جنگ نہیں، امن انسانیت کی ضرورت ہے۔تحریر: محمد سمیع محمد سعید مومن، کھیڈ۔ ضلع رتناگری۔


جنگ نہیں، امن انسانیت کی ضرورت ہے۔
تحریر: محمد سمیع محمد سعید مومن، کھیڈ۔ ضلع رتناگری۔

انسانی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو ایک حقیقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا مستقل اور پائیدار حل ثابت نہیں ہوئی۔ جنگ بظاہر طاقت اور غلبے کا اظہار ضرور ہوتی ہے، مگر اس کا انجام ہمیشہ تباہی، بربادی اور انسانی المیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ جب جنگ کا طبل بجتا ہے تو صرف سرحدیں ہی نہیں ہلتیں بلکہ انسانیت کی بنیادیں بھی لرز اٹھتی ہیں۔ بستیاں اجڑتی ہیں، شہر ویران ہو جاتے ہیں اور برسوں کی محنت چند لمحوں میں خاک میں مل جاتی ہے۔
انسان اپنی زندگی میں ایک مقام حاصل کرنے کے لیے طویل جدوجہد کرتا ہے۔ ایک مزدور دن رات محنت کر کے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتا ہے۔ ایک کسان زمین کو سینچ کر فصل اگاتا ہے تاکہ معاشرے کو غذا فراہم ہو سکے۔ ایک استاد نئی نسل کو علم و شعور کی روشنی دیتا ہے تاکہ وہ مستقبل کے معمار بن سکیں۔ والدین اپنی خواہشات قربان کر کے اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے ہیں تاکہ وہ عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ کوئی برسوں کی بچت سے گھر بناتا ہے، کوئی دکان کھولتا ہے، کوئی اسکول یا ہسپتال قائم کرتا ہے۔ یہ سب امید، محنت اور صبر کا نتیجہ ہوتا ہے۔
مگر جب جنگ مسلط ہوتی ہے تو یہ سب خواب لمحوں میں چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ ہزاروں اور لاکھوں بے گناہ انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ ان میں معصوم بچے بھی شامل ہوتے ہیں، جنہوں نے ابھی دنیا کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں ہوتا۔ وہ بچے جو کل اسکول جانے والے تھے، جو اپنے کھلونوں اور کتابوں کے ساتھ مسکرا رہے تھے، جو اپنے والدین کی آنکھوں کا نور تھے — وہ بھی بارود اور آگ کی نذر ہو جاتے ہیں۔ کسی ماں کی گود ویران ہو جاتی ہے، کسی باپ کے خواب ٹوٹ جاتے ہیں، کسی بہن کا سہارا چھن جاتا ہے۔ یہ وہ زخم ہیں جو نسلوں تک نہیں بھرتے۔

تاریخ گواہ ہے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ نے کروڑوں جانیں نگل لیں۔ 1914ء میں ایک سیاسی قتل کے واقعے نے پوری دنیا کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا۔ اس کے بعد دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے۔ چند لمحوں میں آباد شہر جل کر راکھ ہو گئے۔ نہ صرف ہزاروں انسان فوراً مارے گئے بلکہ زندہ بچ جانے والے بھی برسوں تک تابکاری کے اثرات سے تڑپتے رہے۔ یہ واقعہ آج بھی انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔

افسوس کہ یہ سب کچھ صرف تاریخ کا قصہ نہیں رہا۔ موجودہ دور میں بھی مختلف خطوں میں جنگ کی آگ بھڑک رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور حملوں نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ میزائلوں اور ڈرون حملوں سے بستیاں لرز رہی ہیں۔ گھروں کی دیواریں گر رہی ہیں اور اسپتال زخمیوں سے بھر رہے ہیں۔ جنگ کی لپیٹ میں آنے والے صرف فوجی نہیں ہوتے، بلکہ عام شہری، عورتیں، بزرگ اور معصوم بچے بھی اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔

جنگ کا ایک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صرف مقامی افراد ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگ بھی پھنس جاتے ہیں۔ کوئی روزگار کی تلاش میں عرب ممالک گیا ہوتا ہے، کوئی سیاحت کے لیے اور کوئی اپنے کسی ضروری کام کے سلسلے میں وہاں موجود ہوتا ہے۔ جب حالات بگڑتے ہیں تو وہ سب بھی اسی خوف اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے گھروں میں بیٹھے والدین، بیوی بچے اور عزیز و اقارب ہر لمحہ بے چینی میں مبتلا رہتے ہیں۔ فون کی ایک گھنٹی پر دل دھڑک اٹھتا ہے۔ یہ اضطراب بھی جنگ کی ایک خاموش مگر شدید اذیت ہے۔

جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کی تباہی کا دائرہ ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اونچی اونچی عمارتیں، رہائشی مکانات، اسکول، کالج، ہسپتال، ایئرپورٹ، بینک اور دفاتر تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتے ہیں۔ ہزاروں گاڑیاں، بسیں اور جدید ٹرانسپورٹ کے وسائل آگ کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ دھماکوں کے بعد اٹھنے والا دھواں فضا کو زہر آلود بنا دیتا ہے۔ آسمان سیاہ ہو جاتا ہے اور زمین پر زندگی کا ہر نشان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

آج کا دور سائنسی ترقی کا دور ہے۔ انسان نے خلا تک رسائی حاصل کر لی ہے، جدید طب نے لاعلاج بیماریوں کا علاج دریافت کر لیا ہے، اور دنیا ایک عالمی گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مگر افسوس کہ یہی سائنس جب تباہی کے لیے استعمال ہوتی ہے تو اس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو جاتے ہیں۔ جدید ایٹمی اور کیمیائی ہتھیار چند لمحوں میں پورے شہر صفحۂ ہستی سے مٹا سکتے ہیں۔

معروف سائنس دان آلبرٹ آئن اسٹائن نے اسی خدشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:
"مجھے نہیں معلوم تیسری عالمی جنگ کن ہتھیاروں سے لڑی جائے گی، لیکن چوتھی عالمی جنگ لاٹھیوں اور پتھروں سے لڑی جائے گی۔"
یہ الفاظ اس اندیشے کی علامت ہیں کہ اگر انسان نے اپنی عقل کو صحیح سمت نہ دی تو وہ خود اپنی تہذیب کا خاتمہ کر بیٹھے گا۔

جنگ کے اثرات صرف فوری تباہی تک محدود نہیں رہتے۔ مہنگائی بڑھ جاتی ہے، بے روزگاری پھیلتی ہے، تعلیم کا نظام متاثر ہوتا ہے، تجارت رک جاتی ہے اور عالمی معیشت عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہے۔ آنے والی نسلیں بھی اس کے اثرات بھگتتی ہیں۔

ایک طرف انسان اربوں ڈالر خلا میں زندگی کی تلاش پر خرچ کر رہا ہے، دوسری طرف زمین پر موجود زندہ انسانوں کی زندگیاں تباہ کی جا رہی ہیں۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم کائنات میں زندگی ڈھونڈ رہے ہیں مگر اپنی ہی دنیا میں زندگی کو محفوظ نہیں رکھ پا رہے؟

جنگ کی آگ اگر پھیل جائے تو کوئی محفوظ نہیں رہتا۔

لگی ہے آگ تو آئیں گے کئی گھر زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اگر ہم اپنے لیے نہیں تو کم از کم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ہی سہی، اس تباہی کو روکنے کی کوشش کریں۔ آج ہم اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہیں، مگر جنگ ان خوابوں کو راکھ میں بدل سکتی ہے۔

آخر میں بقولِ ساحر:

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی

راقم الحروف:
محمد سمیع محمد سعید مومن
کھیڈ۔ ضلع رتناگری۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ