ماں کا روزنامچہ۔۔۔ ازقلم : ڈاکٹر فہمیدہ جميل۔۔
ماں کا روزنامچہ۔۔۔
ازقلم : ڈاکٹر فہمیدہ جميل۔۔
آج میرا لاڈلا آہستہ آہستہ چلنے لگا ہے اور اللہ الله بھی کہتا ہے
آج اس نے میرے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ کر ساتھ میں کھانا کھایا ، جو زیاده تر دستر پر ہی بکھرا پڑا تھا ـ
آج اس کے اسکول کا پہلا دن ہے مجھے بڑی فکر لاحق ہوئی ہے کہ وہ اسکول میں اتنی دیر کیسے رہے گا ـ کچھ کھایا بھی یا نہیں ، اسے بھوک لگ رہی ہوگی .
میرا بچہ آج بہت تھکا ماندہ گھر لوٹا ہے ، شائد اسکول میں اسے بہت پڑھایا گیا ہے ـ
آج اس نے ہوم ورک مکمل کرتے کرتے ہی نیند کی آغوش میں چلا گیا ہے اے کاش مجھے زیاده پڑھائی آجاتی میں اس کا سارا ہوم ورک کرڈالتی .
میرا بیٹا کلاس میں اول درجہ سے کامیاب ہوا ہے مجھے بے انتہا خوشی محسوس ہوئی اور میں نے دعا بھی کی کہ وه اسی طرح کامیابیوں کی منازل طے کرتا رہے ـ
آج میرا بچہ شہر کا بڑا آفسر بن گیا ہے ، الله تعالیٰ اسے اسی طرح کامیابیوں سے ہمکنار کرے .
آج میرے بچے کی شادی ہے الله دونوں کو سلامت رکھے تاحیات ایک دوسرے سے محبت قائم ودائم رہے
آج میرابیٹا باپ بن گیا ہے مجھے بے حد مسرت ہوئی میرا پوتا میرے بیٹے پر گیا ہے بالکل باپ ہی کی طرح نقوش ہیں منے کے .
آج مجھے بڑا دکھ ہوا کیونکہ آج پہلی بار میرے بیٹے نے بہو کے سامنے مجھے ذلیل کیا ہے
آج میں اداس ہوں ، میرے بیٹے نے مجھے جھڑک دیا ہے
آج بہو نے مجھے گالی دی ہے
آج میرے پوتے نے میرے آنسو پونچھے
آج مجھے گھر سے نکال کر اولڈ ایج ہوم میں منتقل کر دیا گیا ہے ـ
آج میری ڈائری کا آخری صفحہ ہے کیونکہ آج مجھے احساس ہوا کہ جس بچے کے لئے میں نے ساری عمر بیوگی کی زندگی گزار دی اور جس کی تعلیم کے لئے ایک ایک آنہ جوڑ کر رکھا تھا اسی نے مجھے غیر ضروری اور معمولی سمجھا ہے ـ یہ کسک اور یہ زخم دل کو کوئی بھر نہیں سکتا .
شائد یہی وجہ ہے کہ میرا دل بهاری پن محسوس کر رہا ہے اور مجھے مالک حقیقی سے بلا وا آرہا ہے
خوش رہے میرے بیٹے ... بہت سی دعائیں
تیری بد نصیب ماں۔
Comments
Post a Comment