چشتیہ کالج خلدآباد میں سالانہ ثقافتی پروگرام کاشاندار انعقادکامیابی مستقل محنت کا نتیجہ ہوتی ہے طلبہ کومسلسل کوشش کرتے رہنا چاہئے : پروفیسر ڈاکٹر سلیم محی الدین۔


خلدآباد: (راست) چشتیہ کالج خلدآباد میں مورخہ 11، 12 اور 13 فروری 2026 کو سالانہ ثقافتی پروگرام شیخ محمد ایوب صدر اردوایجو کیشن سوسائٹی اورنگ آباد و جنرل سیکریٹری عبدالوحید صاحب کی رہبری و رہنمائی میں نہایت جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوا۔
11 فروری کو مختلف کھیلوں کے مقابلوں کا اہتمام ڈاکٹر شیخ افسر کی نگرانی میں کیا گیا۔ ان مقابلوں میں کرکٹ، گولا پھینک، تھالی پھینک، نیزہ پھینک اور میوزیکل چیئر جیسے دلچسپ مقابلے شامل تھے۔ ان مقابلوں کا افتتاح خلدآباد کے صدرِ بلدیہ سید عامر پٹیل، کونسلر گجانن پھلارے اور عابد جاگیر دار کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس موقع پر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سید آصف ذکریا بھی موجود تھے۔ نظامت کے فرائض پروفیسر سیف جعیدی نے انجام دیے، جبکہ ڈاکٹر شیخ افسر نے مقابلوں کی غرض و غایت بیان کی اور ڈاکٹر سید ریاض نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔ اسی دن کالج کے احاطے میں مہندی، مضمون نویسی، تقریری اور پوسٹر میکنگ مقابلے بھی منعقد کیےگںٔے۔
12 فروری کو "آنند نگری" پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس کا افتتاح صدرِ بلدیہ سید عامر پٹیل کے ہاتھوں ہوا۔ اس موقع پر عابد جاگیر دار، پرنسپل نعیم خان اور پرنسپل ڈاکٹر سید آصف ذکریا موجود تھے۔ بعد ازاں کوںٔز مقابلہ وثقافتی پروگرام (متنوع فنون کا مظاہرہ) پیش کیا گیا، جس میں طلبہ نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
13 فروری کو رانگولی مقابلہ منعقد کیا گیا، جس کے بعد انعامات کی تقسیم اور مرکزی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر سلیم محی الدین تھے، جبکہ ادارے کے نائب صدر محمد شاکر مہمان اعزازی کےطورِ پر شریک ہوئے۔ اس موقع پر عابد جاگیر دار اور ایڈووکیٹ قیصرالدین بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ تقریب کی صدارت پرنسپل ڈاکٹر سید آصف ذکریا نے کیں۔اپنے خطاب میں مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر سلیم محی الدین نے کہا کہ طلبہ اسناد اور انعامات حاصل کرنے کے لیے بے حد پُرجوش ہوتے ہیں، تاہم اگر انعام نہ بھی ملے تو انہیں مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ مسلسل کوشش جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ کامیابی مستقل محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ انہوں نے اردو ایجوکیشن سوسائٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے خصوصاً اُن علاقوں میں تعلیم کو فروغ دیا جہاں تعلیمی سہولتیں محدود تھیں، اور لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارے قائم کرکے انہیں زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا۔
محمد شاکر نے اپنے خطاب میں طلبہ کو وقت کی قدر پہچاننے کی تلقین کی اور کہا کہ طلبہ کو ہر میدان میں حصہ لینا چاہیے اور جدوجہد جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ کامیابی مسلسل کوشش سے حاصل ہوتی ہے۔تقریب کے اختتام پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے پرنسپل ڈاکٹر سید آصف ذکریا نے تعلیمی سال 2025–2026 کے دوران کالج میں انجام دی گئی مختلف تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کا جائزہ پیش کیا۔
پروگرام کی نظامت پروفیسر سنیل جادھو نے کی جبکہ ڈاکٹر اشوک بھالیراؤ نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔ اس موقع پر کالج کے اساتذہ، غیر تدریسی عملہ اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔