جو اجڑے تو پھر نہ بسے دل وہ پرانی بستی ہے۔۔ ازقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری استاد جامعہ اکلکواں۔
جو اجڑے تو پھر نہ بسے دل وہ پرانی بستی ہے۔
ازقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری استاد جامعہ اکلکواں۔
جسم انسانی میں دل کو ایک بڑی حیثیت حاصل ہے عارفین کے نزدیک قلب اعضاء رئیسہ میں سے ہے ۔ انسان کے بننے بگڑنے سنورنے اچھا اور برا ہونے میں قلب ہی کا کردار ہوتا ہے لوگ کہتے ہیں دل اچھا تو سب اچھا دل بگڑا تو سب بگڑا شریعت میں بھی دل کی بڑی اہمیت ہے قلب انسانی بدلتا رہتا ہے اسی لیے اس کو قلب بھی کہا جاتا ہے جس کا معنی ہی ہوتا ہے بدلنا لفظ انقلاب بھی اسی سے معنون ہے
کسی بھی معاشرے سماج اور سوسائٹی میں بدلاؤ کے لیےاور انقلاب برپا کرنے کے لیے مصلحین عاملین کاملین نے ہمیشہ نفس اور دل کو ہی مطمح نظر رکھا ہے کیونکہ رب العالمین نے اس دل نفس کی خاصیت ایسی رکھی ہے کہ جب یہ کسی کام پر ڈٹ جائے تو پھر دنیا ادھر ادھر ہو جائے یہ اپنے کام پر ڈٹا رہتا ہے
دل پاک ہو صاف ہو شفاف اور ستھرا ہو توحید سے لبریز ہو رسالت سے معمور ہو عقیدہ اور ایمان کی نورانیت اس میں موجود ہو تو پھر دل دل ہے اور کامیاب ترین دل ہے قران مجید میں اس دل کا تذکرہ ہے یا ايتها النفس المطمئنه
اور اس دل کا بھی تذکرہ ہے جو کبھی نیکیوں کی طرف بڑھتا ہے اور کبھی برائیوں کی طرف بھی چلنے لگتا ہے
ولا اقسم بالنفس اللوامه
اور اس نفس اور دل کا بھی ذکر ہے جو ہمیشہ برائیوں ہی کی طرف ادمی کو کھینچتا رہتا ہے
وما ابرئ نفسي ان النفس لاماره بالسوء
اس لیے نفس اور دل کا بننا بہت ضروری ہے اور یہ رمضان المبارک اس دل کی تربیت کا ایک خاص موسم ہے
علمی دنیا کی ایک قد اور شخصیت علامہ بوصیری رحمت اللہ علیہ جو نہ صرف علمی شخصیت ہے بلکہ ایک بڑی روحانی شخصیت ہے جن کا۔ "قصیدہ بردہ۔"بہت مشہور ہے جو حضور صاحب کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں ایک نعتیہ قصیدہ ہے پورا قصیدہ نورانیت سے معمور ہے اس میں انہوں نے ایک شعر بیان فرمایا ہے
النفس كالطفل ان تهمله شب علي
حب الرضاع وان تفطمه ينفطم
صاحب قصیدہ فرما رہے ہیں کہ انسان کا نفس ایک چھوٹے بچے کی طرح ہے جو ماں کا دودھ پیتا ہے اور وہ بچہ دودھ پینے کا عادی بن گیا اب اگر اس سے وہ دودھ چھڑانے کی کوشش کیجائےتو وہ بچہ کیا کرے گا؟روئے گا چلائے گا پکارے گا شور مچائے گا اب اگر اس کے والدین یہ سوچیں کہ دودھ چھڑانے سے بچے کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے چلو چھوڑو اسے دودھ پینے ہی وہ دو دودھ پیتا رہے تو صاحب تصنیف فرماتے ہیں اس طرح بچے کے دودھ پینے کی عادت کبھی نہ چھوٹے گی اس لیے کہ تم اس کی تکلیف اور شور و شغف اور چلانے اور فریاد سے ڈر گئے اور اس کا دودھ پینا چھڑانا پائے اب روٹی دو تو وہ نہیں کھاتا ! اس کی ضد ہے کہ وہ دودھ ہی پیے گا۔ لیکن کیا کبھی دنیا میں کسی نے دیکھا ہے کہ کوئی ماں باپ ایسے ہیں جو یہ کہیں کہ چھوڑ دیجیے کیوں اس کا دودھ چھڑاتے ہو تو یقینا نتیجہ یہی ائے گا کہ وہ دودھ پینا نہیں چھوڑے گا لیکن ہر ایک جانتا ہے کہ اس کا دودھ پینا چھڑانا لازمی ہے اگر اج اس کا دودھ نہ چھڑایا گیا تو ساری عمر یہ کبھی روٹی کھانے کی لائق نہیں ہوگا بس یہی حال نفس اور دل کا ہے علامہ بوصیری رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نفس بچے کے مانند ہے اس کے منہ کو گناہ لگے ہوئے ہیں گناہوں کا ذائقہ اور اس کی چاٹ اس کو لگی ہوئی ہے اگر تم نے اس کو ایسے ہی چھوڑ دیا کہ چلو کرنے دو گناہ چھڑانے سے تکلیف ہوگی نظر غلط جگہ پر دیکھتی ہے تو دیکھنے دو۔ ہٹانے میں بڑی تکلیف ہوگی زبان جھوٹ بولتی ہے تو بولنے دو جھوٹ چھڑانے سے اس کو تکلیف ہوگی۔ اسی طرح ہر بری عادت اپ سمجھ لیں کہ وہ رشوت خوری کا عادی بن گیا وہ سود خوری کا عادی بن گیا وہ نظر بازی کا عادی بن گیا وہ چغل خوری کا عادی بن گیا وہ چاپلوسی کا عادی بن گیا۔ اب اس کی یہ عادتیں چھڑانے سے دل اور نفس کو تکلیف ہوگی اور اس تکلیف سے گھبرا کر اور خوف کھا کر بیٹھ گئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ساری عمر نہ کبھی گناہ چھوٹے گے اور نہ کبھی اسکوسکون وقرار مل سکے گا اس لیے گناہ کرنے کی عادت کو ترک کرنا پڑے گا گناہوں کو چھوڑنے کی عادت ڈالنی ہوگی اور یہ رمضان المبارک اسی نفس کو کنٹرول میں کرنے اور اس کو اچھی عادتوں پر لگانے کی مشق ہے روزہ تراویح تلاوت خشیت الہی دل میں پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے لہذا رمضان کو انتہائی نفس تازہ کے ساتھ گزارنا چاہیے
Comments
Post a Comment