عصر حاضر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے طرز فکر و عمل کی معنویت۔۔ ازقلم : ڈاکٹر محمد آصف۔ (اسسٹنٹ پروفیسر اردو، گورنمنٹ ودربھ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ہیومنیٹیز، امراوتی،مہاراشٹرا)
عصر حاضر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے طرز فکر و عمل کی معنویت۔۔
ازقلم : ڈاکٹر محمد آصف۔
(اسسٹنٹ پروفیسر اردو، گورنمنٹ ودربھ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ہیومنیٹیز، امراوتی،مہاراشٹرا)
9403282420
aasifmohammad8313@gmail.com
حضرت علی کرم اللہ وجہہ ان ہستیوں میں سے تھے جواخلاص و عمل کا پیکر ہوتی ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ کو نسلی اور خاندانی شرف بھی حاصل تھا اور آپ کا تعلق بالرسول بھی عیاں ہیں۔آپ کتاب و سنت کے عالم جلیل اور احکام دین و شریعت کا سب سے زیادہ درک و فہم رکھنے والے صحابہ کرام میں سے ایک اہم صحابی رسول تھے۔آپ رضی اللہ عنہ کی شخصیت جامع الکمالات و ہمہ جہت صفات کی مالک تھیں۔ جہاں آپ بہادر و شجاع تھے وہیں نرم خو اور انسان ِ مونس تھے۔عصبیت و تکبر سے کوسوں دور تھے،یہی وجہ تھی کہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ درست فیصلہ فرمانے والے تھے خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگوں میں سب سے زیادہ صحیح فیصلہ فرمانے کی صلاحیت علی میں ہے۔ علم و فن آپ کی گھٹی میں پڑاتھا۔ہمیشہ خوف و خشیت الہیٰ سے لرزاں رہتے۔
آپ روشن فکر و طبیعت کے مالک تھے۔آپ نے ہر دور میں اخلاص کا مظاہرہ کیا اور زمانے نے آپ کی سوچ و فکر سے فائدہ حاصل کیا۔ آپ عہد رسالت میں ابتدا ہی سے سر گرم عمل رہے اور عہد رسالت کے بعد بھی جوش و جذبہ اور اخلاص میں کمی نہ آئی۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں آپ نے ایک بہترین مشیر و خیر خواہ ِخلافت کا کام انجام دیا۔آپ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مخلص تھے۔آپ کے پیش نظر ہر وقت اسلام اور حامیان ِاسلام کی فلاح و بہبود رہتی تھی۔آپ کی فکر رساں ہمہ وقت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کومفید مشورے دیتی اور جہاں کہیں نقصان کاخدشہ ہوتا انھیں باخبر کردیتی۔صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جب ذوالقصہ جانے کے لیے تیار ہوئے تو آپ کرم اللہ وجہہ نے انھیں روک دیا کہ اگر خدا نخواستہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے تو اسلام کا شیرازہ بکھر جائے گا۔یہ آپ کے اخلاص کی اعلیٰ دلیل اور آپ کی مثبت سوچ و فکر کی عمدہ مثال ہے۔ عہد فاروقی میں بھی آپ نےمتانت و سنجیدگی اور اخلاق و اخلاص کا مظاہرہ کیا ۔حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو مفید مشورے دیتے رہے۔آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خیر خواہ،قابل اعتماد رفیق اور مشیر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔اس وقت کے مشکل ترین مسائل کو اپنی فکر و فراست سے حل فرمادیا کرتے تھے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے تعلق سے حضرت عمر کا قول کتابوں میں موجود ہے کہ ”اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔“ایک مرتبہ تو یہ تک فرمایا کہ ”ایک پیچیدہ مسئلہ سامنے ہے مگر اس کے حل کے لیے ابوالحسن نہیں۔“حضرت علی میں مسائل کو حل کرنے اور گتھیوں کو سلجھانے کی بے پناہ صلاحیت موجود تھی چنانچہ فرمان رسول ﷺ ہے کہ ”یعنی مشکل مسائل کے حل اور گتھیوں کے سلجھانے میں سب سے زیادہ قدرت رکھنے والے علی ہے۔“(المرتضیٰ،ص ۹۶۱)آپ کرم اللہ وجہہ الکریم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جنگوں میں بھی مشورہ دیا کرتے تھے۔عہد فاروقی میں اسلامی تقویم (کیلنڈر) کی ابتدا واقعہ ہجرت سے کرنا بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فکر کا نتیجہ ہے۔شہادت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے۔ عہد عثمانی میں بھی آپ کا کردار ایک مخلص انسان کا تھا۔آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قرآن کو ایک قراء ت پر جمع کردینے کی بھر پور تائید کی۔حضرت محمد بن ابو بکر و محمد بن ابی حذیفہ جب مصر سے عمرہ کے بہانے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کی غرض سے آئے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے انھیں سمجھایا ،ان کے اعتراضات کے جوابات مرحمت فرمائے اور انھیں واپس لوٹا دیا۔ تینوں خلفاء کے عہد میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اس طرح کی کارکردگی آپ کی سوچ و فکر کی طہارت اور اسلام و خلافت کے تئیں اخلاص کی مثالیں ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس طرح ہر دور میں ہر خلیفہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی فکر اور فہم و فراست سے فائدہ اٹھایا۔آپ کی صالح فکر ہمہ وقت اپنے جلوے بکھیر تی رہی۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس طرز فکر و عمل کی اہمیت آج بھی مسلم ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم مقامی،قومی اور بین الاقوامی سطح پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس طرز کو اپنائیں تاکہ ہمارے اندر اتحاد و اتفاق پیداہو۔آپ نے عصبیت،نسل پرستی و گروہ بندی اور انا سے پرے جس طرح اخلاص و عاجزی کا مظاہرہ کیا وہ ہمارے لیے آج بھی قابل تقلید ہے۔ان کے پیش نظر امت کی فلاح و بہبود تھی آج بھی ہمیں اسی نظریہ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے طرز فکر و عمل میں ہمارے لیے نمونہء عمل ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ خلیفہ منتخب ہوئے۔آپ نے سب سے پہلے خطبہ دیاجس میں لوگوں کو خیر اختیار کرنے اور شر سے بچنے کی تلقین کی اور حقوق پر بیان دیا۔آپ کا عہد انتہائی پیچیدگیوں او ر مشکلات کا دور تھا لہٰذا آپ کرم اللہ وجہہ نے مدینہ کی بجائے کوفہ کو دارالخلافہ بنایا اور یہیں سے تما م فوجی سرگرمیاں اور انتظامی و تربیتی نظام چلایا،تاکہ مدینہ فتنوں کا مرکز نہ بنے ۔ اس کے علاوہ اسلامی سلطنت وسیع ہوتی جارہی تھی اور کوفہ سے بین الاقوامی سطح پر تعلقات قائم کرنے اور باہمی لین دین میں کافی سہولت تھی ۔یہ آپ کی بے پنہاہ صلاحیت اور سوچ و فکر کا غماز ہے۔ کتاب المرتضیٰ میں استاد عقاد کے حوالے سے تحریر کیا گیا ہے کہ ”حضرت علی نے عالمی امامت کا مرکز کوفہ کو بنایا وہ مصلحت و ضرورت کے عین مطابق تھا،کیونکہ اسلامی سلطنت اس وقت جس مرحلہ میں تھی، اس میں ضرورت تھی کہ مرکز ایسے مقام پر ہو،جہاں تمام قومیں آکر ملتی ہوں،اور ہند و فارس و یمن،عراق و شام کی باہمی تجارت کے لیے مشترکہ گذرگاہ ہو،چنانچہ کوفہ ثقافتی پایہ تخت بھی تھا،جہاں کتابت،زبان،قرا ء ت اور انساب اور فنون شعرو داستان گوئی اس زمانے میں کمال کے درجہ میں تھا،یہ مقام اس وقت کے لحاظ سے دارالخلافہ بننے کی تمام خصوصیات رکھتا تھا۔“(المرتضیٰ،ص ۸۳۱)یہ واقعہ بھی آپ کے فہم و فراست کی عمدہ دلیل ہے۔آپ اپنے تدبر اور سوچ و فکر کے ذریعے ترقی کی راہیں اختیار کر رہے تھے۔جب جنگ صفین میں ”لاحکم الاللہ‘‘ کا نعرہ بلند ہوا تو آپ نے اس کے جواب میں جو بات کہی وہ کچھ اس طرح ہے کہ ”بات سچ ہے مگر اس کا مطلب غلط لیا جارہا ہے۔ہاں یہ بالکل سچ ہے کہ حکم صرف اللہ ہی کا ہے،مگر ان لوگوں کا مطلب ہے ’لا امارۃ الا للہ‘یعنی اللہ کے علاوہ کسی کی قیادت نہیں ہے،حالانکہ لوگوں کے لیے ایک امیر کا ہونا ضروری ہے،اچھا ہو یا برا،تاکہ اس کی سربراہی میں اہل ایمان کا م کریں،کافر (اپنے حقوق سے) مستفید ہوں، ہر معاملہ کے لیے ایک ضابطہ اور وقت طے ہو، اس کی سربراہی میں مال غنیمت جمع ہو،دشمن سے جنگ کی جاسکے،وہ راستوں کو پر امن بنائے،جو کمزور کاحق طاقتور سے دلائے اور باغی و فاجر سے نجات پائے اور نجات دلائے“(تلبیس ابلیس ابن الجوزی،المرتضیٰ،ص ۵۵۲)یہ باتیں اور واقعات حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے انتظامی صلاحیتیں،دماغی قویٰ،مثبت سوچ و فکر کی عکاسی کرتی ہیں۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ان کی حیات میں استفادہ کیا گیا اور حیات کے بعد بھی ان سے استفادہ کی صورت آپ کے افعال و اقوال ہیں جو ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔آپ کے اقوال میں فصاحت و بلاغت کے ساتھ جامعیت بھی ہے۔تاثیر اپنی انتہا کو ہے کہ ہم ترجمہ پڑھتے لیکن پھر بھی دل پر گہرا اثر ہوتا ہے حالانکہ اصل زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے تو وہ تاثیر قائم نہیں رہتی جو اصل میں ہوتی ہے۔لیکن ان کے ا قوال کا معاملہ ذرا مختلف ہے وہ ترجمہ ہو تب بھی دل پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے اقوال زندگی و معاشرت کے لیے بے حد مفید ہیں۔ چند مثالیں دیکھیے جو آپ کرم اللہ وجہہ کی اعلیٰ سوچ و فکر کا بین ثبوت ہیں۔
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا:بیٹے! میری چار باتوں کے ساتھ چار باتیں یاد رکھنا۔حضرت امام حسن نے عرض کیا:وہ کیا ہیں؟فرمائیے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ارشاد فرمایا:اول سب سے بڑی تونگری عقل کی ہے۔دوسرے بے وقوفی سے زیادہ کوئی مفلسی اور تنگدستی نہیں۔تیسرے غرور گھمنڈ سب سے سخت وحشت ہے۔چوتھے سب سے عظیم خلق کرم ہے۔حضرت امام حسن نے عرض کیا دوسری چار باتیں بھی بیان فرمائیں۔آپ نے ارشاد فرمایاکہ اول احمق کی محبت سے بچو، اس لیے کہ نفع پہنچانے کا ارادہ کرتا ہے لیکن نقصان پہنچ جاتا ہے۔دوسرے جھوٹے سے پرہیز کرو۔ اس لیے کہ وہ دور کو نزدیک اور نزدیک کو دور کردیتا ہے۔تیسرے بخیل سے دور رہو۔ اس لیے کہ وہ تم سے ان چیزوں کو چھڑادے گا جن کی تم کو حاجت ہے۔ چوتھے فاجر سے کنارہ کش رہو۔ اس لیے کہ وہ تمہیں تھوڑی چیز کے بدلے فروخت کر ڈالے گا۔ (خلفائے راشدین،ص۲۱۳)
غور کیجیے کیا آج بھی یہ باتیں ہمارے لیے قابل عمل نہیں ہیں؟ضرور ہے یہ ہمارے لیے اتنی ہی آج ضروری ہے جتنی کل تھی۔یہ ایسی باتیں ہیں جو زمانے کے بدلنے پر تبدیل نہیں ہوتی بلکہ ہر دور میں قابل عمل ہوتی ہیں۔یہ انمول موتی کی مانند ہے جس کی انسان ہر وقت حفاظت کرتا رہتا ہے۔آپ کے اقوال بھی لعل و گہر کی طرح ہیں۔جنھیں دل سے تسلیم کر نا ہمارے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔آپ کے اقوال تہذیبی و ثقافتی اور معاشرتی باہمی لین دین میں آج بھی ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند اقوال ملاحظہ کیجیے۔
۱۔ علم مال سے بہتر ہے۔علم تیری حفاظت کرتا ہے اور تو مال کی،علم حاکم ہے اور مال محکوم۔ مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے اور علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔(خلفائے راشدین)
۲۔ خوش اخلاقی بہترین دوست ہے اور ادب بہترین میراث ہے۔ (خلفائے راشدین)
۳۔ جاہلوں کی دوستی سے بچو کہ بہت سے عقلمندوں کو انہوں نے تباہ کردیا ہے۔ (خلفائے راشدین)
۴۔ لوگوں سے ان کی ذہنی سطح اور فہم کے مطابق بات کرو، کیا تمہیں پسند ہے کہ کوئی اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلائے۔ (المرتضیٰ)
۵۔ایک شریف آدمی اس وقت بے قابو ہوتا ہے جب بھوکا ہو اور ایک پست فطرت انسان اس وقت بے قابو اور جامہ سے باہر ہوتا ہے،جب شکم سیر ہو۔ (المرتضیٰ)
۶۔ ناکارگی آفت ہے،صبر بہادری ہے،زہد خزانہ ہے،خوف خدا ڈھال ہے۔ (المرتضیٰ)
۷۔اخلاق و آداب ایسے جوڑے ہیں جو باربار نئے نئے پہنے جاتے ہیں۔ذہن ایک صاف و شفاف آئینہ ہے۔ (المرتضیٰ)
۸۔ انسان اپنی زبان کے نیچے پوشیدہ ہے(یعنی جب تک آدمی بولے نہیں اس کی علمیت اور حقیقت پوشیدہ رہتی ہے۔ (المرتضیٰ)
ان اقوال کی سماجی، سیاسی و معاشرتی سطح پرمعنویت و افادیت اظہر من الشمس ہے۔نفسیاتی اعتبار سے بھی درست ہے۔زمانہ بیت گیا جب آپ کی زبان مبارک سے یہ باتیں نکلی تھیں لیکن آج بھی انسان کے لیے ان پر عمل کرنا ضروری ہے تاکہ اس کی سماجی زندگی میں استحکام آئے۔لہٰذا ماضی کی طرح حال اور مستقبل میں آپ کے طرز فکر و عمل سے استفادہ کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہیے۔ہر کسی کے لیے آپ کا اسوہ قابل تقلید ہے۔اگر ہم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے محبت کرتے ہیں تو پھر ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ ہم ان کے طرز فکر و عمل کو اپنائیں جس طرح ان کے پیش نظر ملت اسلامیہ اور نوع انسانی کی فلاح و بہبود مقدم تھی ہمارے لیے بھی یہی چیز مقدم ہونی چاہیے۔انھوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو عصبیت،نسل پرستی اور انا سے بچائے رکھا ان سے محبت کا تقاضہ ہے کہ ہم بھی اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچائے رکھیں جو خوشگوار معاشرے کی تشکیل اور امن و امان کے لیے بے حد ضروری ہیں۔
Comments
Post a Comment