے منکرین کے خلاف خلیفہ اول حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جہاد کا حکم دے کر قیامت تک کے لئے ایک مثال قائم کردی۔ موجودہ دور میں خاص کر وطن عزیزمیں اجتماعی زکواۃ کی اہمیت اس لحاظ سے اور بڑھ جاتی ہے کہ مسلماںوں کا ایک بڑا طبقہ ہر نہج سے پستی اور زوال کا شکار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ کَادَ اَلفَقرُ اَن یَکُونَ کُفرَا، غربت انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے، آج کل سچ ہوتا نظر آرہا ہے، ایسے میں یہ تمام اہل ایمان کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ امت کے غریب و مسکین طبقہ کی داد رسی کی ہر زاوئے سے فکر کریں اور ایسے اعمال کو رواج دیں جس سے اسلامی بھائی چارگی اور درد مندی کا فلسفہ نمایاں ہو کر غیروں کو بھی قابل تقلید نظر آئے۔
زکواۃ کے تعلق سے قرآن و سنت رسول میں واضح احکامات ملتے ہیں۔ قرآن مجید میں ا للہ نے زکوۃ کی تقسیم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے۔
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰكِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِیْلِ ؕ— فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ؕ— وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ۟ ۔۔۔ سورہ توبۃ
یعنی زکوۃ کا مال فقیروں اور مسکینوں کے لئے۔ اور تحصیلداران زکوۃ کے لئے (جو زکوۃ کی وصولی کے لئے مقرر ہوں گے ان کی تنخواہ اس میں سے ادا کی جائے گی ) اور ان لوگوں کے لئے جن کی دل افزائی اسلام میں منظور ہو۔ اور غلاموں کو آزادی دلانے کے لئے۔ اور ایسے قرض داروں کا قرض چکانے کے لئے جو قرض نہ اتار سکتے ہوں۔ اور اللہ کے راستے میں (اسلام کی اشاعت اور ترقی و سربلندی کے لئے) اور مسافروں کے لئے۔
یعنی زکواۃ بغیر کسی شک و شبہ کے ان آٹھ مصارف میں خرچ کیا جاسکتا ہے
1- فقراء، 2- مساکین، 3- عاملین زکواۃ، 4- برائے تالیف قلب 5- غلاموں کی آزادی کے لئے،
6- قرض داروں پر 7- راہ خدا میں 8- مسافروں کے لئے
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب بھیجا، اور فرمایا: ”تم اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے پاس پہنچو گے، تم انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اس کا رسول ہوں، اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رات و دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اسے مان لیں تو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں میں ان پر زکواۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور انہیں کے محتاجوں میں بانٹ دی جائیگی، اگر وہ اس کو مان لیں تو پھر ان کے عمدہ اور نفیس مال وصول کرنے سے بچے رہنا (بلکہ زکواۃ میں اوسط مال لینا)، اور مظلوم کی بد دعا سے بھی بچنا، اس لیے کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہے“ ۔۔۔ سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1783
درج بالا آیت اور حدیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ زکواۃ ایک اجتماعی عمل ہے جس کا مقصد معاشرے کے غرباء مساکین اور ضرورت مندوں کی خبر گیری اور ان کی داد رسی ہے۔ کسی وجہ سے اگر زکواۃ کی ادائیگی کا اجتماعی نظم نہیں ہوپارہا ہے تو انفرادی طور پر زکوۃ ادا کی جاسکتی ہے، لیکن مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ زکواۃ جمع کرنے اور تقسیم کرنے کے لئے ایک اجتماعی نظام قائم کرنے کی فکر کریں،اس لئے کہ زکواۃ کی ادائیگی کا مقصد اجتماعیت کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔ وطن عزیز میں الحمداللہ مسلمانوں کے بہت سارے ادارے اس ضمن میں کام کررہے ہیں مگر یہاں کے حالیہ تناظر میں یہ عمل اسی وقت مکمل کامیاب ہوسکتا ہے جب اس کو مسلمانوں کے مرکز مسجد سے جوڑ دیا جائے۔ مسجد کے ساتھ چونکہ تقدس کا جذبہ پہلے ہی سے جڑا ہوا ہوتا ہے اور نماز کے اجتماعی عمل کا یہ مظہر بھی ہے اس زاوئے سےمسجد کو مرکز بنا کر زکواۃ کا اجتماعی نظم قائم کرنے میں جو آسانی میسر آسکتی وہ کسی دوسری جگہ مشکل ہے۔ جیسا کہ حدیث بالا میں ارشاد ہے کہ زکواۃ ان کے مالداروں سے لے کر ان کے محتاجوں میں باںٹ دو، اس حوالے سے بھی مسجد ایک مرکزی حیثت اختیار کر لیتی ہے اور یہاں سے وہاں موجود آس پاس کے مالداروں سے زکواۃ حاصل کر کے وہیں پر موجود محتاجوں میں تقسیم کرنا آسان ہوگا۔ چونکہ زکواۃ و صدقات کا پہلا حق قریبی ضرورت مند رشتہ داروں کے بعد محتاج پڑوسیوں کا ہوتا ہے تو اس طریقے سے یہ حق ادا کرنے میں بھی بڑی سہولت ہوگی۔
ریاست ٹمل ناڈو میں الحمداللہ اس فکر کو لے کر باقاعدہ ایک نظم مسجد سیوائی کوژو(مسجد خدمت کمیٹی) کے نام سے قائم ہوچکی ہے۔ جس کے تحت ریاست کے ہزاروں مساجد میں منظم انداز میں زکواۃ کے علاوہ صدقات فدیہ ہدیہ خیرات وغیرہ کی وصولی اور اس کا محتاجوں ضرورت مندوں میں تقسیم کا ایک مثالی نظام روبہ عمل ہے۔ اس نظام میں مرکزیت مسجد کو حاصل ہوتی ہے اور مسجد کے انتظامیہ کی مکمل نگرانی میں یہ کار خیر انجام دیا جاتا ہے۔ اس کار خیر کی شروعات اس طرح ہوتی ہے کہ پہلے مسجد سے منسلک محلے میں موجود افراد کا ایک ڈاٹا بیس تیار کیاجاتا ہے جس میں وہاں موجود ساکنین کی مالی حالات، معاشی مسائل تعلیمی ترقی وغیرہ جیسے معلومات اکھٹا کر لئے جاتے ہیں۔ اس ڈاٹا بیس کی مناسبت سے جو صاحب استطاعت ہیں انہیں ترغیب دے کر ان سے محلے میں موجود محتاجوں اور ضرورت مندوں کی داد رسی کے لئے زکواۃ صدقات فدیہ خیرات وغیرہ حاصل کی جاتی ہے اور ماہانہ کی بنیاد پر راشن، دوائیوں، اسکول کے فیس اس کے علاوہ خود مسجد میں عصری تعلیم کے طلباء کے لئے مفت ٹیوشن، مریضوں کے آپریشن وغیرہ کا نظم اور اس کے علاوہ بھی خیر کے بہت سارے عمل مکمل شفافیت کے ساتھ انجام پذیر ہوتے ہیں۔
شہر وانم باڑی کے کئی مساجد میں خدمت کا یہ کام کئی سالوں سے مکمل نظم کے ساتھ جاری ہے۔بیس 20 مساجد کے تحت تقریبا 300 گھرانوں کو ماہانہ راشن کا انتظام بحسن و خوبی کیا گیا ہے۔ محلہ بشیر آباد میں 28 گھرانوں کو ماہانہ راشن، 6 افراد کو ماہانہ دوائی کا انتظام، عصری تعلیم سے منسلک اسکول اور کالج کے 100 سے زائد طلباء و طالبات کو مفت ٹیوشن، ماہ رمضان میں 500 سے زائد لوگوں کو رمضان کٹ،تقریباً 200 خاندان کو عیدالفطر کٹ،اسکول اور کالج کے طلباء و طالبات کی فیس کی ادائیگی میں مدد، حکومت کی جانب سے وقتا فوقتا طلب کردہ دستاویزات جیسے ایس آٰئی آر، ووٹر آئی ڈی کارڈ، انشورنس، وغیرہ کی تیاری میں مسجد میں ہی کیمپ لگا کر مدد اور گاہے بگاہے ہیلتھ کیمپ اور فلاح وبہبودی کا ہر کام لیکن مسجد کے تحت الحمداللہ آٹھ نو سالوں سے منظم طریقے سے جاری ہے۔ اس کے لئے فنڈ محلے کے احباب سے ہی اکٹھا کیا جاتا ہے، کچھ صاحب خیر احباب ماہانہ چندہ بغیر ناغہ کئے پہنچاتے رہتے ہیں اور اس کے علاوہ بعد نماز جمعہ بعد کراؤڈ فنڈنگ میں محلہ کے احباب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں جس سے یہ کار خیر مسلسل جاری ہے۔ اسی طرز پر شہر کے کئی مساجد جیسے مسجد قادرپیٹ، مسجد صدیق آباد(نیو ڈلی)، مسجد نوراللہ پیٹ، مسجد یٰسین، مسجد جدید مسلمپور، مسجد قدیم مسلمپور، مسجد سلام آباد، مدینہ مسجد غفور آباد، مسجد کریم آباد، مسجد شاکر آباد، مسجد اعظم بڑی پیٹ، مسجد نواب عزیز خان بہادر بڑی پیٹ، مسجد چنم پیٹ، مسجد مٹپالہ، مسجد قدیم جعفر آباد، مسجد جدید جعفر آباد، مسجد نیوٹون، میں زکواۃ و صدقات کو اکھٹا کرکے وہیں کے ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے کا اور ان کی جائز ضروریات حتی المقدور پورا کرنے کا کام منظم انداز میں مسجد خدمت کمیٹی کے تحت جاری ہے۔ ان کے علاوہ مسجد پدور، مسجد عائشہ، مسجد محمود، مسجد ابراھیم میں بھی مسجد خدمت کمیٹی فعال ہے۔ ایک اور بات جسے مسجد خدمت کمیٹی کی منفرد پہچان بھی کہا جاسکتا ہے وہ اس کے اندر پائے جانے والی شفافیت ہے، چونکہ یہ نظام مسجد کے تحت اسی محلے سے منسلک افراد کی خاطر جاری ہوتا ہے، اس میں دینے والوں اور لینے والوں کے درمیان دوری نہیں ہوتی، حساب و کتاب بھی آسانی سے دستیاب ہوتا ہے اور ہر کسی کے سمجھ میں بھی آجاتا ہے۔ سب سے اہم بات ہر ماہ ایک معقول رقم خرچ کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے بچت کے امکانات نہ کے برابر ہیں۔
شہر وانم باڑی کے ان احباب کے لئے جو اپنی زکواۃ صدقات و خیرات مستحق لوگوں تک پہچانے کا عزم رکھتے ہیں اور اس کے لئے کوشاں رہتے ہیں مسجد خدمت کمیٹی سے بہتر متبادل شاید ہی کوئی ہو۔ یوں تو شہر میں کار خیر کے عنوان پر کئی ادارے اور انجمنیں فعال ہیں اور الحمداللہ دہائیوں سے اپنے اپنے میدان میں نمایاں خدمات بھی انجام دے رہے ہیں لیکن مسجد خدمت کمیٹی نے غرباء، مساکین، محتاجوں اور صحیح معنوں میں مستحقین زکواۃ و صدقات سے راست رابطہ قائم کرکے منظم انداز میں جس احسن طریقے سے ان کی خبر گیری کا ایک نظام تشکیل دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔
بطور مشورہ شہر کے مخیر احباب کے آگے یہ بات رکھی جارہی ہے کہ وہ شہر میں اجتماعی زکواۃ کے نظام کو جاری کرنے کی اس ابتدائی کوشش کا دامے درمے سخنے بھر پور ساتھ دیں۔ اپنے اور اپنے جاننے والوں کے زکواۃ و صدقات اپنے اپنے محلے کے مسجد خدمت کمیٹی کے حوالے کراکے شہر کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے ضامن بنیں۔ جن محلوں میں یہ کمیٹی قائم نہیں ہوئی ہے وہاں محلے کے مسجد کے ذمہ داروں کی توجہ اس طرف مبذول کراکر انہیں اس کار خیر کے لئے آمادہ کرائیں اور جن محلوں میں کمیٹی قائم ہے اور کم فعال ہے وہاں خود آگے بڑھ کر اس کے کاموں میں حصہ لے کر اسے تقویت پہنچائیں اور اُسے شہر کے لئے ایک مثال بنائیں۔
موجودہ حالات میں جب کہ فتنے کئی روپ و رنگ سے ہمارے درمیان راہ پانے کے لئے لگاتارکوشش میں مصروف ہیں ہمارا پہلا کام یہی ہونا چاہئے کو ہم ایک مرکز سے جڑیں اور یہ مرکز محلےکی مسجد سے بہتر اور کیا ہوسکتا ہے۔ سنت رسول میں مسجد کی مرکزی حیثت کس حد تک مضبوط ہے یہ سیرت النبی سے واقف ہر مومن مسلمان جانتا ہے۔ آج جب ہمارے سامنے کسی حد تک اس سنت کو جاری کرنے کا موقع میسر آرہا ہے تو ہماری پہلی کوشش یہی ہونی چاہئے کہ ہم اس کے ساتھ مکمل جڑ جائیں۔ اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا کرے۔ آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment