عبادت کے بعد انعام کا دن۔ ازقلم : سعدیہ فاطمہ عبدالخالق۔ ناندیڑ مہاراشٹر۔
عبادت کے بعد انعام کا دن۔
ازقلم : سعدیہ فاطمہ عبدالخالق۔ ناندیڑ مہاراشٹر۔
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ،
اللّٰہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اشرف المخلوقات میں رکھا ہے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے امتی میں رکھا ہے ،
رمضان کے روزے پورے ہوتے ہی ہم انعام الٰہی کے دن میں داخل ہوگئے ، بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہیں کہ یہ دن دیکھنے ملا ہے ، ماہ رمضان روح کی مضبوطی اور ظاہر و باطن کی صفائی کا نام ، یہ نیکیوں کی تجارت ، توبہ و استغفار ، ہمدردی ، صبر و شکر، ایثار و قربانی اور قرآن فہمی کا مہینہ ، انوار و برکات کا نزول ، رحمتوں اور برکتوں کے سمیٹنے کا موقع ، گناہوں سے مغفرت اور عذاب جہنم سے نجات کا پروانہ ، ان تمام فیض و برکات کو سمیٹتے ہوئے ہم اس دن تک پہنچ گئے ہیں ،
یہ ماہ خیر تو ، ایک غنیمت ہے ، جس کا ہر دن اہم ، ہر لمحہ قیمتی اور ہر پل نیکیوں کی بہار ہے ، بے شمار عنایتیں ، فضیلتیں ، ہدایتیں ، عظمتیں و بے انتہا رحمتیں ، برکتیں ، کامیابیاں اور کامرانیاں ہیں ،
مومنین کے لئے دو ہی عیدیں ہیں ، ایک عیدالفطر اور ایک عیدالاضحیٰ ، قرآن مجید رمضان کے روزوں سے متعلق دو مصلحتیں بیان کرتا ہے ، ایک یہ کہ مسلمانوں میں تقویٰ پیدا ہو ، ( لعلکم تتقون ) اور دوسرے اس کی اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیئے جو اس نے ماہ مبارک میں نازل کیا ،
( لتکبروا اللہ علی ما ہدیکم و لعلکم تشکرون )
اللّٰہ کا حکم ادا کرکے ایک مسلمان مہینہ بھر کی مشقت اٹھا کر نہ صرف روزہ رکھتا ہے بلکہ اللّٰہ کی اطاعت کرتے ہوئے اپنے روزے میں مکمل ایمان و احتساب کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ اس روزے سے وہ اجر حاصل کر سکے جس کا ذکر کیا گیا اور جس کا وہ حق دار بھی ہوگا
یوم عید ماہ صیام کی تکمیل پر اللّٰہ تعالیٰ سے انعامات پانے کا دن ہے تو اس سے زیادہ خوشی و مسرت کا موقع کیا ہو سکتا ، یہی وجہہ ہے کہ امت مسلمہ میں اس دن کو ایک خاص مقام اور اہمیت حاصل ہے ، علمائے کرام نے لکھا ہے کہ عید لفظ ,, عود ،، سے مشتق ہے ، جس کے معنی ,, لوٹنا ،، کے ہے ، یعنی عید ہر سال لوٹتی ہے ، اس کے لوٹ کر آنے کی خواہش کی جاتی ہے ، اور فطر کے معنی ,, روزہ توڑنے یا ختم کرنے ،، کے ہیں ، چونکہ عید الفطر کے روز ، روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے ، اور اس روز اللّٰہ تعالیٰ بندوں کو عبادات رمضان کا ثواب عطاء فرماتے ہیں ، تو اسی مناسبت سے اسے ,, عیدالفطر ،، قرار دیا گیا ہے ،
احادیث مبارکہ میں شبِ عید اور یومِ عید کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ، حضرت عبداللہ بن عباس رض سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اسے ,, لیلتہ الجائزہ ،، یعنی ,, انعام کی رات ،، کے نام سے پکارا جاتا ہے ، اور جب صبح عید ہوتی ہے ، حق تعالیٰ جل شانہ فرشتوں کو تمام بستیوں میں بھیجتے ہیں اور وہ راستوں کے کونوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی آواز سے جسے جنات اور انسانوں کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے ، پکارتے ہیں کہ ,, اے امت محمدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کریم رب کی بارگاہ کرم میں چلو جو بہت زیادہ عطاء فرمانے والا ہے ، جب لوگ عید گاہ کے طرف نکلتے ہیں تو اللہ رب العزت فرشتوں سے فرماتا ہے کہ ,, اس مزدور کا کیا بدلہ ہے جو اپنا کام پورا کر چکا ہو ، وہ عرض کرتے ہیں کہ ,, اے ہمارے معبود اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری اور اجرت پوری پوری عطاء کر دی جائے ،، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ,, اے فرشتوں تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انھیں رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت عطاء فرما دی ،، اور پھر بندوں سے ارشاد ہوتا ہے کہ ,, اے میرے بندوں مجھ سے مانگو ، میری عزت و جلال اور بلندی کی قسم ، آج کے دن آخرت کے بارے میں جو سوال کروگے عطاء کروں گا ، دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے اس میں تمھاری مصلحت پر نظر کروں گا ، میرے عز و جلال کی قسم ، میں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رسوا نہ کروں گا ، میں تم سے راضی ہو گیا ،، ( الترغیب والترہیب ) ۔
بلاشبہ وہ افراد نہایت خوش قسمت ہیں کہ جنھوں نے ماہ صیام پایا اور اپنے اوقات کو عبادات میں منور رکھا ، پورے ماہ تقوی کی روش اختیار کئے رکھی ، اور بارگاہ رب العزت میں مغفرت کے لئے دامن پھیلائے رکھا یہ عید ایسے ہی خوش بخت افراد کے لیے ہے اور اب انھیں مزدوری ملنے کا وقت ہے تا ہم صحابہ کرام اور بزرگان دین اپنی عبادات پر اترانے کے بجائے ، اللّٰہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کیا کرتے تھے ، حضرت علی رض نے عید کی مبارکباد دینے کے لئے آنے والوں سے فرمایا ,, عید تو ان کی ہے جو عذاب آخرت اور مرنے کے بعد کی سزا سے نجات پا چکے ہیں ، اسی طرح ایک دفعہ حضرت عمر بن خطاب کے دور خلافت میں لوگ عید کے روز آپ رض کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ گھر کا دروازہ بند کئے زار و قطار رو رہے ہیں ، لوگوں نے عرض کیا ، ,, امیر المومنین آج تو عید کا دن ہے اور آپ رض رو رہے ہیں ، حضرت عمر رض نے جواب دیا ، لوگوں یہ عید کا دن بھی ہے اور وعید کا دن بھی ، آج جس کے نماز روزے اور دیگر عبادات قبول ہو گئیں ، بلا شبہ آج اس کی عید ہے اور جس کی عبادات قبول نہیں ہوئیں ، اس کے لئے وعید کا دن ہے ، اس خوف سے رو رہا ہوں کہ نہیں معلوم میری عبادات قبول ہوئی یا انھیں رد کر دیا گیا ،
عید اپنے علاوہ دوسرے کو بھی خوشیوں میں شامل کرنے کا نام ہے ، صلہ رحمی کا معاملہ کرنے کا نام ہے ، اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے ، اللّٰہ کے بنائے گئے قوانین ہمیشہ انصاف اور حسن سلوک کرنے کا معاملہ کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرتے ہیں ، نئے کپڑے ، عمدہ کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں ، ہمارے اطراف میں ایسے کئی غرباء و مساکین ہوں گے جن کے پاس کھانے کا انتظام نہ ہوا ہو ، ایسے افراد کو تلاش کر کے ان کے بھی کھانے ، کپڑے ، اور دیگر ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے عید منانا ہی دراصل عید ہے ،
اس عید پر خاص یہ دھیان رکھیں کہ اہل ایمان کا ایمانی بنیادوں پر ایک دوسرے سے جو رشتہ ہے وہ نہایت گہرا اور بے حد مضبوط ہے اگر دیکھا جائے تو یہ رشتہ خونی رشتے سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے ، یہ ہمارا ایمانی رشتہ ہے جو کلمہ کی بنیاد پر بنتا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ کلمہ ہر چیز سے بلند وبالا ہے اور اس کی قدر و منزلت دنیا و مافیہا سے بھی بڑھ کر ہے یہ رشتہ ہمارا فلسطین کے ساتھ ہے جو کبھی نہ ٹوٹنے والا ہے ،
اہل غزہ میں بچے ، بوڑھے ، نوجوان اور عورتیں سب کے سب بڑی ہمت و جراءت کے ساتھ پنجہ آزمائی کر رہے ہیں ، اور عزم و جراءت کی دیوار بن کر ظالم کے سامنے کھڑے ہیں ، وہ کسی اور سے مدد طلب کرنے کے بجائے اپنے اللّٰہ کے ساتھ مد مقابل کا مقابلہ کر رہے ہیں اور یہ جام شہادت پینے کے لئے بے چین ہیں ، بیت المقدس سے رشتہ رکھنے والوں کی شہادت کو مدنظر رکھیں ، اسلام کے لئے شہادت پانے والوں کو مدنظر رکھیں ، جہاں بے قصور مسلمان پریشان حال ہیں ، ان کو مد نظر رکھ کر عید منائیں ،
اسی لئے ہم ، موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اسلام کے لئے شہادت پانے والوں کو یاد رکھ کر بہت ہی سادگی سے عید منائیں ، اپنے بچوں کو اس بات کی ترغیب دیں کہ فلسطین میں کتنے بے آسرا ظلم رسیدہ بچے ہیں ، جو دانہ پانی کے لئے محتاج ہیں ان کے سروں سے چھت چھین لی گئی ، انبیاء کرام کا مدفن ، ہمارا قبلہ اول کو یاد کرتے ہوئے ، عید کو سادگی سے مناتے ہوئے اللّٰہ کا شکر ادا کریں ،
اللّٰہ تمام مومنین کو عید الفطر کا صحیح حق ادا کرنے والا بنائے ، اللّٰہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے اور اللّٰہ ہم سب سے راضی ہو جائے ،
آمین
Comments
Post a Comment