انسان کی ابتدا اور قدرت کا فیصلہ۔۔ ازقلم : پروفیسر مختار فرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔


انسان کی ابتدا اور قدرت کا فیصلہ۔
ازقلم : پروفیسر مختار فرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔

قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ‎﴿٣٨﴾‏ سورة البقرة 
ہم نے کہا کہ تم سب یہاں سے نیچے اتر جاؤ پھر اگرتمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے پس جو میری ہدایت پر چلیں گے ان پرنہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے.
یہ بہت واضح اور بہت اہم حکم خداوندی ہے۔ انسان کو زمین پر اتار دیا گیا مگر بغیر گائیڈنس کے چھوڑ نہیں دیا گیا۔ آدم علیہ السلام کو ساتھی کے طور پر حوا علیہ السلام کو پیدا کیا گیا۔ ایک ہی بیوی سے ابتدا ہوئی۔ 
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ۖ
وہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑ بنایا تاکہ اس سے آرام پائے. بیوئی اس لئے تخلیق کی گئی کہ آدمی سکون پائے۔ انسان نے جملوں کو کئی اصطلاح میں بانٹا ہے، یہ جملہ حیرت ظاہر کرتا ہے۔ مگر ہم جو پیغام اللہ کے طرف سے آئے اس پر دونوں میاں بیوی پوری طور سے عمل پیرا ہوں تو یقیناً سکون حاصل ہوگا ۔ 
وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثًا ‎﴿٨٧) 
 اور الله سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہو سکتی ہے۔ 
اللہ نے ہر قوم اور زمانے میں انسانوں کے فلاح و بہبودی کے لئے انسانوں میں سے ہی پیغمبر اور رسول بھیجے۔ 
 يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ‎﴿١٣﴾‏. سورۃ الحجرات 
ا ے لوگو ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے خاندان اور قومیں جو بنائی ہیں تاکہ تمہیں آپس میں پہچان ہو بے شک زیادہ عزت والا تم میں سے الله کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے بے شک الله سب کچھ جاننے والا خبردار ہے. 
انسان کی تخلیق اور اس کے درجات پر اللہ نے صاف طور پر یہ کہا کہ اللہ کے نزدیک سب سے مقرب وہ بندہ ہے جو تقوی میں عالیہ ہو۔ 
انسان کا مقصد یہ ہونا چاہیۓ کہ اللہ کا محبوب بندہ کسے بنے۔ پہلے ہم تقوی کے اصل مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں 
بہت آسان لفظوں میں تقوی یعنی روز مرہ کی زندگی میں اپنے آپ کو اس طرح بچا کر چلنا کوئی بھی اللہ سے بےوفائی کا امکان نا رہے۔ پوری طور سے مطیع و فرمانبردار ہوں۔ اللہ نے جس کام سے منع کیا ہے اس سے بچے اور جو کام کا حکم دیا ہے، وہ کریں۔ 
ایک مرتبہ صاحبہ اکرام تقوی کے بارے میں غور و خوض کررہے تھے۔ حضرت عمر ابن الخطاب نے اوبئ بن قاب سے پوچھا جو صاحبِ رسول اور عالم تھے۔ اوبئی تم بتاؤ کہ تقوی کیا ہے۔ انھوں نے کہا عمر کبھی آپ کا گزر ایسی جگہ سے ہوا ہے جو کانٹوں بھری جھاڑیوں سے ہوئی ہو، تو تم کیا کروگے۔ حضرت عمر نے جواب دیا، میں اپنے کپڑے سمٹ لوں گا اور بچتے ہوئے چلوں گا کہ کانٹے میرے لباس میں الجھ نا جائیں۔ تو اوبئی نے جواب دیا سمجھ لو یہی تقوی ہے۔ 
انسان اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے یعنی آخیرت کے کامیاب انجام تک پہنچنے کے لئے ہر کانٹے سے بچ کر چلے۔ اور شیطان کے نقش قدم پر نا چلے ۔
سورۃ الحجرات کی یہ آیت انسان کے اللہ سے قربت حاصل کرنےکے ساتھ اس بات کی مزید وضاحت کرتی ہے۔ سارے انسان ایک ہیں، ایک ہی ماں اور ایک ہی باپ کی اولاد ہیں۔ مختلف علاقوں جو لوگ الگ الگ بس گئے وہ صرف ایک دوسرے کو جاننے کےلئے ہیں۔ علاقائی تقسیم ایک پہچان کا ذریعہ ہے۔ زبان کا اختلاف بھی یہ ظاہر کرتا ہے۔ بات چیت کا لہجہ بھی انسان کی پہچان بتاتا ہے۔ اگر کوئی اردو بولتا ہے، مگر اس کے لحجہ سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ شمالی ہندوستان سے ہے، یا جنوبی ہندوستان سے ہے۔ جنوب سے ہے تو حیدرآبادی ہے یا بنگلوری ہے، یا کیرالہ سے ہے۔ یہ تقسیم لسانی ہے۔
مگر اسلام نے کسی انسان کو اونچا یا نیچا نہیں بنایا ناہی اسے رزق، دولت، مرتبہ میں کوئی مقام سے نوازا ہے۔ مگر انسانوں نے حسب مروجہ دستور کسی کو شیخ کسی کو سید بنادیا۔ 
یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو 
یہ سارا تماشہ صرف ہماری قرآن سے دوری کی وجہ سے ہے۔ قرآن کا اصل مقصد چھوڑ کر ہم صرف ثواب کی خاطر تلاوت کرتے ہیں۔ اس پر مجھے ایک نظم دین خیال شرما جو ہمارے ہندوستان کے صدر جمہوریہ رہ چکے ہیں یاد آئی " قرآن کی فریاد" 
طاقوں میں سجایا جاتا ہوں۔ آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں 
تعویذ بنایا جاتا ہوں ۔ دھو دھو کے پلایا جاتا جاتا ہوں۔ 
جس طرح طوطا مینا کو۔ کچھ بول سیکھانے جاتے ہیں 
اس طرح پڑھایا جاتا ہوں ۔ اس طرح سیکھا یا جاتا ہوں 
جب قول و قسم لینے کے لیے ۔ تکرارِ کی نوبت آتی ہے
پھر میری ضرورت پڑتی ہے ۔ ہاتھوں پر اٹھایا جاتا ہوں 
یہ مجھ سے عقیدت کے دعوے ۔ قانون پر راضی غیروں کے
یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں ۔ ایسے بھی ستایا جاتا ہوں 
کس بزم میں میرا ذکر نہیں ۔ کس عرس میں میری دھوم نہیں
پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں۔ مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں۔ 
اس نظم کے ہر لفظ میں گہرا درد چھپا ہوا ہے ، مگر ہمارے دل احساس سے خالی ہوچکے ہیں۔ نا قرآن کی فریاد ہم سن سکتے ہیں نا ہی ان الفاظ کو سمجھ سکتے ہیں۔ قرآن ان الفاظ کو اس طرح بیان کرتا ہے 
‏ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا ‎﴿٢٤﴾‏ سورۃ محمد۔ 
پھر کیوں قرآن پر غور نہیں کرتے کیا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔ 
یہ بہت سخت ترین الفاظ ہیں۔ دلوں میں تالے لگنا، دو معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ یا تو مردہ دل یا بے حس دل جو انسان نہیں جانور کا ہوتا ہے۔

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ ‎﴿١٧٩﴾‏ سورۃ الاعراف 
اور ہم نے دوزخ کے لیے بہت سے جن اور آدمی پیدا کیے ہیں ان کے دل ہیں کہ ان سے سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں کہ ان سے دیکھتے نہیں اور کان ہیں کہ ان سے سنتے نہیں وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی گمراہی میں زیادہ ہیں یہی لوگ غافل ہیں۔ 
جو انسان عقل کا استعمال نہیں کرتے وہ انسانوں کے زمرے نہیں آتے، انھے اللہ نے آنکھیں دیں ہیں مگر جس کام کے لیے آنکھیں ہیں وہ اس کام کے لئے استعمال نہیں۔ اللہ نے کان دیں ہیں تاکہ وہ سننے کے لئے استعمال کریں مگر کان بند کرکے اپنے ہی دھیان میں بے سمجھے بوجھے زندگی کے دن پورے کرتے ہیں بہت بے دلی سے ۔ ان کی زندگی جانورں سے بدترہے۔ اور ہمے زعم ہے کہ ہم امت محمدی ہیں اور جنت میں جانا طے ہے۔ یہ سارے رنگین خواب دھرے کے دھرے رہ جائیں گے جب سرکاری وکیل یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر عظیم جج کائنات کے مالک اور مالک یوم الدین جنت و دوزخ کا فیصلہ کرنے والا کو کہیں گے۔ اے میرے اللہ میں نے تیرا پیغام لوگوں تک پہنچا دیا تھا اور تو گواہ ہے جب عرفات کے میدان میں اپنی شہادت انگلی اٹھا کر سارے مجموعے کے سامنے یہ الفاظ دوہرائے تھے کہ میں نے نے اپنا فرض ادا کیا۔ 
اس کے فوراً بعد شکایت درج کریں گے۔ 
‏ وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ‎﴿٣٠﴾‏ سورۃ الفرقان 
اور رسول کہے گا کہ "اے میرے رب، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا چھوڑ رکھا تھا۔ 
سرکاری وکیل کے پاس زبردست ثبوت ہیں۔ ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ بلکہ ہمارے اعضاء اعضاء ہمارے خلاف گواہی دیں گے ۔
‏ يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ‎﴿٢٤﴾‏ سورۃ النور 
وہ اس دن کو بھول نہ جائیں جبکہ ان کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔ 
 حَتَّىٰ إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ‎﴿٢٠﴾‏ وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا ۖ قَالُوا أَنطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ‎﴿٢١﴾‏۔ سورۃ فصلت۔ 
پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے "تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟"وہ جواب دیں گی "ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو۔ 
لوگوں ڈرو اس دن سے جب سارے فیصلے ہمارے خلاف جائیں گے۔ اس کی صرف ایک وجہ ہے۔ ہم نے قرآن کو طاقوں میں سجا رکھا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ