بجرنگ دل پر فوری پابندی عائد کی جائے اور ملک میں دستور کے مطابق جینے کے حقوق کی پامالی سے بچایا جائے۔۔۔۔ انجم انعامدار۔
بجرنگ دل پر فوری پابندی عائد کی جائے اور ملک میں دستور کے مطابق جینے کے حقوق کی پامالی سے بچایا جائے۔۔۔۔ انجم انعامدار۔
پونے(محمد مسلم کبیر)اتراکھنڈ کے کوٹدوار میں پیش آیا واقعہ محض ایک دکاندار کے ساتھ ہونے والی ناانصافی نہیں ہے، بلکہ یہ ہندوستان کے آئین، جمہوریت اور مذہبی آزادی پر کیا گیا کھلا دہشت گردانہ حملہ ہے۔ ایک مسلم دکاندار نے اپنی دکان کا نام “بابا” رکھا، اسی بنیاد پر بجرنگ دل کے کارکنان کی جانب سے اسے دھمکانا، خوف و ہراس پھیلانا اور زبردستی نام بدلوانے کی کوشش کرنا آخر کس قانون کے تحت کیا جا رہا ہے؟ آج یہ سوال پورا ملک پوچھ رہا ہے۔کوٹدوار میں بجرنگ دل کے غنڈوں نے سڑکوں پر جمع ہو کر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ “نام بدلو، ورنہ نتائج بھگتو” جیسی دھمکیاں دے کر انہوں نے علاقے میں دہشت کا ماحول پیدا کیا۔ اس دہشت کے خلاف انسانیت کا علم بلند کرتے ہوئے، ہندو ہونے کے باوجود دیپک کمار آگے آئے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا:"میرا نام محمد دیپک ہے، ہندوستان میں نام اور مذہب کی بنیاد پر کسی پر زبردستی نہیں چل سکتی۔"
لیکن آئین کی آواز اٹھانے والے دیپک کمار پر ہی بجرنگ دل کے کارکنوں نے حملہ کر دیا۔ یہ حملہ صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ انسانیت پر حملہ ہے۔
آج بجرنگ دل جیسی تنظیمیں پورے ملک میں کھلے عام دہشت پھیلا رہی ہیں۔ اتراکھنڈ میں اس سے پہلے بھی عیسائی اور مسلم اقلیتی طبقے پر ظلم، دھمکیوں اور مارپیٹ کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، اس کے باوجود حکومت آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔ سوال صاف ہے ، کیا یہ حکومتوں کی خاموش رضامندی نہیں؟
اگر مذہبی انتہاپسند طاقتوں کو یوں ہی کھلی چھوٹ دی گئی تو کل ملک جل اٹھے گا، آئین ختم ہو جائے گا اور بھائی چارہ برباد ہو جائے گا۔ اس لیے اب یہ محض گزارش نہیں بلکہ صاف انتباہ ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومت ، بجرنگ دل پر مستقل پابندی عائد کی جائے، دیپک کمار پر درج جھوٹی ایف آئی آر فوری طور پر واپس لی جائے، ان کی بیٹی پر اسکول میں عائد پابندی ختم کی جائے، کوٹدوار میں صحافیوں پر لگائی گئی پابندی ہٹائی جائے۔ا ن مطالبات کو لے کر آج پونے ضلع کلکٹریٹ کے سامنے، مول نِواسی مسلم منچ کے صدر انجم انعامدار کی قیادت میں دھرنا آندولن کیا گیا اور پونے کی ریزیڈنٹ ڈپٹی کلکٹر محترمہ جیوتی کدم کو تحریری یادداشت پیش کی گئی۔
اس موقع پر بھولا سنگھ اروڑا (صدر، گردوارہ گنیش پیٹھ)، راجن نائر (عیسائی مہا سنگھ)، سگئی نائر، بھیم آرمی تنظیم کے ریاستی رہنما ایڈووکیٹ توصیف شیخ، ایڈووکیٹ کرانتی سہانے، اسماء شیخ، حلیمہ شیخ، سلیم مولا پٹیل، ابراہیم ایوتمل والا، ستیہ وان گایکواڑ، سلیم شیخ، معین شیخ، گووند ساٹھے سمیت کئی معزز شخصیات آندولن میں شامل ہوئیں۔
MD.MUSLIM KABIR,
Distt. Correspondent,
URDU MEDIA
Email, alkabir786@gmail.com
Cell- 09175978903/8208435414
Comments
Post a Comment