تعارف و تبصرہ ۔ سلسلہ (64)نامِ کتاب: مجروح سلطانپوری ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں۔مصنف: ڈاکٹر نذیر فتح پوری۔تبصرہ نگار: مجیب الرحمٰن ہنر، جھارکھنڈ۔
تعارف و تبصرہ ۔ سلسلہ (64)
نامِ کتاب: مجروح سلطانپوری ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں۔
مصنف: ڈاکٹر نذیر فتح پوری۔
تبصرہ نگار: مجیب الرحمٰن ہنر، جھارکھنڈ۔
ڈاکٹر نذیر فتح پوری صاحب کی ارسال کردہ کتابوں میں سے یہ دوسری کتاب ہے، جس کا تعارف و تبصرہ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ اس کتاب میں ڈاکٹر نذیر فتح پوری صاحب اور مجروح سلطانپوری کے مابین تعلقات کا تذکرہ ہے، نیز متعدد ادباء و شعراء کے مضامین بھی شامل ہیں جو مجروح سلطانپوری کی شخصیت پر قلم بند کیے گئے ہیں۔
یہ کتاب دو حصوں میں منقسم ہے۔ حصۂ اول میں ڈاکٹر نذیر فتح پوری کے بارہ مقالات شامل ہیں، جن میں مجروح سلطانپوری کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ جبکہ دوسرے حصے میں بڑے بڑے ادباء و شعراء کے مقالات شامل ہیں، جن میں ہارون بی۔اے، مجنوں گورکھپوری، پروفیسر نظیر صدیقی، ندا فاضلی، میر ہاشم، ملک زادہ منظور، ڈاکٹر سلیم خان، ڈاکٹر میمونہ علی چوگلے، ندیم رضا اور اشہر ندیمی قابلِ ذکر ہیں۔
ڈاکٹر نذیر فتح پوری صاحب کا قلم نہایت رواں اور متحرک ہے، یہی وجہ ہے کہ زیرِ تبصرہ کتاب ان کی 103 ویں تصنیف ہے۔ حقیقتاً اردو ادب کے لیے نذیر فتح پوری ایک ایسے گوہرِ نایاب ہیں جن کی جستجو ہر دور میں کی جاتی رہے گی۔
یہ کتاب محض ایک سوانحی یا تعارفی مجموعہ نہیں بلکہ اردو ادب کے ایک اہم عہد کی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں نہ صرف مجروح سلطانپوری کی ذاتی و ادبی زندگی کے مختلف گوشے سامنے آتے ہیں بلکہ اس دور کے ادبی رجحانات، شعری میلانات اور فکری تبدیلیوں کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ خصوصاً مختلف ادباء و شعراء کے مضامین اس کتاب کو مزید وقعت بخشتے ہیں، جس سے قاری کو ایک ہی جگہ متعدد زاویوں سے مجروح کی شخصیت کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی کتابیں اردو ادب میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں جو ایک شخصیت کو اس جامعیت کے ساتھ پیش کریں۔ اس اعتبار سے یہ کتاب محققین، طلبہ اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے نہایت قیمتی سرمایہ اور ایک لازمی مطالعہ ہے۔
مجروح سلطانپوری کی شخصیت کسی صیغۂ راز میں نہیں، بلکہ وہ اپنی شاعری کے ذریعے دنیا بھر میں متعارف ہیں۔ نذیر فتح پوری صاحب نے اس کتاب میں ان کی شخصیت کو یکجا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اسی کتاب سے مجروح سلطانپوری کا تعارف، ان ہی کے قلم سے، نذرِ قارئین ہے:
مجروح سلطانپوری بقلمِ خود
تاریخِ پیدائش: 1915 سے 1917 کے درمیان کسی ماہ میں۔
تعلیم: عربی، فارسی اور طبِ یونانی۔
طبابت: صرف ایک سال (1939)۔
ذریعۂ معاش: 1945 سے فلموں میں نغمہ نگاری۔
میرا مجموعۂ کلام "غزل" 1989 میں میرے بھانجے آباد احمد خان نے کراچی سے شائع کیا۔ میں ایک زمیندار نما کسان کا اکیلا بیٹا ہوں۔ میرا اصل نام اسرار حسن خان اور تخلص مجروح سلطانپوری ہے۔ نسلاً مسلم راجپوت ہوں۔ تعلیم عربی و فارسی کی حاصل کی اور تکمیل الطب کالج، لکھنؤ سے طبِ یونانی کی سند حاصل کی۔
ایک سال تک کامیاب طبابت کرنے کے باوجود، اپنے وطن سلطانپور کے ادبی ماحول نے مجھے شاعری کی طرف مائل کیا۔ 1940 سے باقاعدہ اس میدان میں قدم رکھا۔ ابتدا میں چند غزلیں کہیں، پھر نظمیں کہنے لگا۔ میری نظمیں اس قدر غنائیت رکھتی تھیں کہ انہیں ادبی گیت کہا جا سکتا ہے۔ تاہم کچھ عرصے بعد طبیعت پھر غزل کی طرف مائل ہو گئی۔
میری شاعری کی تربیت میں جناب رشید احمد صدیقی کا خاموش اثر نمایاں رہا، اگرچہ میری بعض غلطیوں پر سخت تنقید بھی انہی کی جانب سے ہوئی۔ ابتدائی دور میں مولانا عبد الباری آسی لکھنوی سے اصلاحِ سخن کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے بعد باقاعدہ اصلاح کا سلسلہ جاری نہ رہا، البتہ حضرت جگر مرادآبادی نے میری شاعرانہ طبیعت کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
1945 میں انہی کے ساتھ ایک مشاعرے کے سلسلے میں بمبئی آیا اور فلمی دنیا سے وابستہ ہو گیا۔ تب سے یہی ذریعۂ معاش ہے۔ اگرچہ میں نے فلمی گیتوں کو کبھی اپنا بڑا فنی کارنامہ نہیں سمجھا، تاہم اس میدان میں نئی لفظیات اور راہیں ضرور متعارف کرائیں۔
اسی زمانے میں ترقی پسند مصنفین کی انجمن سے وابستہ ہوا اور فن و زندگی کو اس زاویے سے دیکھنا شروع کیا۔ چونکہ اس وقت غزل میں ترقی پسند روایت مستحکم نہ تھی، اس لیے اس راہ میں مشکلات بھی پیش آئیں، لیکن یہی کوششیں بعد میں آنے والوں کے لیے آسانی کا سبب بنیں۔
بقولِ ثاقب لکھنوی:
دعائیں دیں میرے بعد آنے والے میری وحشت کو
بہت کانٹے نکل آئے میرے ہمراہ منزل سے
شبلی، اقبال، سہیل، حسرت موہانی اور بعد میں جمیل مظہری، مجاز اور جذبی نے بھی اس سمت میں کوششیں کیں، مگر کوئی مضبوط روایت قائم نہ ہو سکی۔ مجروح نے اپنی انفرادی کاوش سے اس راہ کو ہموار کیا اور اردو شاعری کو ایسے اشعار دیے جو آج محاورہ بن چکے ہیں۔
الغرض، مجروح سلطانپوری کی ہمہ جہت شخصیت ان کی شاعری، فنکاری، ادبی خدمات اور مختلف زبانوں پر قدرت کا بھرپور اندازہ اس کتاب کے مطالعہ سے ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نذیر فتح پوری کی شخصیات پر لکھی گئی کتابوں میں یہ کتاب بھی اردو حلقے کے لیے ایک گرانقدر تحفہ ہے۔
Comments
Post a Comment