غزل۔ - ازقلم : صوفی حکیم حضرت عثمان جوہری۔
غزل
ازقلم : صوفی حکیم حضرت عثمان جوہری۔
جھومتی ہیں ادائیں متوالی
شنکھ بجتے تھے اب بجے تھالی۔
بت شکن ہاتھ میں ہے بت پالے
آستینیں کہاں رہیں خالی۔
لات و عزی کی رسم ہے باقی
بت بنیں گے جہان کے والی؟؟۔
ظلمتِ شب میں کون لائے گا
وہ چراغوں بھری ہوئی ڈالی۔
کفر کی منزلوں کا کیا حاصل
دن بھی کالے ہیں رات بھی کالی۔
ان دماغوں کا کیا کریں یا رب!
جن کا شیطان بن گیا مالی۔
جب بھی اٹھا ہے ظلم کا طوفاں
کن دعاؤں نے وہ گھٹا ٹالی۔
دیکھ عثماں وہ قبر کے گوشے
کھڑکیاں ہیں کہیں نہ ہے جالی۔
عثمان جوہری
ہیپی ہوم کالونی
نیشنل ہائی وے نمبر ٦ جلگاؤں ۔مہاراشٹر۔
Comments
Post a Comment