مولانا سعید احمد عمری اور منہج سلف کا عالمی ادارہ "جامعہ دارالسلام عمرآباد"۔۔ازقلم : سی نور محمد فیاض عمری، عمرآباد۔۔زیر نگرانی: ڈاکٹر امان اللہ ایم بی، چیرمین آف اردو، مدراس یونی ورسٹی، چنئی۔
مولانا سعید احمد عمری اور منہج سلف کا عالمی ادارہ "جامعہ دارالسلام عمرآباد"۔۔
ازقلم : سی نور محمد فیاض عمری، عمرآباد۔۔
زیر نگرانی: ڈاکٹر امان اللہ ایم بی،
چیرمین آف اردو،
مدراس یونی ورسٹی، چنئی۔
وقت بھی عجیب چیز ہے پلک جھپکنے میں گزرجاتاہے، یہ دولت اس سرعت کے ساتھ ہمارے ہاتھ سے نکل جاتی ہے کہ بعد میں ہم ہاتھ ملتے رہتے ہیں، کوئی شخص اپنی شدید خواہش اور سر توڑ کوشش کے باوجود بیتے ہوئے لمحات سے دوبارہ کسی صورت میں فیض یاب نہیں ہوتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے عدم کے کوچ کے لیے رخت سفر باندھ لیتے ہیں۔ اور ہمیں دائمی مفارقت دے جاتے ہیں۔ ان کے نہ ہونے کی اَن ہونی پر آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں۔ ایسے بزرگوں کا سایہ جب سر سے اُٹھ جاتاہے تو محسوس یہ ہوتاہے کہ سورج واقعی سوانیزے پہ آگیا ہے۔ ان لرزہ خیر لمحات اور اعصاب شکن حالات میں دل کو سنبھالنے کی نہ کوئی اُمید برآتی ہے اور نہ ہی اپنے جذبات حزیں کو حرف بہ حرف بیان کرنے کی کوئی صورت نظر آتی ہے، لوح دل پر ان کے نقش، ان کی دُعائیں، وفائیں، عطائیں اور ادائیں ہمیشہ کے لیے عزم وعمل کی ندائیں اور آلام روزگار کی تمازت سے بچنے کی رِدائیں ثابت ہوتی ہیں، ان کے چشم کے مرجھانے کا یہ سانحہ پس ماندگان اور احباب کے زندگی بھر کے لیے سوہان روح بن جاتاہے۔ دل ودماغ کے طاق میں اس عظیم انسان کی حسین یادوں کے چراغ ستاروں کے مانند جھلملاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک ناقابل فراموش معزز اور عظیم ہستی مولاناکاکا سعید احمد عمریؒ اس دارِ فانی میں آئے اور چلے گئے۔ مولانا 11/مئی 2024ء میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ عمرآباد کی زمین نے ہمدردی، بے لوث محبت، خدمت خلق اورانسانیت کے وقارو سربلندی کے اس آسمان کو ہمیشہ کے لیے اپنے دامن میں چھپالیا۔ وہ ہستی جن کا وجود طلوع صبح ِ بہاراں کی نوید تھا۔ اور جس کی عظیم شخصیت سفاک ظلمتوں میں ستارہ ¿ سحر کے مانند تھی۔ اپنے ہزاروں مداحوں اور عقیدتمندوں کو یاس وہراس اور آہ فغاں کے عالم میں تنہا چھوڑ کر دور بہت دور اپنی الگ بستی بسانے چلے گئی۔ اداس بام، کھلے در، سنسان بستیاں اور احساس زیاں سے بے حال اپنے اُن مولانا کوپکارتی رہتی ہیں، لیکن اس دنیا کے سرائے سے منہ موڑ کر جانے والے مسافر کبھی دوبارہ اس دنیا کی طرف لوٹ کر نہیں آتے۔
زندگی کی شام الم میں ایسے بزرگوں کی یادوں کے ستارے اس طرح ضوفشاں رہتے ہیں کہ رہروانِ زیست کو نشان منزل مل جاتاہے۔ وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ جن مولانا کو دیکھ کر ہم جیتے تھے۔ پڑھتے، سنتے اور سیکھتے تھے ہمیں دائمی مفارقت دے کر زینہ ¿ بام سے اتر کر قلزم خوں پارکرجائیں گے۔ زندگی کا کوئی بھی عکس ہو اس میں ایسے لوگوں کے اقوال، اعمال اور شخصیت کے قدوخال جلوہ گر دکھائی دیتے ہیں۔
مولانائے محترم اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ آپ کی شفقتوں اورکرم فرمائیوں کی یادیں رہ گئی ہیں۔ آپ کی نماز ِ جنازہ مسجد سلطان احاطہ ¿ جامعہ دارالسلام میں آپ کے بڑے صاحبزادے مولانا کاکا انیس احمد عمری حفظہ اللہ کی امامت میں ہزاروں معتقدین کی معیت میں ادا کی گئی ۔ تدفین مسجد عمرآباد کے آبائی قبرستان میں ہوئی۔ مختلف صوبوں سے آئے ہوئے احباب ومتعلقین اور عقیدت مندوں کے جم غفیر کے ساتھ برادرانِ وطن کی ایک بڑی تعداد، نیز کئی ایک صحافی، وزیر ، ایم ایل اے، چیر مین اور امراء شریک رہے۔
مولانا کاکا سعید احمد عمری کی وفات ملک وملت کا عظیم سانحہ ہے۔ مولانا پاک طینت اور پاکیزہ اخلاق کے مالک تھے۔ صد سالہ ادارہ جامعہ دارالسلام کا انتظام انتہائی خوش اسلوبی سے چلاتے رہے۔ انھیں جامعہ ، اس کے اساتذہ ،طلبہ، ابنائے قدیم اور داعیوں کی بڑی فکر رہتی تھی۔ مولانا بنیا دی طورپر داعیء دین اور مصلح امت تھے، دعوت دین اورتزکیہ نفس کا داعیہ ان میں ہمیشہ منسلک ودامن گیر رہتا تھا۔ 88سال کی عمر کے اس مرحلے میں بھی ہر دم متحرک رہ کر دین وملت کی سرگرم خدمت انجام دیتے رہے۔آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر، اسلامی فقہ اکیڈمی کے رکن تاسیسی اورآل انڈیا ملی کونسل کے رکن شوریٰ تھے۔
مولانا اپنے خاندان کے پہلے عالم دین تھے۔ یہ آپ کے والدہ ¿ محترمہ کی تمنا تھی۔ مولانا بچپن ہی سے شریف النفس تھے۔ تعلیم سے آپ کی محبت تھی۔ کتابیں ہی آپ کی دوست تھیں۔
جامعہ دارالسلام کا سنگ بنیاد آپ کے دادا محترم کاکا محمد عمرؒ نے 1924ء میں رکھا تھا۔ آج اس ادارہ کو پورے سو سال سے زائد ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود اس نے اب تک نہ کوئی جوبلی منائی اور نہ بڑا اجتماع کیا۔ اب بھی جامعہ بہت سے لوگوں کے لیے نیا ہے اور اس کی آواز اجنبی ہے۔ جامعہ ایک واحدادارہ ہے جو کسی خاص مسلک وجماعت سے وابستہ نہیں۔ خاص طور پر دشمنانِ جامعہ اس بات کی تشہیر اور بہتان کی بات کرتے ہیں کہ جامعہ تحریک اسلامی اور جماعت اسلامی سے منسلک ہے۔ اس میں مودودیت کا رجحان ہے۔یہ سراسر غلط بیانی ہے۔
سن1980ء تقریباً آج سے 45سال قبل جب کہ میں جامعہ کے فضیلت سال اول کاطالب علم تھا۔ اس وقت مادرِ علمی جامعہ کی نئی مسجد ، مسجد سلطان کا افتتاح امام حرم مکی فضیلۃ الشیخ عبداللہ السبیل ؒ کے ہاتھوں عمل میں آیا تھا۔
اس افتتاح کو لے کر دشمنانِ جامعہ نے جو من گھڑت کہانی میڈیا میں پھیلا رکھی ہے وہ سراسر جھوٹ ، کذب اور بہتان پر منحصر ہے۔ راقم عمرآباد کا باشندہ ہے، کاکا خاندان سے میر ا ننھیالی رشتہ ہے۔ جب سے میں نے شعور سنبھالا اس وقت سے میں جامعہ کو دیکھا ، پڑھا، سمجھا اور سن 1980ء تو مجھے مادر علمی جامعہ کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ مجھے جامعہ کی قدیم عمارتوں میں بھی اور نئی عمارتوں میں بھی منہج سلف کے بزرگ اساتذہ ¿ کرام شیخ الحدیث مولانا عبدالواجد عمری رحمانیؒ،مولانا عبدالسبحان اعظمی عمریؒ، مولانا ظہیر الدین اثری رحمانیؒ، مولانا سید امین عمریؒ، شیخ التفسیر مولانا عبدالکبیر عمریؒ، مولانا حافظ حفیظ الرحمن اعظمی عمریؒ،اور مولانا خلیل الرحمن اعظمی عمری رحمہم اللہ سے بھر پور استفادہ کا موقع ملا ہے اور کاکا خاندان کے ہر فرد سے اور خاص کر ان کے بچوں سے میرے بچپن کے تعلقات ہیں۔ سن 1980ء کی بات تو یہ بچے اتنے شعور یافتہ اور بڑے بھی نہیں تھے۔ (سوائے محترم مولانا کا کا انیس احمد عمری حفظہ اللہ اورمولانا کاکا عبدالرزاق شاہد عمریؒ کے) کہ وہ امام حرم مکی شیخ عبداللہ السبیلؒ کو بکرے کے چمڑے میں تحریر شدہ جماعت اسلامی کی برتری اور مودودیت کے رجحان کو جامعہ سے منسلک کرتے ہوئے پیش کئے ہوں، یہ سراسر نفرت آمیز اور اشتعال انگیز بیان ہے۔ آج تک اس طرح کی خباثت بھری باتیں سنی ہیں نہ دیکھی ہیں ۔ ہاں اتنی بات ضرورت ہے کہ تحریک اسلامی اور تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد اور خدمت گزار حضرات کی جانب سے جب کبھی اپنے اجتماعات وسمینار کی دعوت دیتے ہیںتو ان احباب کی دعوت پر لبیک وسعدیک کہتے ہوئے سکریٹری جامعہ ، ذمہ دارانِ جامعہ، اساتذہ جامعہ اور طلبہ ¿ جامعہ کو لے کر ضرور شرکت کرتے ہیں اور حوصلہ افزائی فرماتے ہیں اور جامعہ کی لائبریری میں جو دنیا بھر کی کتابیں رکھی گئی ہیں ان میں تحریکی وتبلیغی کتابیں بھی برائے استفادہ ہیں۔ اس کے معنی یہ نہیں کہ جامعہ ،خاندانِ جامعہ اور کاکا خاندان خاص کر جماعت اسلامی سے منسلک ہے ۔ اوران پر مودودیت کی چھاپ نظر آتی ہے۔ میں کھل کران دشمنان جامعہ سے کہوں گا جو کہ عالم دین بھی ہیں۔ اورمنہج سلفی المسلک سے وابستہ ہیں، سن لیں دین وملت میں کرنے کے بہت سے کام ہیں جو پوری امت مسلمہ کے لیے مفید ہوں وہ کام کریں۔ فالتو چیزوں میں نہ پڑیں یہ سراسر حماقت اور بے وقوفی ہے، نیز اپنی عاقبت کو خراب کرکے نارِ جہنم کے مستحق نہ بنیں۔
جامعہ کی بنیاد روزِ اول ہی سے خالص کتاب وسنت، توحید اور منہج سلف پر رکھی گئی ہے۔ شروع دن سے آج تک یہاں دینی اور عصری تعلیم ہوتی ہے۔ دعوتِ دین، تبلیغ اسلام اورخاص طورپر برادرانِ وطن میں تعارف اسلام کی کرنیں پھوٹا کرتی ہیں۔ ان سے مستفید ہوکر اس کے طلباء ،ابنائے قدیم وابنائے جامعہ دنیا بھر میں امام وخطیب کے علاوہ ہر میدان میں نیک نامی کے ساتھ خدمت انجام دے رہے ہیں۔
اگر جامعہ شور کے ساتھ، ہنگامے کے ساتھ فساد اور اختلاف کے ساتھ کام کرتا تو بہت مشہور ہوگیا ہوتا۔ سب کی خدمات خاموش، تعمیری اور مثبت ہیں۔ یہی چیز سب کو جامعہ سے ہم کنار کرتی ہیں۔
آج ملک بھر میں لاکھوں مدارس وجامعات ہیں۔ ہر مشہور مدرسہ کا ایک امتیاز ہے لیکن جامعہ دارالسلام عمرآبا د کامعیار اور دین وملت کے لحاظ سے بہت اونچا ہے۔ یہاں عربی کی تعلیم ہوتی ہے، یہاں طہارت وتقویٰ ہے۔ طلباء کی تعداد زیادہ ہے۔ جامعہ کی خصوصیت یہ ہے کہ مختلف مسالک کے طلباء ہیں، مختلف الخیال ہیں اور مختلف نقطہ ¿ نظر کے ہیں۔
تعلیم جامعہ کی دوخوبیاںسب سے نمایاں ہیں۔ دراصل یہ دونوں خوبیاں مولاناکاکا سعید احمدعمری ؒ میں موجود تھیں۔ تعلیم جامعہ کی پہلی خوبی’’اعتدال‘‘ ہے۔اس لیے اس کے ترجمان کانام بھی’’ماہنامہ راہِ اعتدال‘‘ ہے۔ اعتدال کی صفت جامعہ کے رگ وپئے میں موجود ہے۔ منتظمین جامعہ کے مزاجوں میں، اساتذہ ¿ جامعہ کے لب ولہجے میں، طلبہ ¿ جامعہ کے اطوار میں، تعمیرات جامعہ کے دروبست میں اعتدال پایاجاتاہے، جامعہ کے ہر طالب علم کو اپنے مسلک پر عمل کرنے کی آزادی ہے۔ اساتذہ ¿ جامعہ، تحریک اسلامی کی برتری ، فقہ اور مسلکی برتری پر اپناوقت ضائع نہیں کرتے بلکہ طلباء کو جملہ فقہاء کی رایوں سے آگاہ کرکے آزاد چھوڑدیتے ہیں۔ مولانا کے اندر بھی یہ کیفیت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ آپ کی چال میں، گفتگو میں، خطاب میں اور کردار میں اعتدال کی جھلک نمایاں تھی۔
تعلیم جامعہ کی دوسری خوبی’’دعوت دین کی تڑپ‘‘ ہے۔ فارغین جامعہ امام وخطیب ہی نہیں وہ دین کے داعی بھی ہوتے ہیں۔ جامعہ میں باقاعدہ دعوت کا شعبہ ’’مقارنۃ الأدیان‘‘ اور نومسلموں کی تربیت کے لیے ’’تعارفِ اسلام‘‘ کے ناموں سے قائم ہے۔ دعوت کے موضوع پر محاضرات کرائے جاتے ہیں ۔ کچھ طلبہ کو خصوصی طورپر دعوتی کاموں کے لیے تیار کیاجاتاہے۔
مولانائے محترم کے اندر ملت کو’’ملت واحدہ‘‘ بنانے کا اضطراب پایاجاتاتھا۔ وہ تمام معروف ملی اجتماعات میں شریک ہوتے تھے۔ تبلیغی جماعت کے اجتماع ہوں یا تحریک اسلامی کے اجلاس میں دعوت دی جاتی تو وہ لبیک کہتے۔ مولانا کو کسی جماعت سے یا مسلک سے بیرنہیں تھا۔ ملک میں دین کے نام پر کام کرنے والی دینی شخصیات اورجماعتوں کا بھرپور تعاون فرماتے تھے۔ بہرحال مولانا وحدت امت کے داعی اور علم بردار تھے۔ وہ تمام ملی اداروں اوردینی جماعتوں کی خدمات کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتے تھے اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ آپ کی فکر میں بڑا توسّع پایاجاتا تھا۔
مولانائے محترم کی شخصیت گوناگوں صفات کی حامل تھی۔ مخلص داعی، حکمت ودانائی کے پیکر، امت کی اصلاح وتربیت کے لیے کوشاں رہنے والی شخصیت تھے۔ آپ کے بھائی کاکامحمد عمر بابوؒ نے جامعہ کی تعمیر وترقی کے لیے جو خواب دیکھے تھے انھیں ایک ایک کرکے شرمندہ ¿ تعبیر کیا۔ ان کے علاوہ سیکڑوں مساجد کی تعمیر آپ کی مساعیئ جمیلہ کا نتیجہ ہیں۔ صحیح معنوں میں آپ ایک سلجھے ہوئے عالم دین، مفکر ودانش، اورانجینئر تھے۔
2003ء میں ، میں نے اپنے ایک چھوٹے سے مکان کی بنیاد کے موقع پر آں محترم کو دعوت دی تو آپ نے نہ صرف یہ کہ میری دعوت قبول فرمائی بلکہ گھر کے انجینئرنگ پلان میں ایسی تبدیلی فرمائی کہ اس کی وجہ سے کئی اہم اصلاحات ہوئیں۔
ناچیز کے گھر کی تعمیر مکمل ہونے اور اس میں سکونت اختیار کرلینے کے بعد محلہ میں مسجد کی ضرورت پیش آئی تو میں نے بھی مسجد کی تعمیر کے لیے درخواست کی، درخواست منظور فرمالی اور 2014ء میں ’’مسجد ھدیٰ‘‘ کی تعمیر مکمل ہوی۔اس کے افتتاح پر مجھے بے انتہا مسرت وشادمانی ہوئی۔ اسی خوشی کے موقع پر راقم نے یہ نظم کہی تھی:
’’آجاؤ ھدیٰ مسجد کی طرف‘‘
بہ موقع افتتاح ’’مسجد ھدیٰ‘‘ کاکا محمد اسماعیل گلی، عمرآبا د ، اتوار کے دن 31/آگست 2014ء شام سوا پانچ بجے۔
یہ ارض وسماں یہ شمس و قمر سب دوڑ رہے ہیں رب کی طرف
یہ شام و سحر یہ شاخ و شجر،سب دوڑ رہے ہیں رب کی طرف
اللہ کی خاطر جینے والو اللہ کی خاطر مرنے والو!
آجاؤ ھُدیٰ مسجد کی طرف،آجاؤ ھُدیٰ مسجد کی طرف
اللہ کے مخلص جاں بازو، اسلام کے سچے فرزندو!
گفتار کے قاضی تم نہ بنو، میدانِ عمل میں آجاؤ
جس دل میں خشیت کچھ تو ہے، دوڑے گا وہ اپنے رب کی طرف
اللہ سے ہر دم ڈرنے والو!آجاؤ ھُدیٰ مسجد کی طرف
دنیا سے مٹائیں شرک وبدی توحید کی کرنیں پھیلائیں
اسلام کو غالب کرنا ہے پیغام یہ سب کو پہنچائیں
سوئے ہواگر تم اُٹھ بیٹھو! بیٹھے ہوتو ہمت کرکے اُٹھو
اُٹھ کر جو کھڑے تم ہوجاؤ مسجد کی طرف پھر چل نکلو
اللہ جو رب ہے ہم سب کا خالق ہے وہی معبود وہی
رازق بھی وہی حاکم بھی وہی سلطان وہی مسجود وہی
ہر سعیئ وجہد ہر کوشش کا مطلوب وہی مقصود وہی
فیاضؔ یہ ساری حمد وثنا ہے جس کے لیے محمود وہی
اس نظم کو آپ نے نہ صرف یہ کہ پسند فرماکر میرا حوصلہ بڑھایا، بلکہ مسجد کے افتتاح کے موقع پر اسے پڑھنے کی اجازت بھی مرحمت فرمائی۔ مسجد کے افتتاح کے اُس پر مسرت موقع پر ناچیز نے مہمانوں کے لیے عشائیہ ترتیب دینے کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے اس کا بھی موقع نصیب فرمایا۔
بانیانِ جامعہ کے خواب وخیال میں بھی یہ بات نہ رہی ہوگی کہ یہ مختصر سا قریہ اور چھوٹا سا تعلیمی ادارہ ایک دن بین الاقوامی حیثیت اختیار کرجائے گا ۔ الحمد للہ آج اس کی عمر سوسال ہوچکی ہے۔ اس کا شمار ہندوپاک بلکہ عالم اسلام کے عظیم ترین اداروں میں ہونے لگا ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل، بانیانِ جامعہ کے خلوص اور خاص کر کاکا برادران محترم کاکا محمد عمرؒ اور مولانا کاکا سعید احمد عمریؒ کی محنتوں کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے جامعہ آج ایک سایہ دار ثمر بار شجر بن کر ایک عالم کو اپنی ٹھنڈی چھاؤں سے فیض پہنچارہاہے اور بانیانِ جامعہ کے خواب کو شرمندہ ¿ تعبیر کررہاہے۔
جامعہ کی صد سالہ خدمات سے متاثر ہوکر میں نے برجستہ جو نظم کہی تھی پیش ہے:
تاثرات
’’برخدمات صد سالہ جامعہ دارالسلام عمرآباد‘‘
جامعہ نے حق بتایا دوستو! سو سال سے
نغمہ ¿ توحید گایا دوستو! سو سال سے
جاہلوں کو علم کے گوہر سے شائستہ کیا
علم کا دریا بہایا دوستو! سو سال سے
ساری دنیا جانتی ہے جامعہ کا نیک نام
دین کا ڈنکا بجایا دوستو! سو سال سے
وہ ہمیشہ کر رہاہے رہنمائی قوم کی
راستہ حق کا دکھایا دوستو! سو سال سے
مسجدیں تعمیر کرنا بھی ہے اس کا ایک کام
جو کہا اس نے نبھایا دوستو! سو سال سے
غیر مسلم بھائیوں کو دین میں شامل کیا
قصر ملت کو سجایا دوستو! سو سال سے
اس جہاں میں دین کا غلبہ رہے چاروں طرف
اُس نے یہ سب کو بتایا دوستو! سو سال سے
جامعہ نے طالبان علم دین کو شوق سے
عالم وحافظ بنایا دوستو! سو سال سے
مادرِ علمی کا یہ بھی فیض ہے فیاضؔ پر
بہر حق جینا سکھایا دوستو سو سال سے
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ رحم وکرم کا معاملہ فرمائے۔ آپ کی جملہ خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے۔ اور مادرِ علمی جامعہ دارالسلام کو اپنے حفظ وامان میں رکھتے ہوئے، حاسدین کے حسد سے بچائے اور مزید ترقیوں سے اس کے درجات بلند فرمائے۔آمی۔
****
Comments
Post a Comment