استقبالِ رمضان۔۔۔ تحریر : شیخ سفیان نور محمد،جلگاوں۔
استقبالِ رمضان۔۔
تحریر : شیخ سفیان نور محمد،جلگاوں۔
( SIO ) سیکریٹری مقامی جلگاؤں۔
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور بابرکت مہینہ ہے۔ یہ مہینہ صرف کیلنڈر کا ایک حصہ نہیں بلکہ ایمان کی تازگی، روح کی پاکیزگی اور زندگی کی اصلاح کا سنہری موقع ہے۔ جب شعبان کے آخری دن رخصت ہوتے ہیں اور رمضان کا چاند نمودار ہوتا ہے تو ہر مومن کا دل خوشی، شکر اور امید سے بھر جاتا ہے۔ گویا رحمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور مغفرت کی ہوائیں چلنے لگتی ہیں۔
رمضان ہمیں صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں سکھاتا بلکہ یہ صبر، تقویٰ، برداشت اور خود احتسابی کا عملی سبق دیتا ہے۔ روزہ انسان کو اپنے نفس پر قابو پانے کی تربیت دیتا ہے۔ جب ایک شخص اللہ کے حکم پر حلال چیزوں سے بھی رک جاتا ہے تو وہ حرام سے بچنے کی طاقت بھی حاصل کر لیتا ہے۔ یہی تقویٰ کی اصل روح ہے۔
یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں قرآن مجید کا نزول ہوا۔ قرآن انسانیت کے لیے مکمل ہدایت اور روشنی کا سرچشمہ ہے۔ رمضان دراصل قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرنے، اس کی تلاوت کرنے، اسے سمجھنے اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کا بہترین وقت ہے۔ اگر ہم روزانہ کچھ وقت قرآن کے لیے مخصوص کریں تو یقیناً ہماری سوچ، ہمارا کردار اور ہماری زندگی میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔
رمضان ہمیں احساسِ ذمہ داری بھی سکھاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو مالی مشکلات اور بھوک کا شکار ہیں۔ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کے ذریعے ہم نہ صرف ان کی مدد کرتے ہیں بلکہ اپنے مال کو بھی پاک کرتے ہیں۔ ایک مسلمان کا دل نرم، ہمدرد اور درد مند ہونا چاہیے۔ رمضان اسی جذبے کو بیدار کرتا ہے اور ہمیں بھائی چارے اور مساوات کا سبق دیتا ہے۔
نماز کی پابندی، تراویح، تہجد اور دعاؤں کی کثرت اس مہینے کو مزید نورانی بنا دیتی ہے۔ خاص طور پر آخری عشرہ عبادت اور توبہ کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ یہی وہ لمحات ہیں جب بندہ اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ گناہوں سے سچی توبہ اور آئندہ کے لیے نیک عزم کرنا ہی رمضان کی حقیقی کامیابی ہے۔
استقبالِ رمضان کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس مہینے کو عام دنوں کی طرح نہ گزاریں بلکہ اس کے ہر لمحے کو قیمتی سمجھیں۔ اپنے دلوں کو کینہ، حسد، غصہ اور نفرت سے پاک کریں۔ سچائی، دیانت اور اچھے اخلاق کو اپنی پہچان بنائیں۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہماری زندگی میں نیکی اور اصلاح باقی رہے تو سمجھ لیجیے کہ ہمارا رمضان کامیاب ہو گیا۔
آئیے ہم سب اس مبارک مہینے کا استقبال اس عزم کے ساتھ کریں کہ ہم اپنی عبادات میں اخلاص پیدا کریں گے، اپنے کردار کو سنواریں گے اور معاشرے کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بنیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی قدر کرنے، اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور اسے ہماری نجات کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Mashallah
ReplyDelete