ہمارے مساجد اور منتظمین: ایک سنجیدہ جائزہ۔ازقلم : پروفیسر مختار فرید، بھیونڈی، مہاراشٹر۔
ہمارے مساجد اور منتظمین: ایک سنجیدہ جائزہ۔
ازقلم : پروفیسر مختار فرید، بھیونڈی، مہاراشٹر۔
آج کے دور میں مساجد اور اوقاف سے متعلق مسائل معاشرے میں ایک حساس اور اہم موضوع بن چکے ہیں۔ یہ مسئلہ اب محض انتظامی نوعیت کا نہیں رہا بلکہ ایک سماجی ناسور کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایک طرف لوگ حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ مسلم وقف بورڈ کی زمینوں پر ناجائز قبضے یا غیر منصفانہ اقدامات کی کوشش کر رہی ہے، اور دوسری طرف بعض منتظمین اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے جوابدہی سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ یوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے موقف میں سختی اختیار کیے ہوئے ہیں اور اصل مقصد، یعنی دین اور ملت کی خدمت، پس منظر میں چلا گیا ہے۔
یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر کہیں ناانصافی ہو رہی ہو تو اس کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے۔ وقف املاک دراصل امت کی امانت ہیں، جو عبادت، تعلیم، رفاہِ عامہ اور دینی خدمات کے لیے وقف کی گئی ہیں۔ ان کی حفاظت ہر مسلمان کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہمارے مساجد اور اوقاف کے منتظمین خود اپنی ذمہ داریوں کو پوری دیانت، شفافیت اور احساسِ جوابدہی کے ساتھ ادا کر رہے ہیں؟
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ جو افراد مسجدوں اور وقف املاک کے نگراں بنتے ہیں، کیا وہ واقعی اس منصب کے اہل ہیں؟ کیا ان کی ذاتی زندگی دیانت، عدل اور حسنِ کردار کی مثال ہے؟ کیا وہ اپنے معاملات میں انصاف پسند ہیں؟ کیا وہ اپنے خاندان، رشتہ داروں اور عام لوگوں کے ساتھ معاملات میں شفافیت اور امانت داری کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ اگر ایک شخص اپنی نجی زندگی میں دیانت دار نہیں تو اجتماعی امانت کی حفاظت کیسے کر سکتا ہے؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض جگہوں پر مسجدوں کی انتظامیہ ذاتی مفادات، گروہ بندی اور باہمی چپقلش کا شکار ہو جاتی ہے۔ مسجد جو کہ اتحاد، اخوت اور روحانی پاکیزگی کا مرکز ہونی چاہیے، وہ بعض اوقات اختلاف اور تنازع کا میدان بن جاتی ہے۔ چند افراد اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے انہیں دور کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً مسجد کمیونٹی کی تعمیر کے بجائے تقسیم کا سبب بن جاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مساجد کے منتظمین کا انتخاب خلوص، اہلیت اور امانت کی بنیاد پر ہو۔ انتظامی امور میں شفافیت ہو، حسابات واضح ہوں، اور فیصلے مشاورت سے کیے جائیں۔ مسجد صرف چند افراد کی ملکیت نہیں بلکہ پوری امت کی امانت ہے۔ اس کی زمین، اس کے وسائل اور اس کی خدمات سب کے لیے ہیں، نہ کہ کسی خاص طبقے کے لیے۔
اسی طرح حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ اوقاف کے معاملات میں شفاف اور منصفانہ پالیسی اختیار کریں۔ اگر کوئی قانونی مسئلہ ہو تو اسے قانون اور انصاف کے دائرے میں حل کیا جائے، نہ کہ طاقت یا دباؤ کے ذریعے۔ کیونکہ جب معاملہ دین اور عبادت گاہوں کا ہو تو حساسیت اور احتیاط اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
اصل حل الزام تراشی میں نہیں بلکہ خود احتسابی میں ہے۔ اگر ہم بحیثیت امت اپنے اندر دیانت، عدل اور احساسِ ذمہ داری پیدا کر لیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ مسجدیں اگر واقعی تقویٰ کی بنیاد پر قائم ہوں اور ان کی نگرانی بھی تقویٰ اور امانت کے ساتھ کی جائے تو وہ معاشرے کی اصلاح کا مرکز بن سکتی ہیں۔
آج ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ ہم مسجد کو محض ایک عمارت سمجھتے ہیں یا ایک امانت؟ اگر یہ امانت ہے تو اس کی حفاظت، اس کا نظم و نسق اور اس کی روحانی فضا برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اصلاح کا آغاز ہمیشہ اپنے اندر سے ہوتا ہے۔ جب منتظمین خود کو جوابدہ سمجھیں گے اور عوام ذمہ داری کا احساس کریں گے تو نہ حکومت سے خوف ہوگا اور نہ باہمی تنازعات کا اندیشہ۔
مسجد اللہ کا گھر ہے، اور اس کی خدمت دنیاوی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اخروی کامیابی کے لیے ہونی چاہیے۔ اگر نیت درست ہو اور طریقہ کار شفاف ہو تو یقیناً ہمارے مساجد ایک بار پھر ہدایت، اتحاد اور خیر و برکت کا سرچشمہ بن سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment