معصوم روزہ دار محمد دانیال محسن پٹیل۔ کروشی بلگام کرناٹک
ماہِ رمضان المبارک صبر، عبادت اور تربیت کا مہینہ ہے۔ اس مقدس مہینے میں جہاں بڑے شوق و اہتمام کے ساتھ روزے رکھتے ہیں وہیں بعض ننھے بچے بھی شوقِ عبادت میں روزہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک معصوم روزہ دار محمد دانیال محسن پٹیل (کلاس UKG) نے 15 رمضان المبارک کا روزہ رکھ کر سب کو خوشگوار حیرت میں ڈال دیا۔حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے عاشورہ کی صبح نبی کریم ﷺ نے انصار کے محلوں میں کہلا بھیجا کہ صبح جس نے کھا پی لیا ہو وہ دن کا باقی حصہ (روزہ دار کی طرح) پورے کرے اور جس نے کچھ کھایا پیا نہ ہو وہ روزے سے رہے۔ ربیع نے کہا کہ پھر بعد میں بھی (رمضان کے روزے کی فرضیت کے بعد) ہم اس دن روزہ رکھتے اور اپنے بچوں سے بھی رکھواتے تھے۔ انہیں ہم اون کا ایک کھلونا دے کر بہلائے رکھتے۔ جب کوئی کھانے کے لیے روتا تو وہی دے دیتے، یہاں تک کہ افطار کا وقت آجاتا۔اسی سنت کی ایک خوبصورت جھلک آج بھی بعض گھروں میں نظر آتی ہے۔ محمد دانیال نے سحری کر کے روزے کا آغاز کیا اور صبح کچھ دیر تک سوتا رہا۔ جب بیدار ہوا تو خوشی اور جوش سے بتانے لگا کہ آج اس نے روزہ رکھا ہے۔ مگر جیسے جیسے دن چڑھتا گیا اس کے سوکھے ہونٹ اور مرجھایا چہرہ بتا رہا تھا کہ معصوم بچہ تھکن محسوس کر رہا ہے۔ ایسے موقع پر مذکورہ حدیث یاد آئی جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے بچوں کو کھلونوں کے ذریعے بہلا کر روزہ پورا کرواتے تھے۔چنانچہ محمد دانیال کو بھی مختلف کھلونوں سے بہلایا گیا اور شام کے وقت اس کے والد محسن پٹیل اسے شہر کی سیر کے لیے لے گئے۔ کچھ دیر گھومنے پھرنے کے بعد وہ گھر واپس آئے اور یوں اس معصوم روزہ دار نے خوشی کے ساتھ اپنا روزہ مکمل کیا۔یقیناً ننھے بچوں میں عبادت کا یہ شوق اور دینی جذبہ والدین کی اچھی تربیت اور دینی ماحول کی روشن مثال ہے۔ ایسے معصوم روزہ دار معاشرے میں دین سے محبت اور عبادت کی رغبت کا خوبصورت پیغام دیتے ہیں۔
Comments
Post a Comment