نظم : ابھرتا سورج - ازقل : راشیدہ یاسمین، سکلیشپور (ہاسن،کرناٹک )


نظم : 
ابھرتا سورج
از::راشیدہ یاسمین، سکلیشپور (ہاسن،کرناٹک )
9035972491


سب کہتے ہیں
شام خوبصورت ہوتی ہے…
جب سورج آہستہ آہستہ
خاموشی میں ڈوب جاتا ہے۔

مگر میری پسند
کچھ اور ہے۔

مجھے وہ لمحہ پسند ہے
جب رات تھک کر سو جاتی ہے،

اور روشنی
دھیرے دھیرے زمین پربکھر جاتی ہے۔

اس سورج کی کوئی اوقات نہیں،
جو اندھیروں کا دامن گیرہو…

میں تو اُبھرتے سورج سے محبت کرتی ہوں،
جو ہر دل میں روشنی جگائے۔

وہ سورج
جو اداسی بانٹے،
مجھے اس کی کوئی پروانہیں!
مجھے وہ اُجالا چاہیے
جو ٹوٹے ہوئے خوابوں کو جوڑ دے،
جو تھکے ہوئے حوصلوں کو
پھر سے کھڑا کر دے۔

میں ڈوبنا نہیں چاہتی،
میں رکنا نہیں جانتی۔
میں ہر صبح
خود سے وعدہ کرتی ہوں—
آج پھر روشنی بنوں گی۔

اسی لیے
میں سویرا چاہتی ہوں،
میں اُمید چنتی ہوں،
میں اپنی راہ خود بناتی ہوں۔

اور جب دنیا پوچھے—
تم اتنی روشن کیسے ہو؟

میں مسکرا کر کہوں گی—

میں اندھیروں سے نہیں،
میں سورج سے دوستی کرتی ہوں۔ 

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔