ریٹائرمنٹ کے بعد انسان کی زندگی — ایک تلخ مگر سبق آموز حقیقت۔۔ ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔
ریٹائرمنٹ کے بعد انسان کی زندگی — ایک تلخ مگر سبق آموز حقیقت۔
ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔
زندگی ایک مسلسل سفر ہے۔ اس سفر میں انسان بچپن، جوانی اور بڑھاپے کے کئی مراحل سے گزرتا ہے۔ جوانی کا زمانہ عروج کا زمانہ ہوتا ہے، جب انسان اپنے عہدے، کام اور ذمہ داریوں کے باعث معاشرے میں پہچانا جاتا ہے۔ لوگ اس کے پاس آتے ہیں، اس کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں اور اس کی موجودگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مگر وقت کا پہیہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان برسوں کی ملازمت اور خدمت کے بعد ریٹائر ہو جاتا ہے، اور اسی کے ساتھ زندگی کا ایک نیا اور اکثر مشکل باب شروع ہوتا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد اکثر انسان محسوس کرتا ہے کہ جس دنیا میں وہ برسوں تک مصروف رہا، وہ دنیا اب اس سے آہستہ آہستہ دور ہو رہی ہے۔ وہی دفتر جہاں اس کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تھا، اب اس کے بغیر بھی چل رہا ہوتا ہے۔ وہی لوگ جو روز اس کے گرد جمع ہوتے تھے، اب کبھی کبھار ہی یاد کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دوست بچھڑ جاتے ہیں، ساتھی اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں اور رشتہ دار بھی فاصلے اختیار کر لیتے ہیں۔
زندگی کا سب سے کٹھن مرحلہ وہ ہوتا ہے جب انسان اپنے شریکِ حیات کو کھو دیتا ہے۔ بیوی یا شوہر کا انتقال دراصل زندگی کے ایک بڑے سہارے کے ختم ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ اگر انسان اس تنہائی کو کم کرنے کے لیے دوسری شادی کر لے تو بعض اوقات اولاد اس فیصلے کو قبول نہیں کرتی۔ کئی گھروں میں دیکھا گیا ہے کہ بچے اپنے والد سے دور ہو جاتے ہیں، نہ وہ پہلے جیسی محبت دکھاتے ہیں اور نہ ہی ملاقات یا خیریت دریافت کرنے کی زحمت کرتے ہیں۔ حالانکہ یہی وہ بچے ہوتے ہیں جن کی پرورش میں والدین نے اپنی جوانی، اپنی کمائی اور اپنی ساری توانائیاں صرف کر دی ہوتی ہیں۔
یہ حقیقت بھی ہے کہ نئی نسل اکثر اپنے بزرگوں کی جدوجہد اور قربانیوں سے ناواقف رہتی ہے۔ وہ یہ نہیں جانتی کہ آج ان کے آرام اور آسائش کے پیچھے کسی باپ کی پوری زندگی کی محنت چھپی ہوئی ہے۔ جب وہی باپ بڑھاپے میں تنہا رہ جاتا ہے تو اس کے دل میں ایک خاموش درد جنم لیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کیا واقعی وقت اتنا بدل گیا ہے، یا پھر ہم نے اپنی نئی نسل کو احترامِ والدین کا درس دینے میں کہیں کمی چھوڑ دی؟
لیکن ان تلخ حقیقتوں کے باوجود انسان کو مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ زندگی کا ہر مرحلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان اور ایک حکمت لیے ہوئے ہوتا ہے۔ بڑھاپے کا زمانہ دراصل صبر، حکمت اور خود احتسابی کا زمانہ ہوتا ہے۔ اس عمر میں انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی اچھی یادوں کو زندہ رکھے، پرانے دوستوں سے رابطہ قائم رکھے، کبھی فون کے ذریعے، کبھی ملاقات کے ذریعے دل کو خوش رکھے۔ پرانی دوستیوں کی گرمجوشی اکثر اس تنہائی کو کم کر دیتی ہے جو بڑھاپے میں انسان کو گھیر لیتی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی عزت و شہرت اکثر عہدوں اور منصب کے ساتھ ہوتی ہے۔ جب عہدہ ختم ہو جاتا ہے تو دنیا کا رویہ بھی بدل جاتا ہے۔ مگر اصل عزت وہ ہے جو انسان کے کردار، اس کی نیکیوں اور اس کی خدمت کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں باقی رہتی ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو انسان کو بڑھاپے میں بھی باوقار اور مطمئن رکھتا ہے۔
اس تحریر کا مقصد کسی سے شکوہ کرنا نہیں بلکہ ایک حقیقت کو بیان کرنا ہے تاکہ نئی نسل بھی اس سے سبق حاصل کرے۔ آج جو جوان ہیں، کل وہ بھی اسی راستے کے مسافر ہوں گے۔ اگر ہم اپنے بزرگوں کا احترام کریں گے، ان کی تنہائی کو کم کریں گے اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے تو معاشرہ زیادہ مہذب اور بااخلاق بن سکتا ہے۔
زندگی کی حقیقت یہی ہے کہ انسان آتا بھی اکیلا ہے اور جاتا بھی اکیلا ہے۔ اس درمیان کے سفر میں اگر محبت، احترام اور خلوص باقی رہ جائے تو یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے والدین اور بزرگوں کی قدر کریں، ان کے دل کو ٹوٹنے نہ دیں، کیونکہ ان کی دعائیں ہی ہماری زندگی کا اصل سرمایہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین اور بزرگوں کی خدمت اور عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہر انسان کو بڑھاپے میں سکون، عزت اور خوشی نصیب کرے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment