کھیت میں کام کرنے والی خواتین ہمت و شجاعت کی مثال۔۔ازقلم : فردوس انجم بلڈانہ مہاراشٹر۔


کھیت میں کام کرنے والی خواتین ہمت و شجاعت کی مثال۔۔
ازقلم : فردوس انجم بلڈانہ مہاراشٹر۔ 

انسانی زندگی کی کتاب میں عورت ایک  ایسا باب ہے جسے پڑھتےوقت واقعی میں عجلت برتی گئی ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ روز ازل سے ہی عورت مرد کے مقابل رہی ہے۔ ہر کام اور ہر گام میں اس نے برابر کی شراکت کی ہے۔ لیکن اس کی خاموش آواز کو زمانے نے کہی جگہ ہی نہیں دی ۔ عورت اس صدیوں کے سفر میں مرد کو خاموشی سے بس مسکراتے ہوۓ دیکھ رہی ہے۔ یہ مسکراہٹ ایک پہیلی ہے ۔ جسے آج تک کوئی نہ حل کر سکا ۔ اسی مسکراہٹ کا ایک حصہ کھیت میں کام کرنے والی مزدور عورتیں ہیں ۔ ائیے آج انکے بارے میں بات کرتے ہیں ۔
دنیا میں زراعت کی شروعات ہزاروں سال پہلے ہوئی ہے ۔مرد کے ساتھ ساتھ عورتوں نے بھی شروعاتی دور سے ہی اس شعبے میں بھی اپنا اہم کردار نبھایا ہے۔ بھارت ایک زرعی ملک ہے۔ اور یہاں کی تقریبا 70فی صد آبادی ذراعت کرتی ہے ۔ دیہی علاقوں میں اس کا تناسب زیادہ ہے۔ اس شراکت میں عورتوں کا حصہ تقریباًً 40 فی صد ہے۔ عورتیں بیج بویائی سے فصل کی تیاری اور اس کی کٹائی ، اس کے بعد کے عمل سے لے کر مارکیٹنگ وغیرہ پوری پروسیس میں سر گرم عمل رہتی ہیں۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ کام کرنے والی عورتوں کا تناسب مردوں کے مقابل بڑھا ہوا ہے۔ ملک کی معاشی ترقی اور خوشحال زندگی کے لیے ان  کی خدمات نا قابل فراموش ہیں ۔
جس سے ملک کی معیشت میں کافی مدد ہوئی ہے۔ وہی حکومت نے بھی عورتوں کے لیے مخلتف اسکیموں اور دیگر سہولیات کا انتظام کیا ہے ۔ لیکن  عورتوں کی کم علمی انھیں ان سہولتوں سے محروم رکھے ہوۓ ہے۔ یہ عورتیں واقعی میں ہمت و شجاعت اور خود اعتمادی کی مثال ہیں۔ ان کے کاموں کی فہرست بنانا ناممکن ہے تب بھی کچھ کا ذکر اس طرح ۔۔۔
کھیت میں کام کرنے والی عورتوں کو کھیت کے سارے بھاری کاموں سے نمٹنا پڑتا ہے ، رات دن بغیر کسی توقف کے وہ کھیت اور گھر کی ذمہ داریاں سنبھالتی ہیں۔ کٹائی کا زمانہ ہو کہ ہل چلانے کا وقت وہ مرد کے ساتھ ساتھ کام کرتی ہیں ۔ اُس کے علاوہ انہیں پالتو جانوروں کی دیکھ بحال، چھوٹے موٹے گھریلو کام ، اور بچوں کی دیکھ بحال کرنی ہوتی ہے ۔وہ اپنی ساری ذمہ داریاں نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتی ہیں۔ ان عورتوں کو واقعی خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے، اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت کو آج کے دور میں معاشی کفالت کے لیے اپنے شوہر کا ساتھ دینا پڑتا ہے اور ماں، بیٹی، بہن، بہو اور بیوی کے روپ میں بھی اہم کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ گھریلو عورتیں  بھی دن رات اپنی ذمہ داریوں کو خوش دلی سے ہی ادا کرتی ہیں اور ملازمت پیشہ بھی ۔ لیکن ان میں کھیتوں میں کام کرنے والی مزدور عورتیں " محنت کش " عورتیں ہیں ۔ وہ اپنے کاموں میں اس قدر گھری رہتی ہیں کہ انھیں اپنے آپ کو سنوارنے ، بناؤ سنگھار کرنے تک کا موقع نہیں ملتا۔ دوہری زندگی جینے کے باوجود یہ عورتیں اپنے ماتھے پر کوئی شکن نہیں لاتی نہ ہی زبان سے شکایت کرتی ہیں۔ ان کے کپڑے ملگجے ہوتے ہیں ، بال بکھرے ہوۓ پھر بھی ان کے چہرے سے بشاتت ٹپکتی نظر آتی ہے۔ وہ ہمت اور دلیری کی مثال ہے۔ غربت ، مفلسی ، رہنے کے لیےڈھنگ سے گھر نہیں اور تن ڈھانکنے کے لیے صحیح سےکپڑے نہیں تب بھی وہ مسکراتی ہیں۔ زندگی کو پوری طرح نہ جیتے ہوۓ بھی جیتی ہیں۔ مرد کی ، زمانے کی پھٹکار سہہ کر بھی وہ  سورج کی پہلی کرن کے ساتھ کمر کس کر کھیت میں جت جاتی ہیں۔گرمی اور سردی کے موسم ہو یا بارش یہ موسم کی سختی برداشت کر کے کام کرتی ہیں اور مہنگائی کا مقابلہ کرتی ہے۔ انہیں مشکل ہی سے اتنا وقت ملتا ہے کہ وہ زندگی سے لطف اندوز ہو سکیں۔پھر بھی وہ اپنے ملک کی اور گھر کی معاشی حالت میں اضافہ کے لیے کوشاں ہیں ۔غریب خاندان میں عورت کے لیے زندگی بالخصوص دشوار ہوتی ہے ۔ بھاری مشقت کے علاوہ اس کے لیے بے رحم دکھ ہیں ، پریشانیاں ہیں ، بے عزتیاں ہیں اور غم ہیں ۔ اس کے باوجود وہ خود اعتمادی سے ان کا مقابلہ کرتی ہیں۔ نہ وہ احساس محرومی کا شکار ہوتی ہے نہ حرص و حسد کو اپنے دل میں پناہ دیتی ہے۔ ہاں  یہ عورتیں آنکھوں کے کٹوروں سے  آبشاروں کو بہنے ضرور دیتی ہیں ،اور ان آبشاروں میں اپنے ارمان ، خواہشات ، دکھ درد کو  بھی بہا دیتی ہیں۔ یہ وہ با ہمت عورتیں ہیں جو معاشی صورتحال سے نبرد آزما ہوکر بھی معاشرے کی بنیادی تشکیل کرتی ہیں۔ متوسط طبقہ اور اشرافیہ کےلوگوں کو زندگی کے سازوسامان ، سکون و اطمینان مہیا کرا کر خود زندگی کی محرومیوں سے لڑتی ہیں۔ اور کسمپرسی میں اپنی زندگی بسر کر کے بھی خوش رہتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کو تکلیف نہیں ہوتی ،  زندگی کی آشائشیں بھی کبھی مڑ کر انھیں نہیں دیکھتی ۔سماج نے ہر دور میں عورتوں کے حقوق کی پامالی کی ہے۔ وہی زمیندار بھی ان عورتوں کی محنت کے لحاظ سے معاوضہ ادا نہیں کرتے ، اسی لیے یہ 
مزدور عورتیں اپنی زندگی میں کئی مسئلوں اور پریشانیوں سے لڑتی ہیں۔ تب بھی انھیں دو وقت کا کھانا سکون سے نہیں مل پاتا ۔ کھیت مزوری سے ان کی ضروریات زندگی کے ساز و سامان کی پرتی نہیں ہوتی ہے۔ لیکن چارو ناچار وہ اسی پر اکتفا کرتی ہیں۔ ایک مزدور عورت سے بات چیت کے دوران اس نے مجھے بتایا کہ بیٹی دکھ اور تکلیف کسے نہیں یہ تو زندگی کا حصہ ہے ،میرے حصے میں جو آیاہے ، اسے خوشی سے جی رہی ہوں ۔ بے شک یہ عورتیں خود اعتمادی ، با ہمت اور دلیری کی مثال ہیں لیکن اب بھی ان میں تعلیمی بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔ تاکہ وہ حکومت کے ذریعے فراہم کی جانے والی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ خاندانی ملکیت میں انھیں حق حاصل ہے اس کی طرف بھی توجہ دینی ضروری ہے۔یہ عورتیں زیا دہ پڑھی لکھی نہیں ہیں تب بھی وہ پوری ایمانداری اور خود اعتمادی سے اپنا کام کرتی ہیں۔کھیتوں میں فصلوں کو لہلہاتے دیکھ خوش ہوتی ہیں مانو خدا نے ان کی محنت کا ثمر انھیں دے دیا ہے ۔ ان مزدور عورتوں سے ہمیں جہاں ہمت و خود اعتمادی کا درس ملتا ہے وہی اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ ہماری پر سکون زندگی کے پیچھے ان کا اہم کردار پوشیدہ ہے۔

Comments

  1. اس کے بے زبان صبر اور اس کی خاموش عظمت کا ایک نوحہ بھی ہے اور نغمہ بھی۔ لکھنے والے نے تپتی دھوپ میں کھیتوں کا سینہ چاک کرنے والی ان مزدور عورتوں کی زندگی کو صرف بیان نہیں کیا، بلکہ ان کے پسینے کی خوشبو اور پیروں کی تھکن کو محسوس کروا دیا ہے۔ سادہ سے جملوں میں ایسی گہری کسک چھپی ہے جو پڑھنے والے کے دل میں ایک میٹھا سا درد جگا دیتی ہے۔

    مصنہ نے عورت کی مسکراہٹ کو ایک ایسے استعارے میں ڈھالا ہے جہاں اس کی محرومی، اس کا حوصلہ اور اس کی لازوال جدوجہد ایک ساتھ رقص کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ تحریر صرف ایک خراجِ تحسین نہیں، بلکہ سنگ دل معاشرے کے ماتھے پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے اور اس کے بند دروازوں پر ایک دستک بھی۔ یہ ایک ایسی فکر انگیز کاوش ہے جو قاری کی روح میں اتر کر احترام اور ہمدردی کے ان گنت چراغ روشن کر دیتی ہیں

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔