اردو ادب میں اعتکاف ۔۔۔ تحریر: محمد یوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔


اردو ادب میں اعتکاف ۔۔ 
تحریر: محمد یوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔ 

 مولاناعبدالماجد دریابادی ؒ کی نثر اوران کے ادب کا ایک زمانہ قائل رہاہے۔ انھوں نے اعتکاف عنوان پر بڑی اچھی باتیں لکھیں۔ کہاکہ ”روح کی صحت و پاکیزگی وبالیدگی برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جسم کو ہلاک کیے بغیر کبھی کبھی مادّی دنیا کے تعلقات کو کمی کے انتہائی نقطہ پر پہنچا دیا جایاکرے۔ شریعت کی بولی میں اس صورت سے پرہیز نام”روزہ“ہے، اور اس”پرہیز“کے شرائط جب ذرا زیادہ سخت کر دیے جاتے ہیں تو اس کا نام“اعتکاف”پڑ جاتا ہے۔ اعتکاف کے لفظی معنی کسی مکان کے اندر اپنے آپ کو مقید کر دینے کے ہیں۔ اصطلاحِ شریعت میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان عبادت کی غرض سے مسجد میں قیام و سکونت کو لازم قرار دے لے۔مسجد اس مکان کو کہتے ہیں جو محض یادِ الٰہی و عبادتِ خداوندی کے لیے مخصوص ہو۔ اس میں بیٹھ جانے کے معنی ہی یہ ہیں کہ بندہ نے اپنے تعلقات سب طرف سے توڑ کر صرف اپنے خالق سے جوڑ رکھے ہیں“آگے لکھتے ہیں ”اور جس وقت تک وہ اس زاویہ نشینی کی حالت میں ہے، وہ نہ کسی کا دوست ہے نہ عزیز، نہ حاکم ہے نہ محکوم، نہ بھائی ہے نہ شوہر، نہ رفیق ہے نہ رقیب، بلکہ بندہ ہے اور محض بندہ۔ عورت کی خواہش کرنا اس کے لیے ممنوع، غیر ضروری گفتگو اس کے لیے ناجائز، کھانا پینا صرف اس حد تک جائز جو جسم کو ہلاک ہونے سے محفوظ رکھ سکے۔ دورانِ اعتکاف بندہ گویا اپنے تصور میں ہر وقت دربارِ خداوندی میں حاضر رہتا ہے۔ ای لیے ہر وہ شے جو اس دربار کے منافی ہے اس کے لیے ناجائز ہے“
 اعتکاف کے لغوی معنی:۔ اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی ”خود کو روک لینا، بند کر لینا، کسی کی طرف اس قدر توجہ کرنا کہ چہرہ بھی اس سے نہ ہٹے“وغیرہ کے ہیں (ابن منظور، لسان العرب، ۹: ۲)جبکہ اصطلاحِ شرع میں اس سے مراد ہے کہ انسان کا علائقِ دنیا سے کٹ کر خاص مدت کے لیے عبادت کی نیت سے مسجد میں اس لیے ٹھہرنا تاکہ خلوت گزیں ہو کر اللہ کے ساتھ اپنے تعلقِ بندگی کی تجدید کر سکے۔
 حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معتکف کے بارے میں ارشاد فرمایا:”وہ (یعنی معتکف) گناہوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے اور اسے عملاً نیک اعمال کرنے والے کی مثل پوری پوری نیکیاں عطا کی جاتی ہیں“(ابن ماجہ، السنن، کتاب الصیام، باب فی ثواب الاعتکاف، ۲: ء۷۳، رقم: ۱۸۷۱)حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے ہی ایک اور حدیث مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنِ اعْتَکَفَ یَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْہِ اللّٰہِ، جَعَلَ اللّٰہُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ، کُلُّ خَنْدَقٍ أَبْعَدُ مِمَّا بَیْنَ الْخَافِقَیْنِ(بیہقی، شعب الایمان، ۳: ۲، رقم: ء۹۳)“جو شخص اللہ کی رضا کے لیے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کر دیتا ہے۔ ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے“
 حضرت علی (زین العابدین) بن حسین اپنے والد امام حسینؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:مَنِ اعْتَکَفَ عَشْرًا فِی رَمَضَانَ کَانَ کَحَجَّتَیْنِ وَعُمْرَتَیْنِ(بیہقی، شعب الایمان، باب الاعتکاف، ۳: ۲، رقم: ئئ۹۳)”جس شخص نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کیا، اس کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے“
  اعتکاف سے متعلق اسلامی احکامات پر روشنی ڈالناہمارا
موضوع نہیں ہے۔ ہمار اموضوع ”اعتکاف اور اردو ادب“ ہے۔ اس موضوع پر اردو شاعر ی میں زیادہ نہ سہی ایک قابل ذکر تعداد ضرور ملتی ہے۔ سب سے پہلے میرتقی میرؔکا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں ؎ 
ماہ صیام آیا ہے قصد اعتکاف اب 
جابیٹھیں میکدے میں مسجد سے اٹھ کے صاف اب 
دنیا ساری مسجد میں جاکر بیٹھنے والی ہے اور میرؔصاحب مسجد سے اٹھ کر میکدے میں جابیٹھنے کی بات کررہے ہیں۔ شاعری پرت درپرت ہواکرتی ہے اور معنی کی تفہیم کانام شاعری ہے۔ کئی علوم کی طرح شاعری سے بھی وہی زیادہ محظو ظ ہوسکتاہے جس کا علم شاعری سے متعلق ہو۔یا جو اس راہ کاشناور ہو۔ میرؔجیسی ہی بات سیماب ؔاکبرآبادی کے اس شعر میں بھی ہمیں ملتی ہے، فرماتے ہیں ؎
اعتکاف ان دنوں ہے فرض سنا ہے سیماب ؔ
رمضاں آگئے مے خانہ نشیں ہوتے ہیں 
میرؔبیدری کا سیدھا سادا شعر ہے ؎
کررہے ہیں ہم بھی تیرااعتکاف 
کربھی دے سارے گناہوں سے معاف 
اس شعر میں کوئی ایسی چھپی ہوئی بات نہیں ہے، جو قاری پر عیاں نہ ہورہی ہو لیکن استادوں کے کلام کو سمجھنا کس وناکس کی بات نہیں ہوتی۔ اعتکاف کے عنوان سے ایک نظم کسی شاعر نے کہی ہے جس کے تین شعر سماعت کیجئے گا ؎
بھائی گر تم چاہتے ہو نمازیں پڑھوں 
مدنی ماحول میں کرلو تم اعتکاف 
تم کوراحت کی نعمت اگر چاہیے 
مدنی ماحول میں کرلو تم اعتکاف 
بندگی کی بھی لذت اگر چاہیے 
مدنی ماحول میں کرلو تم اعتکاف 
تکنیکی اعتبار سے مذکورہ تین اشعار میں کیاخامی ہے اس سے قطع نظر ایک عمومی بات شاعر نے ان تینوں اشعار میں صاف اور کھلے طورپر کہی ہے۔جو ”بچہ مزاج“ افراد کے لئے واہ کا سبب بن سکتی ہے لیکن جن کے ذہن فلسفہ، سائنس، عمرانیات میں الجھے ہیں وہ ان اشعار سے اپنا دامن بچاناپسند کریں گے۔ اردوادب میں زاہد اور شاعر کی کبھی بنی نہیں ہے۔ اب دیکھئے گاکہ مسجد میں زاہد معتکف ہے۔ اورکیف ؔبھوپالی کہہ رہے ہیں ؎
اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے 
غالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے 
زمانے سے مات کھاکر اعتکاف کرنا، یامنہ چھپانے کے لئے اعتکاف کرنا جو بھی بات رہی ہو، بات ایک لحاظ سے درست ہے۔ معتکف دنیا جہاں سے منہ موڑ کر مسجد میں رب کی طرف ٹکٹکی لگائے بیٹھاہے۔ میرؔبیدری کاشعر ہے ؎
جسے بھی چھوڑنا، دنیا یہ ناگوار ہومیرؔ
حرم میں آئے بھی تواعتکاف کیسے کرے 
حرم مکی ومدنی میں معتکف وہ ہونہیں سکتاجسے دنیا سے پیار ہو۔ دنیا پر مرمٹاہو۔ یا دنیا کا حریص ہو۔ کتنے دولت مند لوگ ہیں جو حرم مکی ومدنی میں زندگی میں ایک بار سہی، رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے ہیں؟ دینی جماعتوں میں بھی بہت کم تعداد حرم مکی ومدنی میں اعتکاف کررہی ہوتی ہے۔ البتہ جو ایسا کرتے ہیں ان کی خوش نصیبی کاکیاکہنا۔ 
ذکی ؔاورنگ آبادی کہتے ہیں ؎
ہم اعتکاف کوچہ ء جاناں نہ کرسکے 
داغ جگر کو شعلہ ء رقصاں نہ کرسکے 
کوچہ ء جاناں کااعتکاف شاعر کے لئے بڑی بات ہے۔ اب یہ کوچہ ء جاناں مسجد ہی تو ہے۔ لیکن اس کو سمجھنے سمجھانے کے لئے آرٹی فیشنل انٹلی جنسی(مصنوعی ذہانت) کے زمانے کی نسل کے پاس وقت نہیں ہے۔ حسین خاں دانش ؔ کی ایک غزل ریختہ کی ویب سائٹ پر مل جاتی ہے۔ اس غزل کایہ مقطع ہے ؎
دل ہے دانش ؔ فقیر کاحجرہ 
غم یہاں اعتکاف کرتے ہیں 
دیکھ لیجئے گا۔ ذکی اورنگ آبادی کوچہ ء جاناں نہیں پہنچ سکے مگر حسین خاں دانش ؔ کے بموجب فقیر کے حجر میں غم معتکف ہوگئے ہیں۔ایک مضمون کو سورنگ سے باندھنے کانام ہی شاعر ی ہے اور شاعر تاقیامت اپنی ”سورنگی“ دکھاتارہے گا اِ ن شاء اللہ۔ میرؔبیدری کاشعر ہے ؎
دل کی مسجد میں کب سے بیٹھا ہے 
بندہ ہے اعتکاف میں ہوگا
دنیا ساری دماغ کی معتکف ہے اور سادہ لوح بندے دل کی مسجد میں اعتکاف کررہے ہیں۔ رونق ؔشہری گوشہ نشینی اور اعتکاف کو علیحدہ علیحدہ کرکے پیش کرتے ہیں ، شعر لطف دیتاہے اور معنویت کا ایک جہاں اس شعر میں آباد ہے ؎ 
اے بندگان ہوس ابھی ہم سلامتی جاں کی چاہتے ہیں 
فقیر گوشہ نشیں ہیں پر اعتکاف ہم سے نہیں ہواہے 
اسی طرح کاخیال میرؔبیدری کے ہاں ملتاہے ؎
جنہیں ہزار بار بانٹتے رہے 
وہی تھے رب کا اعتکاف کرگئے 
ایک اور شعر میں میرؔبیدری کہتے ہیں ؎
یہ ہم تھے صرف اعتراف کرگئے 
صحیح تھے جو اعتکاف کرگئے 
اعتکاف کی اہمیت کا اعتراف ہر رمضان میں کیاجاتاہے، لیکن کتنے لوگ ہیں جو اعتکاف کرتے ہیں، دیکھ لیجئے۔ خود کو بھی شامل کرتے ہوئے زمانہ کی جانچ ضروری ہے۔ آخر میں رمضان کے آخری عشرے کی مبارک باد اور معتکف حضرات کے لئے نیک تمنائیں پیش کرتے ہوئے درج ذیل اشعار پر بات کردی جاتی ہے ؎
کئی بلاؤں نے گھیرے میں لے رکھاتھا مجھے 
کسی کی یاد کاجب اعتکاف ہورہاتھا
طاہر بلوچ  
میں تجھ کو دیکھنے بیٹھوں پہر گزر جائیں 
یہ اعتکاف اٹھانے کو چل کے تو آئے 
اقتدار ؔاعوان 
یہ میری آنکھ کی مسجد ہے، پاؤں دھیان سے رکھ 
کہ اس میں خواب کوئی اعتکاف کرتارہا
ندیم بھابھہ 
ازل سے عالم ِ موجودتک سفر کرکے 
خود اپنے جسم کے حجرے میں اعتکاف کیا
سید فخر الدین بلے علیگ 
تب کہیں جاکر کھلے، اس پر رموزِ بندگی 
اپنے اندر بیٹھ کر جب اعتکاف اس نے کیا
نازؔمظفرآبادی 
میں جب بھی یادوں میں ان کے چہرے کے خال وخدکو پکارتاہوں 
تو معبدِ قلب وجاں میں کرتی ہے دیرتک اعتکاف خوشبو
اشفاق احمدغوری 
٭٭٭

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔