معاشرے کی اصلاح کیسے کریں۔ از قلم۔۔۔۔رضیہ سلطانہ الطاف پٹھان شولاپور۔


معاشرے کی اصلاح کیسے کریں۔
از قلم۔۔۔۔رضیہ سلطانہ الطاف پٹھان شولاپور۔ 

موجودہ دور کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشرے کی اصلاح بے حد ضروری ہے ۔۔معاشرے کی اصلاح کے لئے ہمیں سب سے پہلے اصلاح ہمارے گھر کی کرنے ہوگی گھر کے تمام افراد میں اصلاح پہلے خواتین کی ہونی چاہئے،کیونکہ ایک خاتون نیک ہوگی تو پورے گھر کو نیک بناسکتی ہے
آج کل فیشن اور مغربی تہذیب کے نام پر سرِ عام بے حیائی ہورہی ہے 
پہلے ماں کی گود پہلی درس گاہ ہوا کرتی تھی اب بچے ماں کی گود سے موبائل دیکھ رہے ہیں، 
پہلے برقعہ پردہ حیا کی علامت ہوا کرتا تھا۔۔ اب برقعے نے ارتقاء کا سفر طے کیا ہے اور فٹنگ کی تنگ اور تاریک گلیوں سے ہوتا ہوا جسم کے ساتھ چپکتا جا رہا ہے ۔۔اور اس پر ہمارا سنہرا خیال یہ ہے کہ ہم نے پردہ کیا ہے 
کپڑوں میں شلوار پھر ٹراؤزر پھر ٹراوزر سے سکن ٹائیٹ پاجامے آہستہ آہستہ اوپر کو سرک رہے ہیں، پہلے سر پر دوپٹہ ہوتا تھا جو سر سے گلے پر آیا پھر ون سائڈ ہوا پھر پورا ہی غائب ہورہا ہے، 
یہ ساری بے حیائی پھیلانے والی یونیورسٹی موبائل ہے 
یہ ترقی کا سفر ابھی جاری ہے 
لیکن وقت بدلہ اور بہت تیزی سے بدل گیا ۔شلوار فٹنگ اور فیشن کے نام پر سکڑ گئی موبائل ایک سٹیج بن گیا جہاں ڈیلی شوز دیکھتے دیکھتے لڑکیاں خود ریلس بنانے لگی ہیں کبھی کچن میں کبھی چھت پر اور کبھی سیڑھیوں پہ ہر جگہ ہماری گھر کی لڑکیاں ناچتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں 
اب ناحیا رہی نہ شرم رہی،
اور تعجب ہے اُن والدین پر جو یہ سوچ رکھتے ہیں کہ زمانہ بدل گیا ہے یہ فیشن ہے مگریہ فیشن کے نام پر سرِ عام بےحیائی ہے 
 وہی فیشن معاشرتی اصول بن چکا ہے ۔۔ہماری بیٹیاں ہمارے گھروں کی زینت ہے ۔ہماری یہی زینت موبائل پر ریلس بنا رہی ہیں اس پر افسوس صد افسوس یہ سب والدین اور بھائیوں گنورا ہے
زمانے چاہئے جتنا بھی بدل گیا ہو اسلام میں ایسی بے حیائی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے 
افسوس ہے اُن مردوں پر جو اپنے گھر کی بہن بیٹی اور بیوی کی بے حیائی دیکھتے ہیں اور فیشن کا نام دے کر خاموش رہتے ہیں 
 دیوثیت مردوں میں پائے جانے والی وہ بدترین صفات ہے جو ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلتی جا رہی ہے
دیوث اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے گھر میں بدکاری فحش اور غلط روش کو دیکھتا ہے اور اپنی انکھیں بند کر لیتا ہے وہ شخص غیرت مند نہیں ہوتا وہ دیوث کہلاتا ہے
ایک مرد کی غیرت کا اندازہ اس کے گھر کی عورتوں کے لباس سے لگایا جاتا ہے 
اب ضرورت مردوں کی اصلاح کی ہے مردوں کی اصلاح ہوگی تو وہ اپنے گھر کی خواتین کی اصلاح کرسکیں گے خواتین کی اصلاح سے آہستہ آہستہ معاشرے کی اصلاح ہوگی ان شاء اللہ 

اسلامی تعلیم کا بنیادی مقصد انسانی معاشرے کی اصلاح کرنا ہے، اور اس طرح اصلاح کرنا ہے کہ دنیا میں تمام انسان امن و امان کی زندگی بسر کریں اور اس طرح زندہ رہیں کہ اخلاق کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوٹے اور آخرت کی لامتناہی زندگی کے لیے پورے اخلاق و تقویٰ کے ساتھ تیاری کریں ﷲ ان سے راضی ہو، اسلامی تعلیم کا یہ بنیادی مقصد صرف اس طرح سے حاصل ہو سکتا ہے کہ ہم ﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور رسول اکرم صلی ﷲ علیہ و سلم کی پیروی کرتے ہوئے یہ معلوم کریں کہ حضور صلی ﷲ علیہ و سلم نے معاشرے کی اصلاح کس طرح کی تھی۔ہمارے لیے اس دنیا کے کسی دوسرے مفکر اور مصلح فلسفی اور رہبر کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارے نبی کی سنت اُنکی طرز زندگی ہمارے نبیؐ نے ہر کام کو عملی طور پر کرکے دیکھایا ہے بس ہم سنت کی پیروی کریں گے تو کوئی شئے ہمارے اندر بگاڑ نہیں لا سکتی ہے
جب بھی ہمارے عقائد یا اعمال کے اندر کوئی بگاڑ آتا ہے تب اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے، اگر ہماری زندگی کا طرز عمل آپؐ کی سنت کی پیروی ہوگا تو ہمارے اعمال اور عقائد میں کبھی بگاڑ نہیں آئے گا ان شاء اللہ 
اگر ہماری زندگی کا مقصد بس ﷲ سبحانہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہو۔ اور ﷲ نے قرآن حکیم میں واضح طور پر ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ اس کی رضا اور خوشنودی صرف رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ و سلم کی پیروی ہی سے حاصل ہو سکتی ہے، بلکہ اس نے ہم سے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ تم ﷲ کے رسول کی پیروی کرو گے تو ﷲ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا ذرا غور فرمائیے کسی انسان کے لیے اس سے زیادہ بڑا مرتبہ اور کیا ہو سکتا کہ خود ﷲ اس سے محبت کرنے لگے....

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔