تعاون کے حقیقی مستحقین۔۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
تعاون کے حقیقی مستحقین۔
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
اللہ تعالی ہی اپنی ساری مخلوقات کو رزق و روزی عطا فرماتے ہیں لیکن اپنی کسی حکمت و مصلحت کی وجہ سے کسی کے رزق و روزی میں وسعت و کشادگی عطا فرمائی ہے تو کسی کے رزق و روزی میں تنگی و کمی فرمائی ہے حالانکہ اس کے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں جن میں کبھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی
اسطرح جنکے رزق میں وسعت و کشادگی عطا فرمائی ہے انھیں حکم دیا ھیکہ وہ ان ضروتمندوں اور حاجتمندوں کا تعاون کریں تاکہ اللہ تعالی انھیں آخرت میں اجر و ثواب عطا فرمانیکے ساتھ دنیا میں بھی انکے مال و دولت میں برکت و بڑھوتری عطا فرمائے
بعض ضروتمند اور مسکینوں کی ظاہری حالت سے انکی غربت اور محتاجگی کا اظہار یوتا ہے یا انکے سوال کرنیکی وجہ سے انکا تعاون کرنا آسان ہوتا ہے لیکن بعض ضروتمند اور غریب ایسے بھی ہوتے ہیں جو غریب اور مسکین ہونے کے باوجود اپنی پاکدامنی شرافت اور عزت نفس کی وجہ سے کسی سے سوال نہیں کرتے اور نہ ہی انکی ظاہری شکل و صورت سے انکی غریبی و مفلسی کا علم و اندازہ ہوتا ہے
قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں خصوصا ایسے حضرات کے تعاون کی ترغیب دی گئی ہے
اللہ تعالی فرماتے ہیں
اور انکے مال و دولت میں سوال کرنے والوں اور محروم لوگوں کا حق ہوتا ہے ( سورہ الذاریات)
سائل سے مراد وہ غریب حاجتمند ہے جو اپنی حاجت و ضرورت لوگوں کے سامنے ظاہر کردیتا ہے اور لوگ اسکی مدد کردیتے ہیں اور محروم سے مراد وہ شخص ھیکہ فقر و مفلسی اور حاجتمند ہونے کے باوجود شرافت نفس کی وجہ سے اپنی حاجت و ضرورت کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتا اسلئے لوگوں کی امداد سے محروم رہتا ہے
اس آیت مبارکہ میں متقین یعنی اللہ تعالی سے ڈرنے والوں کی یہ صفت بتلائی گئی ھیکہ وہ اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرتے وقت صرف اپنی حاجت ظایر کرنے والوں کو ہی نہیں دیتے بلکہ ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھتے اور حالات کی تحقیق سے باخبر رہتے ہیں جو اپنی حاجت و ضرورت کسی سے نہیں کہتے
اور یہ جو کچھ فقراء و مساکین پر خرچ کرتے ہیں یہ ان پر کوئی احسان نہیں کررہے ہیں بلکہ انکو انکا وہ حق دے ریے ہیں جو اللہ تعالی نے انکے مالوں میں رکھا ہے تو یہ ان پر کوئی احسان نہیں ہے
اللہ تعالی فرماتے ہیں
( مالی امدادکے بطور خاص) مستحق وہ فقراء ہیں جنھوں نے اپنے آپکو اللہ تعالی کی راہ میں اسطرح مقید کررکھا ھیکہ وہ ( معاش کی تلاش کے لئے) زمین پر چل پھر نہیں سکتے چونکہ وہ اتنے پاکدامن ھیکہ کسی سے سوال نہیں کرتے اسلئے ناواقف آدمی انھیں مالدار سمجھتا ہے تو انکے چہرے کی علامتوں سے ان کو پہچان سکتے ہو وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے (سورہ بقرہ)
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ھیکہ یہ آیت اصحابہ صفہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ وہ صحابہ تھے جنھوں نے اپنی زندگی علم دین حاصل کرنے کے لئے وقف کردی تھی اور نبئ کریم کے پاس مسجد نبوی سے متصل چبوترے پر آپڑے تھے طلب علم کی وجہ سے کوئی معاشی مشغلہ اختیار نہیں کرسکتے تھے مگر مفلسی کی سختیاں ہنسی خوشی برداشت کرتے تھے کسی سے مانگنے کا سوال نہیں تھا اس آیت مبارکہ نے بتایا ھیکہ ایسے لوگ امداد کے زیادہ مستحق ہیں جو ایک نیک مقصد سے پوری امت کے فائدے کے لئے مقید ہوکر رہ گئے ہیں اور سختیاں جھیلنے کے باوجود اپنی ضرورت کسی کے سامنے ظاہر اور پیش نہیں کرتے
محترم حضرات
مدارس مکاتب میں تدریسی خدمات انجام دینے والے علماء حفاظ و مفتیان کرام اسیطرح مساجد میں امامت و خطابت کی خدمات انجام دینے والے ائمہ کرام یہ ہماری قوم و ملت اور امت کے خیرخواہ اور مقتداء جنھوں نے دین اسلام کی حفاظت و خدمت اور امتیوں کے دین و ایمان کی حفاظت اور انکی دینی و ایمانی فکر کے لئے اپنے آپکو وقف کررکھا ہے اور انکے دنیاوی زندگی کا معمولی و مختصر سا گذارا اسی تھوڑے سے وظیفے کے ذریعے ہوتا ہے جو انھیں مساجد و مدارس سے ملتا ہے اسکی وجہ سے ان حضرات کو بڑی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یہ حضرات اپنی پاکدامنی شرافت اور عزت نفس کی وجہ سے کسی سے سوال بھی نہیں کرپاتے اور نہ کسی سے اپنی ضرورت و حاجت کا اظہار کرپاتے ہیں اسلئے قوم و ملت کے اہل خیر و اہل ثروت حضرات کی ذمہ داری ھیکہ ان حضرات کا خیال رکھیں اور انکی مالی پریشانیوں اور دشواریوں کو دور کرنیکی فکر کریں
اللہ تعالی انکی بھر پور مدد فرمائے اور انکی مشکلات اور پریشانیوں کو دور فرمائے
Comments
Post a Comment