ہندوستان کی تاریخ۔۔ (ایک مزاحیہ انداز میں)۔ از قلم : تحسینہ ماوینکٹی۔


ہندوستان کی تاریخ۔۔
 (ایک مزاحیہ انداز میں)۔  
از قلم : تحسینہ ماوینکٹی۔

ہندوستان کی تاریخ کوئی عام تاریخ نہیں، یہ ایک ایسی داستان ہے جس میں راجے بھی ہیں، مہاراجے بھی، فقیر بھی ہیں، فلسفی بھی، حملہ آور بھی ہیں اور چائے پر بحث کرنے والے بھی۔ اگر سچ کہا جائے تو ہندوستان کی تاریخ پڑھنا کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے پورا ملک صدیوں سے ایک ہی سوال پر بحث کر رہا ہو، یہ ملک آخر چل کیسے رہا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ اتنی قدیم کہ یہاں روایتیں نئی چیزوں سے زیادہ ضدی ہیں۔ موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے لوگ نہ جانے کیا سوچتے ہوں گے کہ ہم نالیاں بنا رہے ہیں اور آنے والی نسلیں واٹس ایپ یونیورسٹی ایجاد کریں گی۔ منصوبہ بندی اُس وقت بھی شاندار تھی، بس عملدرآمد آج بھی زیرِ غور ہے۔
 پھر آریہ آئے، کہا جاتا ہے کہ وہ باہر سے آئے تھے، لیکن ہندوستان آنے کے بعد ایسا گھل مل گئے کہ آج تک کوئی فیصلہ نہیں کر پایا کہ وہ مہمان تھے یا گھر کے ہی افراد ہیں، اس کے بعد بدھ اور جین دھرم آئے، جنہوں نے ہمیں یہ سبق دیا کہ اگر دنیا بہت زیادہ شور مچائے تو خاموشی بھی ایک زبردست احتجاج ہو سکتی ہے۔ عدمِ تشدد یہاں فلسفہ بھی بنا اور حکمتِ عملی بھی۔ مغل دور آیا تو ہندوستان نے سیکھا کہ فنِ تعمیر میں دل لگاؤ اور سیاست میں تلوار چلاؤ۔ تاج محل اس بات کی زندہ مثال ہے کہ ہندوستان میں محبت بھی اتنی شاندار ہوتی ہے کہ صدیوں بعد بھی ٹکٹ لگا کر دیکھی جاتی ہے۔ اکبر نے مذہبی رواداری کی، جہانگیر نے انصاف کی کوشش کی اور اورنگ زیب نے ثابت کیا کہ تاریخ میں ہر شخص سب کو خوش نہیں رکھ سکتا۔

پھر انگریز آئے وہ بھی چائے کا کپ لئے ہوۓ، پہلے تجارت کے نام پر آئے، پھر حکومت کے شوق میں بیٹھ گئے۔ ہندوستانیوں کو بتایا گیا کہ ہم تمہیں تہذیب سکھانے آئے ہیں، اور بدلے میں ہماری دولت، زمین اور وقت لے گئے۔ ریل، قانون اور انگریزی زبان دی، مگر آزادی کے لیے ہمیں خود ہی لڑنا پڑا۔ یہ سبق بھی ملا کہ مہمان نوازی حد سے بڑھے تو میزبان ہی بے گھر ہو جاتا ہے۔
آزادی کی تحریک میں گاندھی جی آئے، جنہوں نے بغیر ہتھیار کے پوری سلطنت کو ہلا دیا۔ سچ پوچھیں تو دنیا آج تک حیران ہے کہ نمک، سچائی اور صبر سے بھی انقلاب آ سکتا ہے۔ نہرو نے خواب دکھائے، امبیڈکر نے آئین لکھا، اور عوام نے ثابت کیا کہ اختلاف کے باوجود ساتھ چلنا بھی ایک فن ہے۔ آزادی کے بعد ہندوستان نے وہ کر دکھایا جو صرف ہندوستان ہی کر سکتا تھا۔ غربت بھی رکھی، جمہوریت بھی، راکٹ بھی چلائے اور رکشہ بھی، ایک طرف چاند پر قدم، دوسری طرف گڑھے میں سڑک، مگر پھر بھی ہم مسکرائے کیونکہ مسکرانا بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہے، اور حالات سے آنکھ ملا کر جینے کا ہنر بھی، ہندوستان کی تاریخ دراصل سنجیدہ واقعات کا وہ مجموعہ ہے جسے عوام نے مزاح کے سہارے جیا ہے۔ شاید اسی لیے یہاں مسائل بھی ہیں، مگر حوصلہ ان سے بڑا ہے۔ اختلاف بھی ہے، مگر ساتھ رہنے کی ضد اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کی تاریخ کوئی سیدھی لکیر نہیں بلکہ ایک ایسا نقشہ ہے جس میں کبھی جنگ ہے، کبھی فلسفہ، کبھی سیاست اور کبھی طنز سب ایک ساتھ چلتے ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں مسائل بھی قطار میں کھڑے رہتے ہیں اور امید بھی ضد کر کے زندہ رہتی ہے۔ ہندوستان نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ تاریخ صرف کتابوں میں محفوظ نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کے رویّوں، باتوں، مزاح اور صبر میں بھی سانس لیتی ہے۔ شاید اسی لیے اتنی پیچیدگیوں کے باوجود یہ ملک آج بھی مسکرا کر کہتا ہے...کوئی بات نہیں… کسی نہ کسی طرح سب چل ہی جاتا ہے!

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔