اسلام نے سب سے پہلے امن کی آواز لگائی:شیوشرنپا پاٹل افطار پارٹی اورمسجد میں ملاقات کا روح پروراہتمام۔
بیدر۔ 9/مارچ (محمدیوسف رحیم بیدری) بیدر شہر کے میلور کی مسجد احمد میں آج ایک افطار پارٹی کا اہتمام کیاگیا۔ جہاں آپسی میل جول کی غرض سے برادرانِ وطن کوبھی مدعو کیاگیاتھا۔افطار سے قبل جناب محمدنظام الدین مؤظف پرنسپل نے کنڑی زبان میں روزہ اور اس کی اسلام کے علاوہ مسلمانوں کی زندگی میں اہمیت کے بارے میں بتایا۔ جناب شیوشرنپاپاٹل نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جس عہد میں محمد ﷺ اسلام لے آئے، اس وقت امن کی بے انتہا ضرورت تھی۔ ہر کوئی خود کو بڑا تصور کرتاتھا۔ حضور ﷺ نے امن قائم کیا اور سلام کرنے کاطریقہ رائج کیا۔ اپنے دشمنوں کو بھی سلام کرنے کی ترغیب دی۔ اتنا ہی نہیں مکہ میں اعلان کردیاکہ کوئی بڑا نہیں سوائے اللہ کے۔ حضرت بلال کو ”اللہ اکبر“ کہہ کر اذان دینے لگوایا۔ اکبر کامطلب راجا اکبر نہیں بلکہ ہم اس اللہ کو بڑا کہہ رہے ہیں جس نے کائنات بنائی اور ہم تمام کو بنایا۔ وہی بڑا ہے۔ پہاڑی پر جاکر اذان دینے کو کہاتاکہ ہر قبیلے کو معلوم ہوجائے کہ وہ بڑا نہیں اللہ بڑا ہے۔ جناب شیوشرنپا پاٹل کے خطاب کے فوری بعد ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر افطار میں مسلمانوں کاساتھ دیا۔ بے شمار برادرانِ وطن نے اس تقریب میں شرکت کی۔لطف کی بات یہ تھی کہ بچے بھی اس تقریب میں اور افطار میں موجودتھے۔ جن احباب کو دیکھاگیاا ن میں جناب شیوشرنپا پاٹل، ششی ہوسلی کارپوریٹر،محمد شوکت نمائندہ کارپوریٹر، گنپتی سر (ایس پی دفتر)، ڈی سی سی بینک کے سابق ذمہ داران میں کاشی ناتھ پاٹل، نرساریڈی، جناب شریف احمد صاحب، اسی طرح شیش اپا، موہن ریڈی، سنجیوریڈی، گووند ماسٹر، شیام راؤماسٹر،کے علاوہ بھی برادران ِ وطن شامل رہے۔ نماز کے دوران مسجد کی پچھلی صف میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کامشاہدہ بھی کرتے رہے۔ جناب عبدالقیوم صاحب صدر مسجد کمیٹی مسجد احمد میلور اور جناب محمد یونس صاحب کے علاوہ امام صاحب اور نوجوانان ِ میلور نے برادرانِ وطن کااستقبال کیا۔اور نماز کے بعد ان کے تشریف لانے پر شکریہ بھی ادا کیا۔ مغرب کی اذان خوش الحانی کے ساتھ کم عمر (10سالہ) لڑکے نے دی۔
Comments
Post a Comment