رمضان کا تیسرا عشرہ — نجات کا پیغام۔۔ ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔
رمضان کا تیسرا عشرہ — نجات کا پیغام۔
سید فاروق احمد قادری۔
رمضان شریف کے دو عشرے گزر چکے ہیں۔ پہلا عشرہ رحمت کا تھا اور دوسرا مغفرت کا۔ اب ہم تیسرے عشرے میں داخل ہو چکے ہیں جو جہنم سے نجات کا عشرہ ہے۔ یہی وہ دن ہیں جن میں بندہ اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر جہنم کی آگ سے پناہ مانگتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو"۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ عبادت کے آخری لمحات میں مزید کوشش اور محنت کرنی چاہیے۔
تیسرے عشرے کی سب سے بڑی سنت اعتکاف ہے۔ نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری دس دن مسجد میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔
حدیث میں آتا ہے:
"رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوگیا"۔
اعتکاف کا مقصد یہ ہے کہ بندہ دنیا کی مصروفیات سے الگ ہو کر مکمل طور پر اللہ کی عبادت، ذکر، قرآن کی تلاوت اور دعا میں مشغول ہو جائے۔ انہی دنوں میں لیلۃ القدر بھی آتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر رات ہے۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم رمضان کے پہلے دو عشرے تو بڑے شوق سے گزارتے ہیں۔ برسوں سے ہم روزے رکھتے ہیں، تراویح پڑھتے ہیں، رمضان کا اہتمام کرتے ہیں، تینوں عشروں کی فضیلت سنتے بھی ہیں۔ مگر جیسے ہی رمضان ختم ہونے کے قریب آتا ہے، مسجدیں ویران ہونے لگتی ہیں۔
رمضان میں جو صفیں بھری ہوتی ہیں، وہ خالی ہو جاتی ہیں۔ پہلی صف میں اکثر وہی ضعیف اور بزرگ لوگ نظر آتے ہیں جو سال بھر مسجد سے جڑے رہتے ہیں۔ نوجوان اور عام لوگ جو رمضان میں نظر آتے تھے، وہ کم ہوتے جاتے ہیں۔
رمضان کا اصل پیغام یہی ہے کہ عبادت صرف ایک مہینے تک محدود نہ رہے بلکہ ساری زندگی جاری رہے۔ اگر رمضان کے بعد مسجدیں خالی ہو جائیں تو ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ ہم نے رمضان سے کیا سبق حاصل کیا؟
لہٰذا تیسرے عشرے میں ہمیں زیادہ سے زیادہ عبادت، توبہ، دعا، قرآن کی تلاوت اور اعتکاف کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے نجات اور اپنی رضا عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کے آخری دنوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment