ماہ رمضان المبارک فضائل و احکام۔۔۔ ازقلم : مفتی عبیدالرحمن قاسمی ظہیرآبادی۔
ماہ رمضان المبارک فضائل و احکام۔۔
ازقلم : مفتی عبیدالرحمن قاسمی ظہیرآبادی۔
استاذ حدیث جامعہ حنفیہ للبنات ظہیرآباد۔
ماہ رمضان المبارک ہجری و قمری سال کا نواں مہینہ ہے، جو سال کے بارہ مہینوں میں انتہائی عظمت و فضیلت کا حامل ہے، یہ مہینہ نیکیوں کا موسم بہار ہے جس میں رحمت الہی پر جوش ہوتی ہے،اس ماہ میں حق تعالی کی جانب سے رحمتوں بخششوں اور مغفرتوں کا سیلاب امنڈتا ہے، قرآن وحدیث میں جس کے تعلق سے بہت سے فضائل واحکام وارد ہوئے ہیں، خود اللہ تبارک و تعالی نے شہر رمضان الذی کے ذریعے سے اس ماہ کی عظمت کو بیان فرمایا ہے، یہ وہ واحد مہینہ ہے جس کا ذکر قرآن میں صراحت کے ساتھ آیا ہے یہ وہ عظیم مبارک اور مقدس مہینہ ہے جس میں حق سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے انوارات وبرکات کا ظہور موسلہ دھار بارش کی طرح ہوتا ہے رمضان کا لفظ رمض سے بنا ہے جس کے معنی آتے ہیں جلانا چونکہ یہ مہینہ مسلمانوں کے گناہوں کو جلا دیتا ہے اس لیے اس کو رمضان کہا گیا
رمضان کے پانچ حروف اور ان میں پوشیدہ برکات :
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے غنیۃ الطالبین میں لکھا ہے: کہ اس مہینے کا ایک ایک حرف اس مہینے کی صفت کو ظاہر کرتا ہے، چناں چہ رمضان کی راء بتاتی ہے کہ رحمت کا مہینہ ہے ،رمضان کی میم بتاتی ہے کہ مغفرت کا مہینہ ہے، رمضان کی ض بتاتی ہے کہ ضمانت یعنی جنت کی ضمانت کا مہینہ ہے، رمضان کا الف بتاتا ہے کہ الفت و انس کا مہینہ ہے، رمضان کا نون بتاتا ہے کہ نورانیت کا مہینہ ہے،مطلب یہ ہے کہ جو اس مہینے کا احترام کرے گا اور اس کی قدر کرے گا اللہ تبارک و تعالی اس کو انعامت سے نوازیں گے۔
رمضان کی آمد سے قبل نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کی تیاری :
ماہ رمضان کی آمد سے دو ماہ قبل ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے کی برکات کو حاصل کرنے کے لیے دعا کرتے تھے اور رمضان المبارک کی تیاری شروع کر دیتے اور آپ کے روزانہ کے معمولات میں اضافہ ہوجاتا تھا جب شعبان کا مہینہ آتا رمضان کی صحیح تعیین کے لیے شعبان کے چاند اور تاریخوں کویاد رکھنے کا بڑا اہتمام کرتے اور اتنی کثرت سے روزے رکھا کرتے؛کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: کہ مجھے گمان ہوتا کہ آپ ﷺ شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں سے ملا دیں گےاور صحابہ بھی رمضان کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شعبان کا چاند دیکھ کر قرآن کریم کی تلاوت میں اضافہ فرماتے مسلمان اپنے مال سے زکوۃ بھی نکالا کرتے تاکہ غریب اور مسکین لوگ فائدہ اٹھا سکیں اور ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے لیے ان کا کوئی وسیلہ بن جائے اور ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی غسل کرتے اور اعتکاف میں بیٹھ جاتے (غنیۃ الطالبین)
ماہ رمضان المبارک کی عظمت :
جس طرح موسم بہار کی آمدسے قبل آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ باد بہاری چلنے والی ہے اور صبح کی سفیدی روشن دن کے آنے کی خبر دیتی ہے ، اس طرح اللہ رب العزت نےاس ماہ مبارک کی آمدسے قبل ہی اس کے فیوض وبرکات کے ایک حصہ کا آغاز ماہ شعبا ن سے شروع فرمادیا ہے ، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی تیاریوں میں مشغول رہتے، صحابہ کرا م رضوان اللہ تعالی اجمعین کے سامنے رمضان المبارک کی عظمت واہمیت بیان فرماتے پھرجب شعبان کے آخری ایام آتے تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استقبال رمضان پر تقریر فرماتے اورلوگوں کو خیر کے کاموں کی طرف ابھارتے جس سلسلے میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت نہایت جامع اور عظیم الشان ہے جو اس ماہ کی عظمت و فضیلت کو اجاگر کرتی ہے
حضرت سلمان فارسی ؓ روا یت کرتے ہیں کہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ ﷺنے ہمیں ایک خطبہ دیا اور اس میں فر مایا :اے لوگو!تم پر ایک عظمت اور برکت والامہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے اس مہینے میں ایک رات شب قدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ،اس مہینے کے روزے اللہ تعالی نے فر ض کیے ہیں اور اس کی راتوں میں قیام یعنی تراویح کو سنت کیا ہےجو شخص اس مبارک مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی نفل عبادت کرے گا تو اس کا ثواب فرض کے برابر ملے گا اور اس مہینے میں فرض نیکی کا ثواب ستر فرائض کے برابر ملے گا ،یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کابدلہ جنت ہے ،یہ ہمدردی و غم خواری کا مہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کردیا جاتا ہے جس نے اس مہینہ میں کسی روزہ دار کو (اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے)افطار کرایا تو یہ اس کے لیے گناہوں کی مغفرت او دوزخ کی آگ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کمی کی جا ئے ،آپﷺ سے عرض کیاگیا کہ یا رسول اللہ ! ہم میں ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان مہیا نہیں ہوتا تو (غریب لوگ اس عظیم ثواب سے محروم رہیں گے ؟)آپ ؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو ایک کھجور یا دودھ کی تھوڑی لسی پریا صرف پانی ہی کے گھونٹ پرکسی کا روزہ افطار کرادے ،اس کے بعد آپ نے فر مایا کہ اس مبارک مہینہ کا پہلا حصہ رحمت ہے ،درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ دوزخ کی آگ سے آزادی ہے ،جو آدمی اس مہینے میں اپنے غلام و خادم کے کام میں ہلکا پن اور کمی کردے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فر ما دے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی دے گا ،اور اس مہینہ میں چار چیزوں کی کثرت رکھا کرو جن میں دو چیزیں ایسی ہیں جن کے ذریعہ تم اپنے رب کو راضی کرسکتے ہو ،اور دو چیزیں ایسی ہیں جن سے تم کبھی بے نیاز نہیں ہوسکتے وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری چیزیں یہ ہیں کہ جنت کا سوال کرو اور دوزخ سے پناہ مانگو ،اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پانی سے سیراب کرے اس کو اللہ تعالی (قیامت کے دن )میرے حوض (کوثر )سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائے (بیہقی)
اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔
عَنْ ابي ھریرۃ رضی اللہ عنہ یقول: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اذا دخل شھر رمضان فتحت ابواب الجنۃ، و غُلِّقَتْ ابوابُ جھنمَ، و سُلْسِلتِ الشیاطین(بخاری و مسلم)
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں، شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔
روزہ کی فضیلت واہمیت :
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک انتہائی عظیم الشان مہینہ ہے اس میں کی جانے والی ہر عبادت قابل قدر اور باعث اجر ہے لیکن شریعت اسلامیہ کی طرف سے اس مہینے میں کچھ خاص عبادت ایسی ہیں جن کی ادائیگی ہر مسلمان کے اوپر ضروری بھی ہے اور ان کے ادا کرنے سے اللہ رب العزت کا انتہائی قرب حاصل ہوتا ہے اس ماہ کی اہم ترین عبادات میں سے ایک عبادت روزہ ہے قران مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے یٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ أَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ۔‘‘ (البقرۃ)
’’اے ایمان والو! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ، چند روز ہیں گنتی کے۔‘‘
اس آیت کی وجہ سے شریعت اسلامیہ نے رمضان المبارک کے روزے امت مسلمہ پر فرض کئے ہیں چناں چہ ہر مسلمان مرد وعورت، عاقل، بالغ پر رمضان المبارک کے روزے رکھنا فرض ہے،شریعت میں روزے کا مطلب ہے کہ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک روزے کی نیت سے کھانا، پینا اور ہمبستری چھوڑ دیا جائے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِ يْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَه. مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه.( بخاری)’’جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘
ایک دوسری حدیث میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
کلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِها إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی مَا شَائَ اﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالَی : إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِی، وَأَنَا أَجْزِی بِهِ.
بنی آدم کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا اﷲ چاہے بڑھادیا جاتا ہے حدیث قدسی میں ﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے : روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔‘‘
نماز تراویح کی فضیلت و اہمیت :
اس ماہ کے دوسری خاص اہم عبادت نماز تراویح ہے، ہر مسلمان کے لیے بیس رکعات نماز تراویح ادا کرنا سنت موکدہ ہے، جس کی حدیث میں فضیلت آئ ہے، اور خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے نماز تراویح کی مداومت فرمائی ہے، چنانچہ حضور اکرم ﷺکا ارشاد ہے کہ ’’میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو اپنے اوپر لازم کرلو‘‘۔ خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز تراویح ادا فرمائی اور اسے پسند فرمایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
من قام رمضان إيماناً واحتساباً، غفر له ما تقدم من ذنبه»".(بخاری) ’’جس شخص نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا (یعنی نماز تراویح ادا کی)، اس کے اگلے سب گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘ ، پھر اس اندیشہ سے کہ کہیں امت پر فرض نہ ہو جائے، آپﷺ نے ترک فرمائی۔خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان کی ایک شب مسجد میں تشریف لے گئے اور لوگوں کو متفرق طورپر نماز پڑھتے دیکھا۔ آپؓ نے فرمایا ’’میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ سب کو ایک امام کے ساتھ جمع کردوں تو بہتر رہےگا ‘‘۔ اس طرح آپ ؓنے ایک امام حضرت ابی بن کعب ؓکے ساتھ لوگوں کو اکٹھا کردیا اس وقت سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ کا سرکار تراویح پڑھنے پر اجماع چلا آرہا ہے
قرآن مجید کی تلاوت واہمیت :
اس ماہ کی تیسری خاص عبادت قران مجید کی تلاوت ہے کیونکہ اس ماں کی قرآن مجید کے ساتھ ایک خاص نسبت ہے اسی ماہ میں قرآن مجید کا نزول ہوا ہے یہ مہینہ گویا قرآن کے جشن کا مہینہ ہے ہزاروں لاکھوں کروڑوں قرآن اس مہینے میں تکمیل کیے جاتے ہیں
خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کو قران کا دور سنایا کرتے تھے قران ایک ایسی مقدس عظیم اور بابرکت کتاب ہے جس کے ایک حرف کی تلاوت پر اللہ تعالی کی جانب سے دس نیکیوں کے دینے کا وعدہ ہے اور رمضان میں ایک نیکی کا ثواب ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے
اس کے علاوہ بہت ساری فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اس لیے رمضان میں قرآن مجید کی تلاوت کا خوب اہتمام کریں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے سال بھر میں دو مرتبہ قرآن مجید مکمل کرنا یہ قرآن کا حق ہے۔
الحاصل قرآن وحدیث میں رمضان المبارک کی بہت زیادہ فضیلت اہمیت بتائ گئی ہے لہذا اس مبارک ماہ میں عبادتوں کا خوب اہتمام کیا جائے کیونکہ ایک لمحہ بھی عبادت ِ الٰہی سے غافل رہنا خیر کثیر سے محرومی کا سبب ہے، اگر کسی مسلمان سے اس میں کوتا ہی ہو جائے اور عبادتیں ترک ہو جائے پھر بندہِ مومن اس کی پابجائی کیلئے زندگی تمام عبادت کر لے تو وہ ثواب وانعام حاصل نہیں ہوسکتا جو اسے رمضان میں مل سکتا تھا۔
Comments
Post a Comment