دوسری ماں ... مختصر افسانہ۔۔ازقلم : ڈاکٹر فہمیدہ جميل ، نلگنڈہ ، تلنگانہ۔
دوسری ماں ... مختصر افسانہ۔۔
ازقلم : ڈاکٹر فہمیدہ جميل ، نلگنڈہ ، تلنگانہ۔
9966025455
چلو ! اچھا کیا ، زرینہ نے اپنی لڑکی کا عقدثانی کردیا ، ورنہ بے چاری ساری عمر بیوگی کی چادر اوڑھے بے رحم سماج کے مظالم سہتی . اور ویسے ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے ؟ بس پچیس سال پورے ہوئے ہیں ـ ارے اس عمر میں تو لڑکیوں کا عقد اول ہوتا ہے ـ
ہاں اماں ! آپ صحیح کہتی ہو ، پر عقد ثانی تو عقد ثانی ہی کہلائے گا ـ اب لوگ عمر کہاں دیکھتے ہیں ـ دیکھا نہیں آپ نے دعوت میں عورتیں کیسی باتیں کررہی تھیں .
کیا؟ یہی کہ عقدثانی بھی اتنی دھوم دھام سے کررہے ہیں جیسے عقد اول ہو ، کوئی کہہ رہی تھی کہ بس بے چاری کے ارمان عقد اول میں پورے نہ ہوسکے اس لئے شائد عقد ثانی میں کررہی ہے ـ پھر کسی نے کہا . بھائیوں کی کمائی ہے مفت میں اڑائی جارہی ہے یعنی " مال مفت دل بے رحم " . آخر کو ایک خاتون نے ہنستے ہوئے بتایا کہ " ارے بھئی ! دولہن کا عقد ثانی ہے پر دولہے کا تو عقد اول ہے ، یعنی کنوارا دولہا ملا ہے " . بڑی قسمت والی ہے
دولہن اور سب نے یک ساتھ قہقہہ لگایا .
ہمارے سماج میں عورت کو کبھی وه مقام نہیں دیا گیا جس کی وہ حق دار ہے ـ ہاں صنوبر ! تم ٹھیک ہی کہتی ہو ـ اگر دوسری شادی نہ کی جائے گی تو پھر الگ سے باتیں سننے کو ملتی اور اب نکاح ہوا ، اور سب میں بے چینی ... یہ تعصب ہے اور کچھ نہیں ـ عورت ہر وقت ہر چیز پر اپنا ہی قبضہ جمانا چاہتی ہے اور جب اختیار ہاتھ سے جاتا ہے تو حسد ، بغض اور نہ جانے کیا کیا حربے استعمال کر جاتی کے اس کے دل میں لگی آگ بجھ پائے ـ
بیگم رخسانہ نے اپنے پڑوس کی زرینہ اور اس کی لڑکی کے تعلق سے ساری باتیں کہہ کر اطمينان حاصل کرلیا ، اور اپنی بہو صنوبر سے کہنے لگی " صنو! ذرا ادرک کی چائے دینا ،". صنوبر نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور ادرک کی چائے پیش کی .
بیگم رخسانہ کے شوہر لیاقت صاحب کو اس دنیا سےگزرے کئی سال بیت چکے ،ایک لڑکا شجاعت على جو کہ رحم مادر سے ہی یتیم تھا ، بس بیگم رخسانہ نے اپنے نیک اور شریف خاوند کی نشانی اپنے جگر گوشے کی پرورش میں کوئی کسر نہ چھوڑی. رات دن شوہر کی جدائی کے آنسو جو آنکھوں کو خشک کرگئے اور پھر ننھے شجاعت کی دیکھ بھال کرنا یہ تو وہ اپنی ذمہ داری سمجھتی رہی لیکن خوش دامن صاحبہ کی ستم ظریفی کو برداشت کرنا یہ تو بڑا صبر آزما کام تھا ہر روز بیٹے کی موت کا الزام بیگم رخسانہ پر لگاکر کوستے رہتی یا پھر پوتے کوبد عا دیتی یہ سب سن سن کر بیگم رخسانہ بہت کمزور اور زندگی سے ناامید ہوچکی تھی ـ پر اپنے خوب صورت شجاعت کے چہرے پر جب نظر ڈالتی تو سکون و راحت کا احساس ہوتا اس کی مسکراہٹ کو دیکھ کر وہ سارے غم والم بھول جاتی. لیاقت صاحب کا اچانک ہارٹ ایٹک اور پھر ساس کے طعنے یہ ایسے حالات تھے جس سے وہ دل برداشتہ ہوچکی تھی ـ وہ چاہتی تو عقد ثانی کرلیتی ، ماں باپ اور بھائیوں نے بھی زور دیا ،لیکن شجاعت کا خیال اسے اس ارادے سے منع کرتا اگر الله تعالٰیٰ خودکشی کو حرام نہ قرار دیتا تو وه اپنے نونہال کے ساتھ کبھی کےاس ظالم سماج کو خیرباد کہہ جاتی. لیکن ایمان پر موت ہر مسلمان کا فرض ہے ـ بس پھر کیا تھا حالات سے سمجھوتہ کرنا بیگم رخسانہ نے سیکھ لیا . گھر میں دن بھر کام میں مصروف رہنا اور رات میں عبادات کرنا معمول بنا لیا . دن ہفتہ اور ہفتے مہینہ اور مہینے سال میں تبدیل ہونے لگے ـ شجاعت اپنے نام کی طرح پڑھ لکھ کر ایک بڑا افسر بن گیا اور ایک دن بوڑھی دادی جان کے دل میں پوتے کے لئے سوئی ہوئی دعائیں بیدار ہونے لگی ، آرزو نے انگڑائی لی کہ پوتے کے سر پر سہر ہ سجا دیکھ لوں. پھر کیا تھا ـ چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوگیا . اور ادھر جھٹ سے دادی ماں کا بھی انتقال پر ملال ہوگیا .
دوست احباب نے مثبت ومنفی تبصروں کے پل باند ھنے شروع کئے ،کوئی کہتا دولہن کے قدم منحوس ہے تو کوئی کہتا اتنی طویل عمر تو جی لی دادی نے کسی کے نزدیک صنوبر برکت والی تو کسی کے قریب راحت والی کیونکہ دادی کا انتقال بیگم رخسانہ کو راحت دے گیا خیر جتنے منہ اتنی زبانیں اور جتنی زبانیں اتنی باتیں ـ
خدا خدا کرکے ایک سال مکمل ہوا اور لوگوں نے بیگم رخسانہ سے اشاروں کنایوں میں سوال کرنا شروع کردیا کہ گھر میں ابھی نئے مہمان کی آمد کیوں نہیں ہوئی ؟ وہ سب کی باتیں سنتی پر جواب سے قاصر تھی .
قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ، مصیبت جب آتی ہے تو کہہ کر نہیں آتی بس ایسے ہی صنوبر کی زندگی میں بھی ایک بڑا المیہ داخل ہوگیا اور اس
طوفان نے بیگم رخسانہ اور صنوبر کو اپنے لپیٹ میں لے لیا . شجاعت آفس کو جاتا ہوا حادثہ کا شکار ہوگیا اور موقع پر ہی موت واقع ہوگئی . ساس بہو دونوں کے لئے یہ دل دہلانے والی خبر تھی ـ
" آپا ! ہونی کو کون ٹال سکتا ہے اور کون روک سکتا ہے " . صنوبر کی ماں صابره نے اپنی سمدھن کو دلاسا دیا اور عدت کے دن پورے ہونے کا اشاره دیا . بیگم رخسانہ نے کوئی جواب نہ دیا .
میں بچی کو گھر لے جانے آئی ہوں آپا ؟
ہاں! لے جاؤ . وہ ایک سرد آه بھرتی ہوئی اجازت دینے لگی .
صنو ! تم میری بات پرغور کرو پھر جواب دینا ، صابرہ نے اپنے گھر آئی بیٹی کو عقد ثانی کرنے پر زور دینے لگی .
نہیں امی ! آپ مجھے یہ کرنے کو نہ کہیں پلیز ، مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں
صنوبر روتے ہوئے اپنی ماں کے سامنے منت سماجت کرنے لگی .
بیٹی ! اب تیری کوئی اولاد بھی نہیں ہے اور ابھی تو جوان ہے ـ چند سال بعد تجھے کون اپنائے گا اس طرح عورت سماج میں اکیلی کیسے زندگی گزارے گی ؟ اور تیرے بھائیوں کا بھی یہی فیصلہ ہے ـ اگر تونے حامی بھرلی تو میں آپا سے بات کرونگی.
اب بتا تیرا فیصلہ کیا ہے ؟
نہیں نہیں نہیں ! بس یہی میرا آخری اور اٹل فیصلہ ہے ـ پر کیوں ؟ اس لئے کہ میری ساس کا میں سہارا بنوں گی ـ چاہے اس کے لئے مجھے اپنی آئندہ زندگی تنہا جینی کیوں نہ پڑے ـ یہ کیا پاگل پن ہے صنوبر ؟ یہ پاگل پن نہیں امی ، یہ ایک ماں کی بیٹی نے اپنی دوسری ماں کا ساتھ دینے کا فیصلہ لیا ہے ـ ماں صرف کوکھ سے جنم دینے والی ہی نہیں ہوتی ہے ـ ممتا کی مورت اور خلوص و محبت کا پیکر بھی ہوتی ہے ـ
Comments
Post a Comment