صحافیوں میں کارڈکی تقسیم تقریب سے لجناب محمدیوسف رحیم بیدری، عبدالقدیر لشکری اور خواجہ سرتاج الدین کاخطاب۔


 بیدر۔ 11/فروری (محمدیوسف رحیم بیدری) اردو صحافی جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے آج اسلامی لائبریری، رٹکل پورہ بید رمیں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم تمام کاتعلق اردوزبان کی صحافتی برادری سے کئی سال سے ہے۔آج تین ممبر(سینئر صحافی خواجہ سرتاج الدین بسواکلیان، جناب مفیض الرحمان بیدراور نوجوان دوست عارف منااکھیلی) کا اضافہ ہواہے۔ پرانے نام اس طرح ہیں (۱) محمدیوسف رحیم بیدری (۲) عبدالقدیر لشکری(۳) ریاض پاشاہ کوللور(۴) عمران خان (۵) سراج الحسن شادمان (۶) کلیم الدین روشن (۷)محمد سلطان (۸) سخاوت علی نظامی (۹)رخسانہ نازنین (۰۱)سیدساجد حیات یادگیر (۱۱)آزاد کمار۔ جناب عبدالقدیر لشکری چٹگوپہ کے علاوہ ہمناآباد بھی دیکھیں گے۔ یہ وہ ترقی ہے جسکا خواب ہر کوئی دیکھتاہے مگر خواب کی تعبیر محنت ہی سے مل سکتی ہے۔ عبدالقدیر لشکری مزید محنت کریں تو ضلع بیدر سے اشتہارات کے حصول کے لئے انہیں مختص کیاجاسکتاہے۔ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ جناب محمد یوسف رحیم بیدری نے روزنامہ ”سیاسی تقدیر“ کے کارڈ مذکورہ صحافیوں میں تقسیم کئے اور کہاکہ 
 بیدر ضلع کے لئے ہمارا آئندہ کا نشانہ:۔ (۱) بھالکی مستقر (۲) بھالکی تعلقہ (۳) اوراد (۴) ہلسور (۵) ہلی کھیڑ(کے) وغیرہ ہیں۔ دعا فرمائیں کہ یہاں کی خبریں ملیں اور ان خبروں سے عوام الناس کابھلاہو۔ ہم ان کی حقیقی آوازبن سکیں۔  
مستقبل کے کام:۔ ٭ضلع بھر میں صحافتی بیداری پید اکرنے کے لئے کارواں نکالاجاناچاہیے۔ (پدیاترا کی شکل میں ہویا بذریعہ کار بیدر سے منااکھیلی، چٹگوپہ، ہمناآباد، بسواکلیان، بھالکی اور اوراد جایاجائے) ٭صحافتی ورکشاپ کاانعقاد جس میں بتایاجائے کہ AIسے کس طرح فائدہ اٹھایاجاسکتاہے اور گوگل کے ذریعہ کون سی غلطیاں درآرہی ہیں۔٭پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا کوبھی لے کر چلنا ضروری ہے۔ کیوں کہ پرنٹ میڈیا سے زیادہ عوام، تاجر اور سیاست دانوں کاجھکاؤ الیکٹرانک میڈیا دوسرے لفظوں میں سوشیل میڈیا کی طرف ہے ٭خبر راست نہ ہو۔ کسی کے حوالے سے خبردی جائے۔ اگر خبر اہم ہے تو اس کی ویڈیو/آڈیوکالنگ بھی آپ کے پاس ہونا چاہیے۔ ٭اشتہارات کی طرف توجہ دیجئے۔ اشتہار آئے گاتو اخبار مالی لحاظ سے طاقت ور ہوگا اور ہم تمام کو بھی کچھ فیصد محنتانہ مل سکتاہے۔ ٭ ماہ رمضان اور عیدالفطر سامنے ہیں۔ اشتہارات پر فوکس کیجئے گا۔جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے بتایاکہ ہم نامہ نگاروں کی بہت ساری ضرورتیں ہیں:۔ (۱) زیادہ خبریں شائع ہوں (۲) سیاسی تقدیر میں ہمارے ضلع کی خبروں کو زیادہ جگہ ملے اور اس کے لئے اشتہارات بھی حاصل کئے جائیں۔ اشتہارات کے بنا خبر کی مسلسل اشاعت کارِ ندارد سمجھاجاتاہے۔ سیاست دانوں، اسکول اورکالج والوں، کاروبار حضرات تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ (۳) خبریں کم شائع ہونے سے ایک ای پیپر کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ ہمناآباد اور بسواکلیان سے ای پیپر جاری ہوتو مناسب رہے گا۔ یہ آپ کی کوششوں کا ایک اور مظاہرہ ہوگا۔ (۴)آپس میں محبت کاتعلق ہو۔ کبھی کبھی آپس میں بھی فون کرلیں۔ ہوسکے تو ایک نیا واٹس ایپ گروپ بنالیاجائے جس کے ذریعہ بھی رابطہ ہوناچاہیے۔ جناب عبدالقدیرلشکری نامہ نگار برائے چٹگوپہ تعلقہ (اور ہمناآباد) نے صحافتی میدان میں اپنے تجربات پیش کئے۔ سینئر صحافی جناب خواجہ سرتاج الدین نے بتایاکہ انھوں نے رہنمائے دکن، سیاست، حیدرآباد کرناٹک اور دیگر اخبارات میں خبریں روانہ کیں۔ موصوف نے بتایاکہ پہلے پرنٹ میڈیا میں اشتہارات ملتے تھے اور خبروں کی طرف متوجہ بھی ہوتے تھے۔ بسواکلیان میں اب معاملہ ایسا نہیں ہے۔ مذکورہ تمام افراد کی شالپوشی اور گلپوشی کی گئی۔ اور کتاب کا تحفہ بھی پیش کیاگیا۔ سراج الحسن شادمان نے انتظامی امور کی دیکھ بھال کی۔ محمدیوسف رحیم بیدری کے اظہارتشکر پر تقریب اپنے اختتام کوپہنچی۔ 
تصویر منسلک ہے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔