کھیڈ میں عظیم الشان کل ہند مشاعرہ، اردو ادب کی تاریخ ساز شام۔
رتناگیری (راست) کھیڈ شہر ایک مرتبہ پھر اردو زبان و ادب کی خوشبوؤں سے مہک اٹھا، جب انجمن فروغِ اردو، کھیڈ کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان، منظم اور پُروقار کل ہند مشاعرہ منعقد ہوا۔ اس ادبی و ثقافتی محفل کی امتیازی بات یہ رہی کہ مشاعرے کی شمع فروزی کھیڈ شہر بلدیہ کی معزز صدر محترمہ مادھوی بوٹالہ صاحبہ کے دستِ مبارک سے انجام پائی، جس سے اس تقریب کو خصوصی وقار اور معنویت حاصل ہوئی۔
اس موقع پر شہر کی معزز و نامور شخصیات اور عوامی نمائندگان کی بڑی تعداد موجود رہی، جن میں بالخصوص کارپوریٹر محترمہ ریشماں خطیب، رحیم صحیبولے، توصیف کھوت، کھیڈ کی معزز شخصیت اے۔آر۔ڈی۔ خطیب صاحب، محبوب مہاڈک صاحب، ٹریفک انسپکٹر بیگ صاحب شامل تھے۔ مشاعرے کی صدارت معروف شاعر منظر خیامی نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض خوش اسلوبی اور برجستگی کے ساتھ سمیع مومن (سمیع) نے انجام دیے۔
انجمن فروغِ اردو، کھیڈ کے صدر سمیع مومن، نائب صدر مختار سروے، ضیاءالرحمن، اشفاق پٹیل، رضا خطیب، اقبال پرکار، پرویز مہاڈک اور دیگر اراکینِ انجمن نے نہایت خلوص اور جانفشانی کے ساتھ مشاعرے کے تمام انتظامات کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ اس کے ساتھ ہی النسا فاؤنڈیشن کی صدر شبنم سروے اور روزی دیسائی کی موجودگی نے تقریب کو سماجی ہم آہنگی کا حسین پیغام دیا۔
مشاعرے کا آغاز مولانا وجیہ الدین صاحب کی دعا سے ہوا، جبکہ تمہیدی کلمات اقبال پرکار صاحب نے پیش کیے۔ مہمانانِ گرامی اور شعراۓ کرام کا تعارف اشفاق پٹیل صاحب نے کرایا۔ بعد ازاں صدرِ انجمن اور اراکینِ انجمن کے دستِ مبارک سے مہمانوں اور شعرا کا شایانِ شان استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر نائب صدر مختار سروے صاحب نے انجمن کے اغراض و مقاصد اور اردو زبان کے فروغ کے لیے جاری کاوشوں پر جامع روشنی ڈالی۔
صدرِ مشاعرہ منظر خیامی کی پُراثر نعتِ پاک سے مشاعرے کا باضابطہ آغاز ہوا۔ اس تاریخی مشاعرے میں ملک کے مختلف حصوں سے تشریف لانے والے جن نامور شعراۓ کرام نے اپنا منتخب کلام پیش کیا، ان میں
افضال دانش (برہان پور)، ثمر بچھرایونی، طالب شولاپوری، صابر بڈنیروی، مجاور مالیگانوی، عرفان شاہنوری، عامر راوت، سراج خان، اقبال سالک، تبسم رانا، الکا شرر، ضیاءالحق ضیاء، جمال یوسفی، رضوان کاریگر، ضیاء، الرحمن ضیاء شامل تھے۔
تمام شعرا نے تحت و ترنم کے حسین امتزاج، فکری گہرائی اور فنی پختگی کے ساتھ اپنا کلام پیش کر کے سامعین کے دل جیت لیے اور بھرپور داد و تحسین حاصل کی۔ سامعین کی پرجوش شرکت اور مسلسل داد نے اس مشاعرے کو کھیڈ شہر کی ادبی تاریخ کا ایک یادگار اور تاریخ ساز باب بنا دیا۔
انتظامی اعتبار سے بھی مشاعرہ مثالی رہا۔ خوبصورت ہال، معیاری ساؤنڈ سسٹم، دلکش لائٹنگ اور بہترین نظم و ضبط نے ثابت کر دیا کہ انجمن فروغِ اردو، کھیڈ نے نہایت سلیقہ مندی سے اس عظیم ادبی تقریب کا انعقاد کیا۔
آخر میں انجمن کے نائب صدر ضیاءالرحمن صاحب نے تمام مہمانانِ گرامی، شعراۓ کرام، سامعین اور معاونین کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مشاعرے کی کامیابی میں سرگرم کردار ادا کرنے والے مشاق مقدم، صغیر صاحب، نبیل پوتریک، انیس شیخ، عبدالرزاق شیخ، زید مہاڈک اور دیگر احباب کے بھرپور تعاون کو خصوصی طور پر سراہا۔
یوں یہ عظیم الشان کل ہند مشاعرہ نہایت کامیابی، وقار اور خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا اور کھیڈ شہر کی ادبی و ثقافتی تاریخ میں ایک روشن اور قابلِ فخر اضافہ ثابت ہوا۔
Comments
Post a Comment