ڈرامے کے مصنف سعید حمید کو ’’سوامی ویویکانند ساہتیہ سمان‘‘ سے نوازا جائے گا۔
ممبئی: آئیڈیا (IDEA) کے معروف اور مقبول اسٹیج ڈراموں میں شامل ڈرامہ ’’سوامی ویویکانند‘‘ اپنی پیشکشوں کی تعداد کے اعتبار سے ایک نئے سنگِ میل کو چھونے جا رہا ہے۔ اس ڈرامے کا 200واں خصوصی شو 15 فروری کو شام 5 بجے چوبارہ، ویدا فیکٹری، آرام نگر-2 میں منعقد ہوگا۔ اس تقریب کی خاص بات یہ ہے کہ ڈرامے کے مصنف اور سینئر صحافی سعید حمید کو اسی ڈرامے کی تحریر کے اعتراف میں ’’سوامی ویویکانند ساہتیہ سمان‘‘ سے سرفراز کیا جائے گا۔
سوامی ویویکانند کی زندگی کے مختلف گوشوں پر مبنی شاندار اسٹیج پرفارمنس :
سعید حمید کی تحریر کردہ اس پیشکش میں سوامی ویویکانند کی زندگی کے کئی کم معروف پہلوؤں کو نہایت سلیقے اور دلنشین انداز میں اسٹیج پر پیش کیا گیا ہے۔ ان کے بچپن سے لے کر گھرانے میں پروان چڑھنے والی تربیت، والدہ کے اثرات اور خاندانی ماحول کو حقیقت نگاری کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔
ڈرامے میں باپ کی وفات کے بعد خاندان پر پڑنے والے مالی بوجھ اور سوامی جی کے قربانی، ایثار اور ذمہ داری کے احساس جیسے جذباتی نکات اس طرح پیش کیے گئے ہیں کہ ناظرین کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
راجہ اجیت سنگھ کی سرپرستی اور شکاگو کا سفر :
تاریخی حقیقت کے مطابق، 1893 میں شکاگو میں منعقدہ عالمی مذاہب کی پارلیمنٹ میں شرکت کے لیے سوامی ویویکانند کے سفر کا انتظام کھیتری کے راجہ اجیت سنگھ نے کیا تھا، جسے ڈرامے میں نہایت سلیقے کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔
پرم ہنس سے ملاقات—ڈرامے کی روح :
ڈرامے کا ایک اہم اور روحانی پہلو سوامی جی کی پرم ہنس شری رام کرشن سے ملاقات اور ان کی روحانی وراثت کو سنبھالنے کا عہد ہے، جسے اسٹیج پر غیر معمولی تاثیر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
شکاگو کی تاریخی تقریر—ڈرامے کا نقطۂ عروج :
ڈرامہ اپنے عروج پر اس وقت پہنچتا ہے جب اسٹیج پر سوامی ویویکانند کی شکاگو میں کی گئی وہ تاریخی تقریر پیش کی جاتی ہے جس نے دنیا بھر میں ان کی پہچان کو نئی بلندی عطا کی۔ اس منظر کو ہمیشہ سے ڈرامے کی جان سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کی وطن واپسی اور مختلف طبقاتِ فکر سے ملاقاتیں ڈرامے کو مزید وسعت اور گہرائی عطا کرتی ہیں۔
ایک یادگار شام :
ڈرامہ ’’سوامی ویویکانند‘‘ کا یہ 200واں شو فن، تاریخ، جذبات اور روحانیت کا حسین امتزاج ثابت ہوگا۔ ساتھ ہی ڈرامے کے مصنف سعید حمید کو ’’سوامی ویویکانند ساہتیہ سمان‘‘ سے نوازا جانا اس شام کو مزید اہم اور یادگار بنا دے گا۔
مزید معلومات اور رابطے کے لیے: 9821044429
Comments
Post a Comment