اُردو میڈیم کے اسکول میں مراٹھی زبان کی گونج۔ ڈاکٹر علامہ اقبال اُردو ہائی اسکول رسوڑ کی ایک اچھی پہل۔

 
واشم(محمد شاکر ہمدرد) طلباء و طالبات میں اُردو زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ مراٹھی زبان کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی غرض سے اورکسی بھی ریاست کی سرکاری زبان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اسی لیےاسکول ہذامیں مادری زبان کے ساتھ ساتھ طلبہ کو مراٹھی زبان کا علم حاصل ہو، وہ مراٹھی بولنے اور لکھنے کے قابل بنیں اور مراٹھی مطالعہ کا ذوق پیدا ہو، اسی مقصد کے تحت مختلف مراٹھی اخبارات کا مطالعہ کروایاجاتا ہے اور ہفتے میں ایک دن یومِ مطالعہ و ترغیبِ خواندگی کے طور پر منایاجاتا ہے۔ طلبہ میں مراٹھی زبان سے رغبت پیدا کرنے کے لیے استاذ محترم معین رضا ، ادارے کے صدر محترم کی ہدایت پر یہ سرگرمی کامیابی سے انجام دے رہے ہیں۔
معلوم ہوکے اسکول کی بنیاد سن 2000 میں رکھی گئی تھی۔ تب یہ لگائے گئے ایک ننھے پودے کی مانند تھا، جو آج ایک سایہ دار برگد کے درخت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اسکول میں پرائمری تا جونیئر کالج تک ایک ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن میں طالبات کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے۔اسکول انتطامیہ کی دور اندیشی اور سخت محنت کے ذریعے معاشرے میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیاجا رہا ہے۔ ایک زمانے میں تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جانے والا سماج آج تعلیمی دھارے میں شامل ہو چکا ہے اور لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
      اسکول میں تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر سرگرمیاں بھی منعقد کی جا رہی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ طالبات کے لیے جم اور ورزش کی تربیت دینے والی خاتون ٹرینر کی سہولت رکھنے والا یہ ضلع کا واحد اُردو اسکول ہے، مسابقتی امتحانات میں طلبہ کی کامیابی کی شرح بڑھانے اور دسویں و بارہویں کے بعد ریاستی لوک سیوا، پولیس اور تحصیلدار ،بھرتیوں کے لیے مراٹھی زبان ضروری ہونے کے باعث، دیگر مضامین کے ساتھ مراٹھی میں طلبہ پیچھے نہ رہے اس ایک مقصد کے لیے مراٹھی کی خصوصی کلاس کا اہتمام کیاجارہا ہے۔
 معلوم ہو کہ اسکول میں اُردو ذریعۂ تعلیم کے تحت تعلیم دی جاتی ہے، تاہم ریاست کی سرکاری زبان مراٹھی ہونے کے باعث مراٹھی زبان سیکھنا نہایت اہم ہے۔ دوسرے اور اہم مقصد کے پیشِ نظر طلبہ کو مراٹھی اخبارات کے مطالعے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اسکول میں مختلف اقسام کے مراٹھی اخبارات دستیاب کرائے گئے ہیں۔ اس تعلیمی مہم میں عالی جناب پرنسپل ضمیر احمد خان اہم کردار ادا کرتے ہوئے طلبہ کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ۔اور خصوصی کلاس بھی لے رہے ہیں۔مراٹھی اخبارات کے مطالعے سے طلبہ کو سیاسی، سماجی اور ثقافتی میدانوں سے متعلق معلومات حاصل ہوتی ہیں، اور مراٹھی زبان سیکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
       یوں تو آج اُردو میڈیم کے سیکڑوں اسکول چل رہے جس میں اکثر تعلیمی کم کاروباری زیادہ نظر آتے ہیں ۔لیکن اسکول ہذا نے مسلم سماج میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسکول کے بانی و صدر سوسائٹی عالی جناب محمد کبیر محسن، کی مسلسل کاوشوں اور رہنمائی میں اسکول دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔