دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے۔ | کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم عیار ہوگا۔ |۔ از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ


دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم عیار ہوگا
از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ۔ 



     علامہ محمد اقبال برصغیر کے وہ عظیم مفکر اور شاعر ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے صرف ادب ہی کو نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کو بیداری اور خود شناسی کا پیغام دیا۔ اقبال کا کلام محض الفاظ کی خوبصورتی نہیں بلکہ اس میں ایک گہرا فکری اور تہذیبی شعور پوشیدہ ہے۔ ان کے اشعار انسان کو سوچنے، حالات کو سمجھنے اور اپنی اصل پہچان کو برقرار رکھنے کا درس دیتے ہیں۔ انہی کے کلام کا ایک معنی خیز شعر ہے:

دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم عیار ہوگا

یہ شعر بظاہر مغربی دنیا کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے لیکن درحقیقت یہ پوری انسانیت کے لیے ایک فکری پیغام رکھتا ہے۔ اقبال اس شعر کے ذریعے یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ دنیا صرف مفادات، تجارت اور طاقت کا میدان نہیں ہے۔ یہ خدا کی بستی ہے اور اس میں انصاف، انسانیت اور اخلاقی اقدار کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ اگر کوئی قوم یا طاقت اپنے مفادات کے لیے ان اصولوں کو نظر انداز کرتی ہے تو وہ بظاہر کتنی ہی مضبوط کیوں نہ دکھائی دے، حقیقت میں وہ اندر سے کمزور اور کھوکھلی ہوتی ہے۔ جیسے کھوٹا سونا چمکتا تو ہے مگر اس کی اصل قدر باقی نہیں رہتی۔

آج کے عالمی حالات پر نظر ڈالی جائے تو اقبال کے اس شعر کی معنویت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں جنگیں جاری ہیں، طاقتور ممالک اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے سیاسی، معاشی اور عسکری قوت کا استعمال کر رہے ہیں۔ بظاہر یہ طاقتیں بہت بڑی اور مضبوط نظر آتی ہیں، مگر اگر ان کے فیصلوں میں انصاف اور انسانیت شامل نہ ہو تو وہ دراصل “زرِ کم عیار” ہی ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم اور ناانصافی پر قائم نظام زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔

اقبال کی فکر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہمیں دنیا کی ظاہری چمک دمک سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔ کسی بھی قوم یا تہذیب کی ترقی کو دیکھ کر اس کی اندھی تقلید کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ ہر معاشرے کی ترقی کا اصل معیار اخلاق، علم اور انصاف ہونا چاہیے۔ اگر کوئی معاشرہ ان اصولوں سے دور ہو جائے تو اس کی ترقی محض ایک عارضی چمک بن کر رہ جاتی ہے۔

مسلمانوں کے لیے اس شعر میں ایک خاص پیغام بھی موجود ہے۔ وہ یہ کہ ہمیں اپنے عقیدے، اپنی تہذیب اور اپنی تعلیمات پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے۔ اسلام نے ہمیں ایک مکمل ضابطۂ حیات دیا ہے جس میں انصاف، علم، انسانیت اور اخلاقیات کی تعلیم دی گئی ہے۔ اگر مسلمان اپنی تعلیمات کو مضبوطی سے تھام لیں تو وہ کسی بھی فکری یا تہذیبی دباؤ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کے عقائد یا نظریات کی اندھی تقلید کرنے کے بجائے اپنے عقیدے پر ثابت قدم رہنا چاہیے اور اپنی شناخت کو برقرار رکھنا چاہیے۔

آج کے دور میں سب سے بڑی ضرورت علم اور شعور کی ہے۔ اسلام نے سب سے پہلے علم ہی کی دعوت دی۔ قرآن کی پہلی وحی “اقرأ” یعنی پڑھنے کا حکم دیتی ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ علم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جدید علوم حاصل کریں، تحقیق کریں اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جب ایک قوم علم اور آگہی سے آراستہ ہوتی ہے تو وہ کسی بھی فکری یا تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔

علامہ اقبال نے اپنے فلسفہ خودی کے ذریعے بھی یہی پیغام دیا کہ انسان اپنی پہچان کو سمجھے اور اپنی قوتوں کو پہچانے۔ خودی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی عزت نفس اور اپنے نظریے پر اعتماد رکھے۔ جو قوم اپنی خودی کو پہچان لیتی ہے وہ کبھی غلامی کو قبول نہیں کرتی اور نہ ہی دوسروں کی اندھی تقلید میں اپنی شناخت کھو دیتی ہے۔

آج کے حالات میں اقبال کا یہ پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ دنیا کی طاقتیں اگرچہ بظاہر بہت مضبوط دکھائی دیتی ہیں مگر اگر ان کی بنیاد انصاف اور انسانیت سے خالی ہو تو وہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتیں۔ ہمیں چاہیے کہ دنیا کی چمک دمک سے متاثر ہونے کے بجائے حقیقت کو پہچانیں، اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہیں، اپنی تعلیمات پر عمل کریں اور علم و تحقیق کو اپنا شعار بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں فکری آزادی، عزت اور کامیابی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

علامہ اقبال کا یہ شعر دراصل ایک بیداری کی صدا ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی ظاہری طاقت اور چمک ہمیشہ حقیقت کی علامت نہیں ہوتی۔ اصل طاقت وہی ہے جو ایمان، علم اور اخلاق پر قائم ہو۔ اگر ہم اس پیغام کو سمجھ لیں اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کریں تو یقیناً ہم ایک باوقار، باشعور اور مضبوط معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ