ماہِ صیام کی ننھی مسافر :انشراح ناز۔
یاول (یامین شیخ )جب ارادے جوان ہوں اور جذبوں میں سچائی کی خوشبو رچی بسی ہو، تو عمر کی قید اور کڑی دھوپ کی تپش ہیچ ثابت ہوتی ہے کچھ ایسا ہی روح پرور اور ایمان افروز منظر یاول کے علاقے بابا نگر میں دیکھنے کو ملا، جہاں محترم ناصر حسین صاحب (ممتاز معلم) کی لختِ جگر، نو سالہ انشراح ناز نے ماہِ صیام کے تمام روزے مکمل کر کے بستی بھر میں مسرتوں کا چراغ روشن کر دیا ہے۔ یہ محض ایک بچی کے روزے نہیں، بلکہ اس پاکیزہ تربیت کا ثمر ہیں جو ایک مثالی استاد نے اپنی اولاد کی رگوں میں خون بن کر دوڑائی ہے
انشراح ناز، جس کی عمر ابھی کھیل کود اور معصوم شرارتوں کی ہے، اس نے اس بار رمضان المبارک کو اپنی زندگی کا یادگار ترین مہینہ بنا لیا ل تپتی دھوپ، ہواؤں کی لو ،شکم کی پکار اور پیاس کی شدت بھی اس ننھی بچی کے پائے استقلال میں لغزش نہ لا سکی۔ سحر کے وقت بستر کی مٹھاس چھوڑ کر بیدار ہونا مصلے پر بیٹھ کر رب سے لو لگانا اور پھر سارا دن گرمی اور پیاس کے غلبے کے باوجود لبوں پر مسکراہٹ سجائے رکھنا انشراح کے روزمرہ کا معمول بن چکا تھا۔ جو اس ننھی بچی کے بلند حوصلے کی دلیل ہے ہے
انشراح ناز کے والد محترم ناصر حسین صاحب، جو کہ علاقے کے ایک انتہائی ممتاز معلم کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں، اپنی لختِ جگر کی کی اس کامیابی پر سجدہِ شکر بجا لاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بچوں کے کچے ذہنوں میں اگر بچپن ہی سے اللہ کی محبت اور فرائض کی اہمیت بٹھا دی جائے، تو وہ بڑے ہو کر معاشرے کا بہترین سرمایہ ثابت ہوتے ہیں۔ انشراح نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نہ صرف روزوں کی تکمیل کی، بلکہ گھر کے ماحول کو اپنی تسبیحات اور معصومانہ دعاؤں سے معطر رکھا۔
عید کی آمد کے ساتھ ہی انشراح کے یہاں مبارکباد دینے والوں کا ایک تانتا بندھ گیا۔ رشتے داروں، دوست احباب اور محلے کے عمائدین نے جوق در جوق ناصر حسین صاحب کے گھر پہنچ کر اس ننھی روزے دار کو دعاؤں سے نوازا اور اس کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اس معصوم بچی کا جذبہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر تربیت کی بنیادیں مضبوط ہوں اور نیت میں خلوص شامل ہو تو عمر کی کوئی بھی حد بڑے مقاصد کے حصول میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ دعاہے کہ ربِ کریم اس معصوم کی اس عظیم عبادت کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور اسے والدین کے لیے دارین کی سعادتوں کا ذریعہ بنائے ئے
آمین
یامین شیخ
یاول:9225436348
Comments
Post a Comment