ماہِ محرم میں کی جانے والی غلط رسومات اور بدعات۔ازقلم : نذیرا احمد کازی، لیکچرر، وجیاپور۔
ماہِ محرم میں کی جانے والی غلط رسومات اور بدعات۔
ازقلم : نذیرا احمد کازی، لیکچرر، وجیاپور۔
اسلام میں محرم کے مہینے کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس مہینے کی اہمیت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے نواسے، امام حسینؓ نے حق و صداقت کی خاطر قربانی دی اور شہادت حاصل کی۔ ابتدا سے ہی اس دن کو نہایت اہم مانا گیا ہے۔
جب نبی محمد ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لائے، تو آپ نے دیکھا کہ یہودی محرم کی دسویں تاریخ کو روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے ان سے اس کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے بتایا کہ "یہ دن ہمارے لیے بہت اہم ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دی، اور فرعون کو دریائے نیل میں غرق کر دیا۔ اسی خوشی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام روزہ رکھتے تھے، اور ہم ان کی پیروی کرتے ہیں۔"
اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: "موسیٰ ہمارے لیے زیادہ قریب ہیں"۔ چنانچہ آپ نے اپنے ماننے والوں کو حکم دیا کہ وہ 9 اور 10 یا 10 اور 11 محرم کے روزے رکھیں۔
لیکن افسوس کہ آج کل کچھ مسلمان بھائی بہنیں محرم کے مہینے میں غلط رسم و رواج کو اپناتے ہوئے، ایسی بدعات انجام دے رہے ہیں جو اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔ جب انہیں ٹوکا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں: "ہمارے باپ دادا بھی یہ کرتے آئے ہیں، ہم بھی کریں گے۔" لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر آپ کے باپ دادا غلطی پر تھے اور وہ اس کی سزا پا رہے ہیں، تو کیا آپ بھی وہی غلطیاں دہرائیں گے؟ قرآن مجید سورۃ البقرہ (2:170) میں فرماتا ہے:
"جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ (قرآن) کی پیروی کرو، تو وہ کہتے ہیں: نہیں، ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، خواہ ان کے باپ دادا کچھ نہ سمجھتے ہوں اور نہ ہی ہدایت یافتہ ہوں۔"
آج محرم کے مہینے میں جو بدعات اور رسومات اپنائی جا رہی ہیں، ان کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں۔ جیسے:
پنجے تیار کرنا انہیں لکڑیوں پر باندھ کر، کپڑوں سے ڈھانپ کر، پھولوں سے سجا کر گلیوں میں لے جانا پنجہ اٹھانے والے کو اللہ کا نمائندہ سمجھنا لوگوں کو اس سے دعائیں کروانا، بیماروں پر دم کرواناجھولے جھولنا، سینہ کوبی کرنا، شیر، ریچھ یا گھوڑا بن کر ڈرامے کرنا۔ اسراف کے ساتھ بجلی کی روشنیوں سے سجاوٹ کرنا یہ سب اعمال شرک اور بدعت کے زمرے میں آتے ہیں۔
کفار بھی اپنے معبودوں کے سامنے جھکتے تھے، ان سے حاجات مانگتے تھے۔ آج کے کچھ لوگ انہی جیسے عمل دہرا رہے ہیں۔ قرآن (4:48) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"بے شک اللہ اس کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔"
محرم میں کی جانے والی یہ بدعات شرک کے برابر ہیں۔ ایسے لوگوں کو سخت عذاب دیا جائے گا، اللہ ان پر جنت حرام کر دے گا، اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔
لہٰذا، یہ ہر سچے مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ محرم کے مہینے میں کی جانے والی ان غلط رسم و رواج کے خلاف آواز اٹھائے اور مسلمانوں کو ان سے آگاہ کرے۔
Comments
Post a Comment