ایران ہمیشہ شہادت کو زندگی پر ترجیح دیتا ہے: الإصلاح یکجہتی وفد کی امامِ جمعہ سے ملاقات، ایران کی مزاحمتی روایت کو خراج۔


بنگلور، 20 مارچ 2026 (30 رمضان 1447ھ) — رمضان المبارک کے آخری جمعہ کے موقع پر تنظیم الاصلاح کے ایک وفد نے انجمنِ امامیہ مسجدِ عسکری کا دورہ کیا۔ تنظیم کا بنیادی مقصد انسانی معاشرے میں اخلاقی و سماجی اصلاح کو فروغ دینا ہے۔ اس موقع پر وفد کی قیادت تنظیم کے صدر جناب جمیل احمد ملنسار کر رہے تھے۔ اجتماع کو اس سال بین الاقوامی یومِ اقصیٰ کے عنوان سے منعقد کیا گیا، جسے ایران اور ایرانی قوم کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے دن کے طور پر بھی منایا گیا۔

وفد میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل تھیں، جن میں سماجی کارکن محمد عظم، انجینئر و معمار زبیر اللہ شریف، مولانا سمیر ندوی، مفتی ابراہیم قاسمی، وکیل کلیم اللہ اور دیگر مقامی ذمہ داران شریک تھے۔ اس تنوع نے تقریب کو محض مذہبی اجتماع تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک ہمہ جہت ملی و سماجی یکجہتی کی علامت بنا دیا۔

وفد نے امامِ جماعت مولانا سید قمر نقوی کی خدمت میں ایک یادداشتِ یکجہتی پیش کی، جس میں بیت المقدس کے مظلوم عوام کے ساتھ مکمل اظہارِ ہمدردی کیا گیا اور اسرائیلی قبضے و مظالم کے خلاف مضبوط اور غیر متزلزل مؤقف کا اعادہ کیا گیا۔ یادداشت میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ مسلمان اپنی دینی و تاریخی ذمہ داری کے تحت مسجدِ اقصیٰ کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر اخلاقی و عملی تعاون جاری رکھیں گے۔

مولانا سید قمر نقوی نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کے آخری ایام میں اس نوع کی ملاقاتیں ایمانی جذبات کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ایک طرف عید کی خوشیاں قریب ہوتی ہیں اور دوسری طرف مظلوم اہلِ القدس کی فکر دلوں میں تازہ ہو جاتی ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا:
“ایران ہمیشہ شہادت کو زندگی پر ترجیح دیتا ہے۔ ہر قربانی ایمان کو مضبوط کرتی ہے، حوصلوں میں اضافہ کرتی ہے اور تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرتی ہے۔ شہداء درحقیقت مرتے نہیں بلکہ امت کے عزم اور اعتماد کو نئی زندگی دیتے ہیں۔”

اس موقع پر جناب ممتاز علی، جناب باقر عباس، جناب عمران علی اور دیگر ذمہ داران نے وفد کا استقبال کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنگلور کی شیعہ برادری ایران اور فلسطین کے حالات سے مسلسل جڑی ہوئی ہے اور اسلامی مزاحمت کی تحریکوں کے ساتھ فکری و جذباتی وابستگی رکھتی ہے۔ ان کے مطابق مسئلۂ القدس محض ایک خطۂ زمین کا تنازع نہیں بلکہ پوری امت کی فکری، نفسیاتی اور دینی شناخت کا مسئلہ ہے۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسلم اتحاد کو وقتی نعروں تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اسے مستقل تحریک کی شکل دی جائے گی۔ اس سلسلے میں مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے القدس کے حق میں احتجاجی سرگرمیوں، دینی خطابات اور عوامی بیداری مہمات کو منظم اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ