شبِ قدر: ہزار مہینوں سے بہتر رات۔۔ از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں۔)
شبِ قدر: ہزار مہینوں سے بہتر رات۔
از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں۔)
رمضان کے آخری عشرہ میں وہ مبارک رات آتی ہے جسے شبِ قدر کہا جاتا ہے جو قرآنِ کریم میں "ہزار مہینوں سے بہتر" قرار دی گئی ہے (القدر: 3)۔ یہ رات اللہ کی بے شمار رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا خزانہ ہے اور اس میں کی جانے والی عبادت کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص شبِ قدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ عبادت کرے، اللہ اس کے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔" (بخاری، مسلم)۔
شبِ قدر کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس میں کی جانے والی عبادت کا اجر دیگر ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی زیادہ ہے۔ یہ رات اللہ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے جس میں انسان اپنی دعاؤں کو قبول کروا سکتا ہے، اپنی زندگی کے گناہوں کی معافی مانگ سکتا ہے اور اپنے دل کی گہرائیوں سے اللہ سے اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے خیر و برکت کی دعا کر سکتا ہے۔
اس رات میں قرآن نازل ہوا جو انسانوں کی ہدایت کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ شبِ قدر کی فضیلت میں کئی روایتیں آئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رات اللہ کے نزدیک کس قدر عظیم ہے اور یہ رمضان کا اختتام ہے جس میں ہمیں اپنی تمام عبادات کی جزا ملتی ہے۔ شبِ قدر کا مقصد صرف عبادت کرنا نہیں بلکہ اپنے دل کو اللہ کے ساتھ تعلق میں مضبوط کرنا، اپنی غلطیوں کا تدارک کرنا، اور اللہ کی رضا کے لیے ہر کام میں اخلاص پیدا کرنا ہے۔
اس رات کی اہمیت کو جانتے ہوئے ہمیں چاہیے کہ ہم اس رات کو عبادت، توبہ اور دعا میں گزاریں تاکہ اللہ کی رحمتوں اور مغفرت کا بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس رات کی قدر کرنے اور اس میں اپنی عبادت کو قبول کرنے کی توفیق دے۔
Comments
Post a Comment