اتحــــــــــــاد کا عملی نمــــــــــمونہ۔۔نعمــــــان انجــــــــــم عثمانی۔
اتحــــــــــــاد کا عملی نمــــــــــمونہ۔۔
نعمــــــان انجــــــــــم عثمانی۔
اکیسویں صدی انسانی تاریخ کے اُس دوراہے کا نام ہے جہاں تغیر و تبدل نے ایک نئی رفتار اختیار کر لی ہے۔ زمانے کی گردش نے انسانی مزاج، معاشرتی اقدار اور باہمی تعلقات میں وہ انقلابات برپا کیے جن کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ خوشگوار رابطے سمٹتے گئے اور منافرت، مخالفت، افتراق اور انتشار کے رنگ نمایاں ہوتے چلے گئے۔ ایسے پُرآشوب اور پُرفتن ماحول میں اگر کہیں اتحاد و اخوت کی شمع روشن ہو تو وہ یقیناً امید کی کرن بن جاتی ہے۔
اسی پس منظر میں سرزمینِ محبوب نگر کے نظماء مدارس نے ایک ایسا تاریخی اور قابلِ تقلید کارنامہ انجام دیا جس کی نظیر آزاد ہندوستان کی تاریخ میں شاید ہی ملے۔ بتاریخ 11 فروری 2026 بروز بدھ بعد نمازِ مغرب، یونک گارڈن فنکشن ہال محبوب نگر میں چھ ممتاز دینی اداروں کے اشتراک سے ایک فقید المثال جلسۂ دستار بندی حسن انتظام و خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد ہوا۔
یہ ادارے حسبِ ذیل ہیں
• مدرسہ الکوثر ٹرسٹ
• دارالعلوم قصد السبیل ٹرسٹ
• مدرسہ عربیہ مصباح العلوم ٹرسٹ
• مدرسہ عربیہ محمدیہ
• دارالعلوم نور الایمان
• دارالعلوم سنابل السلام
یہ اجلاس محض ایک رسمی تقریب نہ تھی بلکہ اتحادِ ملت کی ایک عملی تحریک تھی ایسی تحریک جو موجودہ دور کے انتشار میں درسِ اخوت، درسِ اتحاد، درسِ ہمدردی اور درسِ معاونت کو عام کرتی ہے اور باہمی تعاون کی زندہ مثال پیش کرتی ہے۔
اس عظیم الشان اقدام کے روحِ رواں
◇ حضرت مولانا شاہ محمد نعیم کوثر صاحب رشادی مدظلہ ہیں، جنہوں نے اس مبارک پیش قدمی کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح قابلِ صد مبارک باد ہیں
◇ مولانا شاہ فضل الرحمٰن محمود صاحب رشیدی
◇ مولانا محمد عبد اللہ خان صاحب حسامی
◇ مولانا محمد فخر الدین صاحب رشادی
◇ حافظ سید احمد علی عامر صاحب
◇ مولانا سید عبد الرحمن عامر صاحب رشادی ندوی۔
جنہوں نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس تجویز کو قبول فرمایا اور باہمی اشتراک سے ایک تاریخی کارنامہ سرانجام دیا۔
●اجلاس کا آغاز وقتِ مقررہ پر ہوا۔
• مولانا محمد مجیب الرحمن صاحب قاسمی نے تلاوتِ کلامِ پاک سے محفل کو معطر فرمایا۔
شہر بنگلور کے معروف نعت خواں، نواسۂ پیرِ طریقت حضرت ابو السعود ؒ
• حافظ انہر سعودی صاحب نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کر کے سامعین کے قلوب کو سرور بخشا۔
حیدرآباد سے تشریف لائے مہمانِ خصوصی
☆ حضرت مولانا شاہ سید قطب الدین صاحب ندوی مدظلہ نے اپنے اہم خطاب میں قرآن سے محبت اور اس سے وابستگی کو حقیقی کامیابی کا راز قرار دیا۔
شہر مکتھل سے آئے ہوئے مہمانِ خاص
☆ حضرت مولانا غلام محمد صاحب رشیدی مدظلہ نے مختصر مگر جامع خطاب میں حفاظ کرام کے مقام و مرتبہ سے شرکائے اجلاس کو آگاہ فرمایا۔
ضلع کی معروف اور بزرگ شخصیت
☆ حضرت مولانا مطیع الرحمن صاحب مفتاحی* مدظلہ نے بھی اپنے قیمتی ارشادات سے حاضرین کو فیضیاب کیا۔
جلسہ کے صدر ہم سب کے مربی و محسن
☆ حضرت شاہ محمد جمال الرحمن صاحب مفتاحی مدظلہ نے 109 خوش نصیب حفاظ کرام* کو آخری سبق پڑھانے کے بعد *6 علماء کرام* کو بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دے کر اس تقریب کو علمی رفعت عطا کی۔ آخر میں حضرت نے مختصر دعا فرمائی عوام و خواص سبھی نے آپ کے وعظ و بیان درس و دعا سے بھرپور استفادہ کیا۔
ریاست کرناٹک کی مقبول و ہر دلعزیز شخصیت
☆ حضرت مولانا پی ایم مزمل احمد صاحب رشادی نقشبندی: مدظلہ نے قرآن اور حاملینِ قرآن کی فضیلت، اتحاد کی ناگزیریت اور اختلافات کے نقصانات پر مبنی ولولہ انگیز اور بصیرت افروز خطاب فرمایا جس نے حاضرین کے دلوں میں وحدتِ امت کا جذبہ تازہ کر دیا۔
یوں یہ عظیم الشان اجلاس اپنے مقررہ وقت پر اختتام پذیر ہوا۔ احباب نے نمازِ عشاء ادا کی اور عشائیہ سے فارغ ہوئے
اس بابرکت موقع پر سیکڑوں کی تعداد میں علماء کرام، حفاظِ عظام، طلبۂ مدارس، معززینِ شہر، عوام الناس اور خواتین نے شرکت فرما کر اس اتحاد و اخوت کے پیغام کو تقویت بخشی۔
بلاشبہ یہ جلسہ محض ایک تقریب نہیں بلکہ ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک روشن مثال اور آنے والے وقتوں کے لیے ایک تابندہ باب ہے،جو یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر نیتیں خالص ہوں اور مقصد بلند ہو تو اختلافات سمٹ جاتے ہیں اور اتحاد کی فضا خود بخود قائم ہو جاتی ہے۔
Comments
Post a Comment