امیر خسروؒ۔نایاب فضل وکمال ترتیب : محمدیوسف رحیم بیدری۔

امیر خسروؒ۔نایاب فضل وکمال ترتیب : محمدیوسف رحیم بیدری۔

(722/ویں عرس شریف سال 2026؁ء کے موقع پر) 
 بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق نے امیرخسرو کے بارے میں لکھاہے کہ ”اس سرزمین سے حضرت امیر خسرو جیسا صاحب ِ ذوق، ذی کمال وجامہ صفات شخص اب تک پیدا نہیں ہوا۔ وہ فارسی کے نہایت اعلیٰ پایہ کے شاعر ہیں۔ استادغزل شیخ سعدی مانے ہوئے ہیں۔ لیکن اگر کسی کوان کی ہمسری کا دعویٰ ہوسکتاہے تووہ حضرت امیرہیں۔ ان کے کلام کی فصاحب، روانی اور خاص کرسوزوگداز جس میں تصوف کی چاشنی بھی شامل ہے اپنا جواب نہیں رکھتی۔ یوں تو ہراہل زبان کو اپنی ہی زبان کاغرّہ ہوتاہے لیکن اہل ِ ایران اس معاملہ میں خاص طورپر ممتاز ہیں۔ وہ کسی غیرایرانی کے کلا م کوخاطر میں نہیں لاتے لیکن حضرت امیر خسرو ؒ کے سامنے انہیں جھکناپڑا (بحوالہ ”حیات امیر خسرو“نقی محمد خاں خورجوی۔ شیخ غلام علی اینڈ سنز پرنٹرپبلشرز، بندرروڈ، کراچی، صفحہ 5) 
 شاہد احمد دہلوی ایڈیٹر ساقی کراچی نے امیر خسرو کی بابت فرماتے ہیں ”افسوس کہ امیرخسرو کے کمالات کو زمانے کی نظر کھاگئی۔ سو100سے اوپران کی تصانیف تھیں۔ اب بیس 20بھی نہیں ہیں اور جو ہیں وہ بھی نایاب۔ جس شخص نے پانچ لاکھ شعرفارسی کے کہے ہوں، اس نے اس سے زیادہ نہیں تو اتنے ہی اس زمانے کی اردو کے بھی کہے ہوں گے۔ مگر آج ان میں سے چند پہیلیاں اور کچھ متفرق اشعار باقی ہیں۔ یہی حال ان کی موسیقارانہ ایجادات اوراختراعات کاہوا۔ خودخسرو کے ایک شعر سے معلوم ہوتاہے کہ انھوں نے موسیقی کے تین دفتر لکھے تھے جو تلف ہوگئے۔ جس طرح خسرو اردو کے باواآدم ہیں، 
اسی طرح کلاسیکی موسیقی کے حقیقی موجد محرح ہیں جو آج ہندوپاکستان میں رائج ہے“(بحوالہ ”حیات امیر خسرو“نقی محمد خاں خورجوی۔ شیخ غلام علی اینڈ سنز پرنٹرپبلشرز، بندرروڈ، کراچی، صفحہ 9) 
پیدائش، بھائی وغیرہ:۔ جناب معین الدین عقیل نے اپنی کتاب ”امیرخسرو۔ فرد اور تاریخ“ میں لکھاہے کہ امیر خسرو کے والد سیف الدین محمود شمس الدین التتمش کے عہدِ حکومت (1211ء - 1236ء) میں کش سے، جو ماوراء النہر کا ایک قدیم اور مشہور شہر ہے، ہندوستان آئے تھے۔ یہاں وہ التتمش کے دربار شاہی کے امراء میں منسلک ہو گئے اور انہوں نے اپنی قابلیتوں اور خوش اخلاقی کی بدولت بلند مراتب حاصل کیے۔ ان کو پٹیالی میں ایک جاگیر بھی عطا ہوئی تھی اور بارہ ہزار تنکہ سالانہ وظیفہ ملتا تھا۔ وہ ٰیہیں سکونت پذیر ہو گئے اور اس زمانے کے شاہی دربار کے ایک معزز امیر عماد الملک کی صاحبزادی سے عقد کیا، جن کے بطن سے 1253ء میں امیر خسرو پیدا ہوئے۔خسرو نے اپنے والد کو ان کے نام کے ساتھ ''امیر'' اور ''سیف شمسی'' لکھا ہے۔ وہ اپنی بہادری کے لیے مشہور تھے۔ خسرو نے ان کی امارت کے ساتھ ساتھ ان کی خدا ترسی کی بھی تعریف کی ہے۔ ان کے والد نے تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن اپنے لڑکوں کو شوق سے تعلیم دلانا چاہتے تھے۔ امیر خسرو نے ہوش سنبھالا تو تعلیم کے لیے مکتب میں بٹھا دیے گئے۔ جب وہ آٹھ سال کے ہوئے تو ان کے والد ایک معرکہ میں شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت کے بعد وہ اپنے نانا عماد الملک کی نگرانی اور سرپرستی میں آ گئے۔(ص۔ 11۔ ابوالکلام آزاد ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پاکستان۔ کراچی۔ اشاعت 1997)  
 تاریخ فرشتہ اور دولت شاہ کا حوالہ دیتے ہوئے نقی محمد خاں خورجوی لکھتے ہیں کہ ”امیرخسرو کے والد بلخ کے امراء میں سے تھے۔ اور چنگیز خانی فتنہ کے بعد ہجرت کرکے ہندوستان چلے آئے تھے۔ اور سلطان محمد تغلق کے دربار میں ایک ممتاز عہدہ پر مامورتھے۔ سیف الدین (امیرخسرو کے والد) بڑے جری اور فن سپہ گری سے بخوبی واقف تھے بالآخر ایک مہم میں جب کہ وہ کفار سے لڑرہے تھے شہید ہوگئے۔ سیف الدین کے تین بیٹے تھے۔ اعزازالدین علی شاہ، حسام الدین اور امیرخسرو۔ آپ کی عمر والد کے انتقال کے وقت ساتھ آٹھ سال کی تھی۔ آپ کی والدہ عماد الملک کی بیٹی تھیں جوامراء شاہی میں سے مشہور ومعروف شخص تھے۔ اور دس ہزار فوج کے افسر بھی تھے۔ (بحوالہ ”حیات امیر خسرو“نقی محمد خاں خورجوی۔ شیخ غلام علی اینڈ سنز پرنٹرپبلشرز، بندرروڈ، کراچی، صفحہ 34) فصیح اکمل اپنی کتاب ”امیرخسروؒ“(میوزیکل اوپیرا)میں حاشیہ کتاب ”تاریخ ہند“دوم، ص297-298ذکر امیر خسرو ؒ مؤلف سیدہاشمی صاحب فریدآبادی، رکن سرشتہء تالیف وترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کاحوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ”امیر صاحب کے سن ولادت میں اختلاف ہے ”قران سعدین“ کے ایک شعر سے خیال ہوتاہے کہ آپ 653ہجری میں پیداہوئے لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ اور تاریخ فرشتہ میں آپ کی عمر کے متعلق جو ”ہشتاد وچہار“لکھاہے (جلد دوم، ص402) وہ بھی کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ ورنہ آپ نے چوہتر 74سال کی عمر میں وفات پائی جس کے 725ہجری میں کوئی اختلاف وشبہ نہیں اور آپ کی لوح ِ تربت پر جو قطعہء وفات کندہ ہے اس سے بھی یہی حال برآمد ہوتاہے (ص4، ایم آرپبلی کیشنز دہلی، اشاعت:2010؁ء) 
مرشدِ برحق نظام الدین محبوب ِ الٰہی ؒ سے مضبوط تعلق:۔ سلطان الاولیاء حضرت خواجہ نظام الدین محبوبِ الٰہیؒ سے ان کی وابستگی اور عقیدت ان کے مذہبی جذبات اور سوزِ قلب کی آئینہ دار ہے۔ اس سیاسی افراط و تفریط کے عالم میں روح کے سکون کے لئے انہوں نے ایک ابدی پناہ گاہ تلاش کر لی تھی، اور اس تلاش میں تعلق کی سنہری گوٹ خود محبوبِ الٰہیؒ کی کرم نوازی تھی۔ حضرت امیر نے تمام و کمال اپنے مرشدِ برحق کی خدمت و رضا کے لئے وقف کر دیا تھا، اس سلسلہ میں واضح شہادتیں موجود ہیں کہ انہوں نے محبوبِ الٰہیؒ کی خاطر دربار میں بھی حق گوئی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور شاہِ مبارک سے صاف کہہ دیا کہ ”میری جان حاضر ہے آپ نہایت آسانی سے میرا سر قلم کرا سکتے ہیں، لیکن میں محبوبِ الٰہیؒ کی بارگاہ میں شرمندہ نہیں ہونا چاہتا“۔(بحوالہ فصیح اکمل کی کتاب ”امیرخسروؒ“میوزیکل اوپیرا۔ص6اور 7) 
امیر خسرو کا ہندی کلام:۔ صفدرآہ کے نزدیک ”خسرو کا ہندی کلام تبرک سے بھی کم باقی رہ گیاہے پھر اس تبرک ذخیرے میں بیشتر گیت اور چیستانیں ہیں۔ جن پر تنقید وتبصرہ کی بہت کم گنجائش ہے۔....ڈاکٹر اسپرنگر نے 1852؁ء میں سب سے پہلے خسروؔ کا ہندی کلام ’جنرل آف ایشیاٹک سوسائٹی بنگال‘ میں شائع کیا۔ امیر خسرو (ڈاکٹر وحید مرزا)یہ اردو میں خسروؔ پر سب سے جامع اور بڑی کتاب ہے۔ جسے ہندوستانی اکیڈیمی الہ آباد نے 1949؁ء میں شائع کیا۔ اس میں خسروؔکے ہندی کلام پربھی بحث کی گئی ہے جس میں کم وبیش وہ سب نکات آگئے، ہیں جو مصنف کے انگرییز مضموں میں تھے۔ یہ کتاب کئی اعتبارسے خسروؔ پر حرف ِ آخرکی حیثیت رکھتی ہے“(بحوالہ ”امیرخسرو بحیثیت ہندی شاعر۔مصنف: صفدرآہ۔ ناشر:علوی بک ڈپو، محمد علی روڈ، بمبئی۔ص۔102اور 104) 
حضرت امیرخسرو نے کتنا لکھا؟:۔ عرش ملسیانی لکھتے ہیں 
”خسرو نے بہت کچھ لکھا۔ پانچ دیوان، دس مثنویاں گویا دو خمسے اور نثر میں اعجازِ خسروی، خزائن الفتوح، افضل الفوائد، دیوانوں کے ساتھ دیباچے بھی ہیں۔ حیرت ہے کہ جو شخص سات بادشاہوں سے متعلق رہا ہو، ان کی دربار داری بھی کرتا رہا۔ باقاعدہ مصحف دار اور امیر بھی تھا، اسے کہاں سے اتنی فرصت ملی کہ ڈھائی سال میں نظامی کی پانچ مثنویوں کا جواب بھی لکھ دیا، چار لاکھ ابیات یادولاکھ شعر اس نے کہے۔ یہ کسی فارسی شاعر کا حصہ نہیں نہ فردوسی کا نہ سنائی کا نہ صائب کا۔محاربہ ہائے جنگ میں بادشاہوں کے ساتھ رہے۔ عظیم تا جدار بھی دیکھے اور بدکردار بھی۔ کہاں علاؤ الدین خلجی کی وسیع سلطنت، اس کا بے مثل معیشت کا نظام اور اس کا اونچا کردار، کہاں اس کے جانشیں قطب الدین خلجی معروف بہ مبارک شاہ کی بے راہ روی۔ بلکہ یوں کہیے کہ بدکرداری اس کا دربار ایسا تھا کہ بھانڈ، ڈومنیاں اور مسخرے یہاں بے روک ٹوک آتے اور بڑے بڑے ملکوں اور خانوں سے بدکلامی کرتے۔ نوید بھانڈ تو مادر زاد ننگا دربار میں آ جاتا۔ شریف اور ثقہ درباریوں سے فحش گفتگو کرتا۔ یہ سب کچھ خسرو کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔ اس پر بھی وہ مبارک شاہ کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔ ع۔ 
سُنہا گنج بخشا کرم گسترا
اسی بادشاہ کے لئے 65 برس کی عمر میں مثنوی ”نُہ سپہر“ لکھی جو مثنویوں میں اپنی مثال آپ ہے۔ خاص کر تیسرا سپہر جو کشورِ ہند سے متعلق ہے جس میں ہندوستان کو جنتِ عدن کہا ہے اور اس بات پر فخر کیا ہے کہ وہ میرا مولد، ماویٰ اور وطن ہے۔(بحوالہ کتا ب ”امیرخسرو۔ عہد، فن اور شخصیت“عرش ملسیانی۔ مرکز تصنیف وتالیف نکودر۔ مطبوعہ۔ جمال پرنٹنگ پریس دہلی۔ ص۔ 9) 
اُردو زبان کی ابتدائی تشکیل کو حضرت خسرونے بخشی معنویت:۔ 
ڈاکٹر طالب حسین ہاشمی نے اپنے مضمون ”اردو زبان کی بنیاد میں امیرخسرو کا حصہ:تحقیقی وتنقیدی تناظر میں“ نامی مضمون میں لکھاہے ”امیر خسرو کا شعری ذوق دربار کے جمالیاتی اصولوں سے آراستہ ضرور تھا، مگر اس میں خانقاہی اخلاص، عوامی درد اور روحانی تجربات کی وہ روشنی بھی تھی جو خالص صوفی فکر کا خاصہ ہے۔ اُن کے ہاں فارسی کی فصاحت و بلاغت، ہندوی کی سادگی اور عوامی اصنافِ سخن جیسے دوہے، گیت، کہہ مکرنیاں اور پہیلیاں ایک ایسے لسانی و فکری امتزاج کی شکل اختیار کر گئے، جنھوں نے اردو زبان کی ابتدائی تشکیل کو نہ صرف معنوی وسعت بخشی بلکہ اسے عوامی دلوں کی زبان بنا دیا۔ چنانچہ خسرو کی تخلیقی کاوشیں ایک ایسے روحانی، لسانی اور تہذیبی بیانیے کا نقطء آغاز ثابت ہوئیں، جنھوں نے اردو ادب کو شاہی ایوانوں کی محدود فضا سے نکال کر خانقاہوں کے روشن دل گیر ماحول میں نمو دی اور اردو زبان کو برصغیر کی اجتماعی روح، عوامی شعور اور تہذیبی یکجائی کا معتبر حوالہ بنا دیا۔(بحوالہ ماہنامہ ”قومی زبان“ کراچی۔ستمبر 2025؁ء۔ ص۔237) 
شریعت وطریقت کے آدمی خسرو:۔ خسرو شریعت اور طریقت کے درمیانی راستے پر چلنے والے تھے۔تصوف ان کے رگ و ریشہ میں تھا۔ حضرت شیخ نظام الدین اولیاء کے فیضِ صحبت سے فیض یاب تھے۔ انہوں نے مثنویوں اور دواوین میں اکثر مقام پر اپنے پیرِ طریقت کی منقبت بادشاہوں کی مدح سے پہلے لکھی ہے۔(ایضاً۔ ص۔ 10) 
ہندوؤں کے لئے نازیبا کلمات:۔ خسروؔ پر بعض لوگوں نے یہ الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ہندوؤں کے لئے نازیبا کلمات استعمال کئے ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مطالعہ خام ہے۔ خسرو کے نزدیک سیاسی مخالف کوئی بھی ہو، ہندو ہو یا مسلمان، منگول ہو یا تاتار، گردن زدنی ہے۔ جہاں غنیم بن کر کوئی سامنے آیا، اس کے لئے انہوں نے کوئی رعایت نہیں کی۔ ہندو راجاؤں نے جہاں جنگ لڑی ہے اور مخالف کی حیثیت سے لڑی ہے امیر خسرو نے انہیں قابلِ معافی قرار نہیں دیا۔ وہ دیوگیر کا راجہ ہو، وارنگل کا راجہ ہو یا کوئی اور ہندو صاحبِ اورنگ امیر خسرو کے پاس ان کے لئے رحم نہیں لیکن یوں وہ ہندوستان کے عاشق ہیں۔ یہاں کے رسم و رواج، تمدن، مذہب، علم و ادب اور باشندوں کی تعریف کرتے ہیں۔انہوں نے دہلی کی بہت تعریف کی ہے ؎
حضرتِ دہلی کنفِ دین و داد
جنتِ عدن است کہ آباد باد
یہاں کی تعمیرات کی خوب تعریف کی ہے۔ جامع مسجد کو کعبہ سے ملا دیتے ہیں۔ قطب مینار کو آسمان تک پہنچانے والی سیڑھی اور حوضِ کے پانی کو آبِ حیات کا آئینہ بتاتے ہیں۔ جب غیاث الدین تغلق نے تغلق آباد کا قلعہ بنایا تو اس قلعے اور اس کے حوضوں کی بہت تعریف لکھی ہے، حوض کے پانی میں عکسِ نور کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اندھا آدمی ریت کے ذروں کو شمار کر سکتا ہے۔ دہلی اور اودھ کے باشندوں کے متعلق لکھا ہے کہ بڑے خوش خلق اور مہمان نواز ہیں۔ اہل جنت کی مانند خوش دل اور خوش خو ہیں۔ صنعت، علم و ادب اور کرتبوں میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔(ایضاً۔ ص۔ 10اور 11) 
امیر خسرو سے متعلق اہم تحریریں:۔ پروفیسر سحر انصاری ”امیرخسرو اور ہم“ مضمون میں لکھتے ہیں۔ پھر جب کالج اور یونیورسٹی میں ہم پہنچے تو فارسی کے دیگر شعراء مثلاً فردوسی، رومی، نظیری، حافظ، سعدی، عرفی، غالب اور اقبال کے علاوہ زیادہ دل چسپی امیر خسرو کے کلام سے رہی۔ جب دہلی جانا ہوا تو حضرت نظام الدین اولیاء، امیر خسرو اور مرزا غالب کے مزاروں کی بھی زیارت کی اور فاتحہ خوانی کی۔’امیر خسرو اور ہم‘ کا عنوان میں نے اس لیے رکھا کہ اس سات سو برس میں امیر خسرو ہماری تہذیبی زندگی سے کبھی اوجھل نہیں رہے۔ ان کے آثارِ علمیہ کی اشاعت کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ نول کشور کے بعد علی گڑھ سے امیر خسرو کے کئی دیوان اور مثنویاں مبسوط مقدموں کے ساتھ منصہ شہود پر آئیں۔ وحید مرزا نے لندن یونیورسٹی سے امیر خسرو پر پی ایچ ڈی کیا۔ یہ مقالہ انگریزی زبان میں تھا جس کا ترجمہ اردو میں بھی ہو چکا ہے۔ خسرو کے سات سو سالہ جشن کے موقعے پر اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی۔ پیکجز لمیٹڈ کے بابر علی نے غزلیات اور قصائد کے مجموعے نہایت عمدہ طریقے سے شائع کیے۔ پروفیسر ممتاز حسین نے ایک تحقیقی کتاب ”امیر خسرو دہلوی“ کے عنوان سے تحریر کی۔ ظ۔ انصاری کی کتاب ”خسرو شناسی“ بھی اہمیت کی حامل ہے۔ ”غرۃ الکمال“ کے دیباچے کا ترجمہ پروفیسر لطیف اللہ نے کیا۔ ماہنامہ ”افکار“ کا ”خسرو ایڈیشن“ شائع ہوا جس کی ترتیب میں میرا حصہ بھی رہا۔ میں نے خسرو شناسی کے عنوان سے اداریہ لکھا اور امیر خسرو کی غزلیات کا ایک جامع انتخاب شاملِ اشاعت کیا۔ اس انتخاب میں یہ پہلو مدنظر رکھا گیا کہ خسرو کو زیادہ تر تصوف کی نسبت سے مطالعے کا موضوع بنایا گیا ہے جب کہ ان کے کلام میں موضوعات کا خاصا تنوع پایا جاتا ہے۔ چنانچہ میں نے وہ اشعار منتخب کیے جن میں سماجی مسائل، انسان دوستی، کائنات شناسی، اخلاقیات وغیرہ شامل تھے۔ دنیا کی بے ثباتی تکبر اور ظلم سے احتراز کی تلقین کے مضامین نمایاں ہیں۔)بحوالہ ماہنامہ ”قومی زبان“ کراچی۔ستمبر 2025؁ء۔ ص۔ 12) اسی حوالے پر ہم اپنی اس ترتیب کو یہیں پر ختم کرتے ہیں۔ اس سے قبل امیرخسروکا کچھ ہندوی (اردو)کلام یہاں درج کیاجارہاہے،جس میں پہیلیاں بوجھی گئی ہیں، سوائے ابتدائی شعر کے۔ ملاحظہ فرمائیں ؎ 
زحال مسکیں مکن تغافل دوراے نیناں بنائے بتیاں 
کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کا ہے لگائے چھتیاں 
ہندی بولوں آرسی آئے 
خسرو کہے کوئی نہ بتائے 
سرتو اس کا پچھ پچا،پنجے اس کے یوں 
امیر خسرو یوں کہیں کہ بیچ میں لکڑی کیوں 
برسابرس وی دیس میں آوے 
منہ سے منہ لگارس پیاوے 
جل جل جلتا بستاگاؤں 
بستی میں ناوا کا ٹھاؤں 
فارسی بولی آئی نا
ترکی ڈھونڈی پائی نا 
اندرچلمن باہر چلمن بیچ کلیجہ دھڑکے 
امیر خسرو یوں کہیں وہ دودوانگل سرکے 
جل کر بنے جل میں رہے 
آنکھوں دیکھاخسر وکہے 
آدھے کیے سے سب کو پالے 
مدھ کئیے سے سب کومارے 
بالاتھا جب سب کو بھایا
بڑا ہواکچھ کام نہ آیا

Comments