افسانچہ: حق۔۔ ازقلم : فردوس انجم، بلڈانہ۔
افسانچہ: حق۔
ازقلم : فردوس انجم، بلڈانہ۔
بڑے گھر کی بات ہمیشہ سے ہی نرالی تھی۔
میں بچپن سے دیکھتا آ رہا ہوں کہ اس گھر کی رونق کبھی ماند نہیں پڑی۔
خاص کر رمضان کے مہینے میں، پورے قصبے کی چہل پہل ایک طرف اور بڑے گھر کی ایک طرف رہتی۔
کوئی بھی اس در سے خالی نہ جاتا۔
غفور میاں کہتے تھے،
"بس اللہ کا کرم ہے، ورنہ میری کیا بساط!"
یہ سلسلہ برسوں سے جاری تھا، اور اب غفور میاں کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے رحمن میاں اسے بحسن و خوبی نبھا رہے تھے۔
آج میرا گزر یہاں سے ہوا تو رحمن میاں نے آواز دے دی اور باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔
رحمن میاں کی چھوٹی بہن طلاق یافتہ تھی۔
کئی رشتے آئے، لیکن اس نے دوبارہ نکاح نہیں کیا، اور آج وہ گھر کے پچھواڑے کی ڈیوڑھی میں رہ رہی تھی۔
اسے دیکھ کر میں حیران رہ گیا اور ایک سوالیہ نظر اس پر ڈالی۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ وہی شبو ہے؟
زندگی کی تلخیوں نے اسے بالکل بدل دیا تھا۔
رحمن میاں میری الجھن بھانپ گئے اور گویا ہوئے،
"ابو کی وفات کے بعد میں نے سب کو ان کا حق دے دیا۔"
میں نے شبو کی طرف دیکھا۔۔۔ اور سوچنے لگا، کیا واقعی؟
Comments
Post a Comment