جے ای ای مین 2026 میں حیران کن کامیابی۔جڑواں بھائیوں نے ایک ہی امتحان میں ایک جیسے نمبر حاصل کر کے نئی مثال قائم کر دی۔ٹیم کاوش کی جانب سے خصوصی مبارکباد۔عامر انصاری۔


جے ای ای مین 2026 میں حیران کن کامیابی۔
جڑواں بھائیوں نے ایک ہی امتحان میں ایک جیسے نمبر حاصل کر کے نئی مثال قائم کر دی۔
ٹیم کاوش کی جانب سے خصوصی مبارکباد۔
عامر انصاری۔

نئی دہلی / کوٹا:
ملک کے سب سے مشکل اور مقابلہ جاتی انجینئرنگ داخلہ امتحان جے ای ای مین ۲۰۲۶ کے نتائج میں ایک غیر معمولی اور دلچسپ واقعہ سامنے آیا ہے جہاں دو جڑواں بھائیوں نے نہ صرف ایک ہی امتحان میں حصہ لیا بلکہ دونوں نے بالکل ایک جیسے نمبر حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ 
اڑیسہ کے شہر بھوبنیشور سے تعلق رکھنے والے جڑواں بھائی معروف احمد خان اور مسرور احمد خان نے جے ای ای مین (سیشن اوّل) میں
 300 میں سے 285 نمبر
حاصل کیے اور تقریباً 
99.998 پرسنٹائل 
اسکور کر کے شاندار کامیابی حاصل کی ۔
جے ای ای مین دنیا کے مشکل ترین مقابلہ جاتی امتحانات میں شمار ہوتا ہے جس میں ہر سال لاکھوں طلبہ حصہ لیتے ہیں۔ ۲۰۲۶ میں بھی تقریباً 13 لاکھ سے زائد امیدواروں نے اس امتحان میں شرکت کی، اس لیے دونوں بھائیوں کا ایک جیسے نمبر حاصل کرنا ایک غیر معمولی کارنامہ سمجھا جا رہا ہے۔ 

 ایک جیسی زندگی، ایک جیسا مقصد : 
معروف اور مسرور احمد خان ۷، مئی ۲۰۰۸ کو پیدا ہوئے اور بچپن سے ہی تقریباً ہر مرحلے پر ایک ساتھ رہے۔ دونوں نے ایک ہی اسکول میں تعلیم حاصل کی، ایک ہی کوچنگ سینٹر میں داخلہ لیا اور ہمیشہ ایک ساتھ پڑھائی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے جے ای ای مین کا امتحان بھی ایک ہی شفٹ اور ایک ہی امتحانی مرکز میں دیا۔ 

ان کے اساتذہ کے مطابق دونوں بھائی نہ صرف شکل و صورت میں ایک جیسے ہیں بلکہ ان کے مطالعے کے طریقے، شیڈول اور اہداف بھی تقریباً ایک جیسے ہیں۔ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کے درمیان صحت مند مقابلہ ان کی کامیابی کا اہم راز ہے۔ اگر ایک بھائی کسی ٹیسٹ میں کم نمبر حاصل کرتا تو دوسرا اس کی مدد کرتا اور دونوں مل کر اپنی غلطیوں کا تجزیہ کرتے۔ 

کوٹا کا سفر اور سخت محنت : 
انجینئرنگ کے امتحانات کی تیاری کے لیے دونوں بھائی ۲۰۲۳میں راجستھان کے شہر کوٹا* منتقل ہوئے جو پورے بھارت میں کوچنگ سینٹرز کے لیے مشہور ہے۔ ابتدا میں وہ یہاں انٹرنیشنل سائنس اولمپیاڈ کی تیاری کے لیے آئے تھے کیونکہ دونوں اس مقابلے کے لیے منتخب ہوئے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے انجینئرنگ میں کیریئر بنانے کا فیصلہ کیا اور جے ای ای کی تیاری شروع کر دی۔

کوٹا میں انہوں نے ایک معروف کوچنگ ادارے میں داخلہ لیا جہاں وہ روزانہ کئی گھنٹے پڑھائی کرتے تھے۔ دونوں بھائی اکثر ایک ہی میز پر بیٹھ کر مطالعہ کرتے، مشترکہ نوٹس تیار کرتے اور باقاعدگی سے ٹیسٹ دیتے تھے۔ اس طرح انہوں نے اپنی تیاری کو مزید مضبوط بنایا۔

ماں کی قربانی :
ان کی کامیابی کے پیچھے ان کی والدہ *ڈاکٹر زینت بیگم کی قربانی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وہ اڑیسہ حکومت کے ساتھ ایک ماہر امراضِ نسواں کے طور پر کام کر رہی تھیں، مگر اپنے بیٹوں کی تعلیم اور مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے انہوں نے ملازمت چھوڑ دی اور ان کے ساتھ کوٹا منتقل ہو گئیں۔ 

تین سال تک انہوں نے اپنے بیٹوں کے روزمرہ معمولات، خوراک، صحت اور ذہنی دباؤ کا خاص خیال رکھا۔ ان کے مطابق دونوں بھائی ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے “آئینہ” کی طرح رہے ہیں اور ایک دوسرے کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

تعلیمی میدان میں پہلے بھی کامیابیاں :
معروف اور مسرور بچپن سے ہی تعلیم میں نمایاں کارکردگی دکھاتے رہے ہیں۔ ان کی والدہ کے مطابق دونوں نے قومی اور بین الاقوامی سائنس اولمپیاڈ مقابلوں میں تقریباً 40 تمغے حاصل کیے ہیں۔ دسویں جماعت میں بھی دونوں نے اعلیٰ نمبروں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

ان کے والد منصور احمد خان بھی ڈاکٹر ہیں اور اڑیسہ میں ایک طبی ادارے سے وابستہ ہیں۔ خاندان میں تعلیمی ماحول ہونے کی وجہ سے دونوں بھائیوں کو بچپن سے ہی سائنسی مضامین میں دلچسپی پیدا ہوئی۔
 مستقبل کا ہدف : 
اب دونوں بھائی اگلے مرحلے یعنی جے ای ای ایڈوانسڈ کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا خواب بھارت کے ممتاز تعلیمی ادارے آئی آئی ٹی بمبئی میں کمپیوٹر سائنس انجینئرنگ میں داخلہ حاصل کرنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں جدید ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں تحقیق کرنا چاہتے ہیں اور عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

نوجوانوں کے لیے مثال : 
معروف اور مسرور احمد خان کی کامیابی نوجوان طلبہ کے لیے ایک بڑی مثال ہے۔ ان کی کہانی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ مسلسل محنت، نظم و ضبط اور خاندانی تعاون کے ذریعے بڑے سے بڑا ہدف بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ان کی کامیابی نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے ملک کے لیے باعثِ فخر سمجھی جا رہی ہے اور یہ واقعہ تعلیمی دنیا میں ایک منفرد مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
ٹیم کاوش ممبئی
Identical Twins, Identical Scores (285) In JEE Main,
Maroof Ahmed Khan and Masroor Ahmed Khan score 99.998 percentile score*

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔