سب سے بڑا بخیل کون؟۔ بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری استاد جامعہ اکلکواں۔


سب سے بڑا بخیل کون؟
بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری استاد جامعہ اکلکواں۔

ایک مرتبہ حضور صاحب کوثر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے دریافت فرمایا کہ بتلائیے سب سے بڑا بخیل کون ہے؟اصحاب رسول نے اپنے اپنے انداز قیافہ اور گمان سے اظہار یوں فرمایا کسی نے کہا جس کے پاس مال کی کثرت ہو اور وہ خرچ نہ کرے۔کسی نے کہا کھانا تو ہو مگر نہ کھاوے کسی نے اور بھی کچھ کہا سمجھنے کے لیے کہہ سکتے ہیں کہ ننگے پیر چلے اور جوتے کے تلے گھسنے کے ڈر سے یا جوتا میلا ہو جانے کے خوف سے یا نعلین کی پالش خراب ہونے کے اندیشے سے ننگے پیر چلے اور جوتا بغل میں دبا کر رہے کہ بارات میں ٹھاٹ مارنی ہے یوں سمجھیے کہ کپڑے تو ہیں مگر پھٹ جانے کے ڈر سے میلے ہونے کے ڈر سے استری ٹوٹ جائے گی کہ ڈر سے کپڑے نہیں پہنتا ویسے ہی پرانے اور قدیم کپڑوں سے کام چلا لیتا ہے صحیح ہے اس سے بڑا بخیل کون ہوگا ؟
واقعات میں لکھا ہے کہ ایک بڑے میاں تھے بڑے پکے نمازی لیکن بخیل بھی بڑے پائے کے بخل کے اعلی مقام پر فائز تھے ان کا ہمسر ان کے پاس پڑوس میں کوئی نظر ہی نہیں اتا تھا بخیل کیسے؟ اور چیزوں میں تو بخل کرتے ہی تھے لیکن گھر کی بتی جلانے میں بھی بخل کرتے تھے بیچارے اولاد سے بھی محروم تھے گھر میں رات کو بیوی بتی جلاتی کھاتی پیتی اتنی دیر جب کھا چکتے تو بتی بجھا دیتے نماز پڑھنے جاتے تو بتی بجھا دیتے کہ اب تو اکیلی کیا کرے گی؟بتی ہو تومیں تجھےدیکھوں! اور تو مجھے دیکھے ! اور اب میں تو باہر مسجد میں چلا تو اپ کسے دیکھو گی تو تاریکی میں انکھ بند کر کے پڑی رہو خالی خالی تیل کیوں جلاتی ہو؟ تو وہ صاحب گھر کا چراغ بجھا کر چلے جاتے اور وہ بیچاری انکھ بند کر کے پڑی رہتی ڈر بھی لگتا لیکن کرے کیا شوہر جو بخیل ہے۔ اور نامور بخیل ہے۔ جب بڑے میاں مسجد سے واپس اتے تب چراغ روشن ہوتا جب سونے لگتے پھر بجھا دیتے ایک روز ایسا ہوا کہ گفتگو کرتے کرتے کافی دیر ہو گئی اور نماز کا وقت بھی ہو گیا جلدی جلدی مسجد ائے اور چراغ بجھانا بھول گئے جیسے ہی مسجد میں قدم رکھا یاد اگیا کہ چراغ تو بجھانا بھول گئے اب ایک ہی خیال اور ایک ہی دھن یہ کمبخت بیوی چراغ بجھاتی ہے یا نہیں اور وہی بخیلانہ سوچ؛پس واپس گھر ائے تو دیکھا کہ بیوی دروازے پر کھڑی ہے اور گھر میں اندھیرا ہے دیکھ کر کہنے لگے کیوں؟کیا ہوا؟بیوی نے حیران ہو کر پوچھا کہ آپ ابھی تو گئے تھے؟ کیسے واپس اگئے؟ کہا کہ چراغ بجھانا بھول گیا تھا کہ تو بجھاتی ہے کہ نہیں مفت میں تیل جلے گا اس لیے واپس اگیا اس نے کہا ارے تم گئے اور میں نے چراغ بجھا دیا میں بھی کچی تھوڑی ہوں مگر اب مجھے تمہاری فکر پڑی ہے صاحب نے کہا میری فکر میری کیا فکر پڑی ہے؟بیوی نے کہا تم جو مسجد سے دوبارہ ائے ہو تو تمہارے جوتے تو زیادہ گھس گئے ہوں گے وہاں سے یہاں انے میں اور اب یہاں سے وہاں جاؤ گے تو ڈبل جوتے گھسیں گے اس کا مجھے بڑا افسوس ہو رہا ہے تو بڑے میاں اپنی بیوی سے بہت خوش ہوئے کہ واہ؛ شاباش؛ وفادار بیوی تو ایسی ہی ہونی چاہیے! کہ میرے جوتے کے گھسنے کا غم اور فکر اس کو لاحق ہو لیکن میں بھی کچھ کم نہیں تھا یہ دیکھ جہاں سے واپس ایا ہوں وہیں سے جوتا بغل میں دبا لیا کہ ڈبل گھسنے کی نوبت نہ ائے اور خواہ مخواہ دل پر اس کا اثر ہو اور غم سے سینہ معمور ہو لے اب یہ جوتا میں بھی وہیں جا کر پہنوں گا تو یہ تو ایک درمیانی بات تھی بخل کے سلسلے میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ نہیں اس سے بھی بڑا بخیل کون؟ تو اصحاب رسول نے فرمایا کہ ہم کو تو نہیں نظر اتا اپ ہی بتلا دیں حضور صاحب کوثر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو! اس اسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر ابخل الناس سب سے بڑا بخیل وہ شخص ہے جو میرا نام سنے اور درود پاک نہ پڑے اس محروم القسمت انسان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی بخیل نہیں اسی لیے علماء نے فقہاء نے اور علوم اسلامیہ پر در ک و تبحر رکھنے والے تمام ہی فقہاء نے یہ فرمایا ہے کہ جب بھی حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا نام نامی اسم گرامی ا جائے تو چھوٹے سے چھوٹا درود شریف صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ لیا کریں درود شریف کا اہتمام کرنے سے حضور صاحب شریعت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں 
اقربكم مني مجلسا يوم القيامه اكثركم علي صلاه. فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ شخص ہوگا جو زیادہ مجھ پر درود پڑھتا رہا ہوگا کون ایسا ہوگا جو حضور کا قرب نہ چاہتا ہوگا دنیا اخرت کی سعادت حضور علیہ السلام پر درود پڑھنے سے حاصل ہوتی ہے بندہ خدا کا محبوب اور محبوب خدا کا بھی محبوب بن جاتا ہے زندگی میں خیر برکت اور بھلائی ہی بھلائی اس کو مقدر ہو جاتی ہے
من صلى علي واحده صلى الله عليه عشرا حضور ساقی کوثر صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے میرا رب اس پر دس رحمتوں کا نزول کرتا ہے دس گناہ اس کے معاف ہوتے ہیں اور اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اللہ اکبر

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔