آخری سبق۔۔۔ ازقلم : ڈاکٹر سراج انور، امراؤتی(مہاراشٹر)


آخری سبق۔۔
ازقلم : ڈاکٹر سراج انور، امراؤتی(مہاراشٹر)
موبائل : 08668323359

پروفیسر رگھوناتھ راؤ اپنے کیبن میں کھڑکی سے باہر دیکھ رہے تھے۔ ساٹھ سال کی عمر اور تیس سالہ تدریسی تجربہ کے باوجود، دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ برسوں کی محنت اور انگنت شاگردوں کی کامیابیوں کے باوجود، جیسے کوئی خلا باقی رہ گیا ہو۔ کوئی سوال جس کا جواب ابھی تک نہیں ملا تھا۔  
کل یونیورسٹی میں یونیورسٹی میں فیکلٹی میٹنگ تھی۔ موضوع تھا: "طلبا میں قومی شعور کی کمی"۔ ڈین صاحب نے کہا تھا کہ آج کل کے بچے صرف پیسے اور بیرونِ ملک جانے کی ہی باتیں کرتے ہیں۔  
"سر، یہ فائلیں۔" 
چوبیس سالہ ریسرچ اسسٹنٹ نیہا نے فائلیں رکھیں۔ ایک کان میں ایئر فون تھا، دوسرا باہر تاکہ بات سن سکے۔  
"نیہا، ایک سوال پوچھوں؟" 
"جی سر؟"  
"تم کیا سوچتی ہو اس دیش کے بارے میں؟" 
نیہا چونک گئی۔ کچھ لمحے خاموش کھڑی رہی۔ سر نے آج تک ایسا سوال کبھی نہیں پوچھا تھا۔  
"میں... سر، سچ بولوں؟" 
"ہاں۔" 
"میرا جی آر ای کا ریزلٹ آ گیا ہے، اور میں نے امریکہ کی پانچ یونیورسٹیوں میں اپلائی کیا ہے۔" 
راؤ صاحب خاموش ہو گئے۔  

"سر، میرے پاپا ریٹائر ہو گئے ہیں۔ تیس سال سرکاری نوکری کی، پنشن اتنی کم ہے کہ دوائیوں کا خرچ بھی مشکل سے نکلتا ہے۔ میری دیدی بی ٹیک کر کے بنگلور میں ہے۔ اچھی کمائی کرتی ہے، مگر کرائے کے فلیٹ میں رہتی ہے۔ میرا بھائی سی اے کر رہا ہے، دن رات پڑھتا ہے، پھر بھی پتہ نہیں نوکری ملے گی یا نہیں۔" 
"لیکن نیہا، یہاں بھی تو مواقع ہیں۔" 
"کہاں ہیں سر؟ گریجوایشن میں نوے فیصد تھے۔ پھر بھی کیمپس پلیسمنٹ میں ایک لاکھ بیس ہزار سالانہ کا پیکیج ملا۔ اس سے کیا ہوگا؟ شادی کیسے ہوگی؟ گھر کیسے لوں گی؟" 
راؤ صاحب کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔  
یونیورسٹی کے سیمینار ہال میں پروگرام صبح گیارہ بجے شروع ہوا۔ عنوان تھا: "یوا اور راشٹر بھکتی"۔  
تقریباً تین سو طلبہ موجود تھے۔ زیادہ تر اس لیے کہ اٹینڈنس لازمی تھی۔ کچھ پچھلی قطاروں میں نیم دراز بیٹھے تھے، کچھ موبائل اسکرینوں میں گم۔ ہال میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اسٹیج پر لگے پنکھوں کی آواز اس سکوت کو کاٹ رہی تھی۔  
پہلے دو مقررین نے حسبِ روایت تقریریں کیں: گاندھی جی، نہرو، آزادی کی جدوجہد، ہندوستان کی عظمت۔۔۔ وغیرہ۔  
طلبہ اُکتا رہے تھے۔ کوئی انسٹاگرام اسکرول کر رہا تھا، کوئی ریڈٹ پڑھ رہا تھا، کوئی واٹس ایپ پر میمز بھیج رہا تھا۔  
پھر راؤ صاحب کی باری آئی۔  
انہوں نے مائیک تھاما اور اپنی تیار شدہ تقریر کی نوٹس پوڈیم پر رکھ دی۔ آج پہلی بار ان کی انگلیوں میں ہلکی سی کپکپاہٹ تھی۔  
"ڈیئر اسٹوڈنٹس۔۔۔ میں آپ کو دیش بھکتی کا درس نہیں دوں گا۔" 
پچھلی قطار میں بیٹھا ایک لڑکا چونک کر سیدھا ہو بیٹھا۔  
کسی نے انسٹاگرام اسکرول کرتے ہوئے اپنا انگوٹھا روک لیا۔  
"میں آپ سے یہ نہیں کہوں گا کہ آپ کو اپنے دیش سے پیار کرنا چاہیے یا نہیں۔  
کیونکہ اصل سوال یہ ہے کہ۔۔۔ کیا اس دیش نے آپ سے پیار کیا؟"  

ہال میں سرسراہٹ سی دوڑ گئی۔  
ڈین صاحب پہلو بدل کر راؤ صاحب کو گھورنے لگے۔  
"ہمارے بزرگوں نے سوچا تھا کہ ہم دیش بنا رہے ہیں، لیکن دیکھیں کیا بنا۔" 
انہیں صبح والا منظر یاد آگیا۔ نیہا، فائلیں، اور وہ سوال جس کا جواب ان کے پاس نہیں تھا۔  
"ایک ایسا سسٹم جہاں آپ آئی آئی ٹی کر کے نکلیں تو بھی نوکری کی گارنٹی نہیں۔ جہاں ایم بی بی ایس کے بعد NExT میں دوبارہ جان لڑانی پڑتی ہے۔ جہاں سول سروسز کی تیاری میں پانچ سال لگاؤ، پھر بھی کامیابی یقینی نہیں۔" 
سامنے بیٹھے لڑکے نے موبائل فون جیب میں ڈال لیا۔ جیسے اب کچھ سننا واقعی ضروری ہو گیا ہو۔  
راؤ صاحب کی آواز میں تلخی اور درد تھا: 
"ہم نے آپ کو تعلیم دی، مگر معیار نہیں دیا۔ روزگار دیا، مگر تحفظ نہیں دیا۔ حقوق دیے، مگر انصاف نہیں دیا۔ آزادی دی، مگر جوابدہی نہیں دی۔" 
ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔  
"اچھا… مجھے بتائیے، یہاں آپ میں سے کتنے بچے ہیں جو ابراڈ جانا چاہتے ہیں؟" 
ایک لمحے کی ہچکچاہٹ کے بعد ہاتھ اٹھنے لگے۔  
پہلے چند، پھر مزید، اور پھر تقریباً سبھی۔  
راؤ صاحب کی آواز بھر آئی: 
"میں آپ کو بالکل ملامت نہیں کروں گا۔ آپ کیوں وفاداری کریں ایک ایسے سسٹم سے جو خود آپ کا وفادار نہیں؟" 
ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔  
دوسری طرف ڈین صاحب کا چہرہ غصے سے لال پیلا ہو گیا، بھنویں تن کر اوپر چڑھ گئیں۔  
سمینار کے بعد ایک لڑکا راؤ صاحب کے پاس آیا۔  
"سر، آج پہلی بار کسی بڑے شخص کی زبان سے سچ سننے کو ملا۔ لیکن اب کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ سسٹم تو بدلے گا نہیں۔" 
راؤ صاحب نے کندھے پر ہاتھ رکھا۔  
"بیٹا، فرق شاید نہ پڑے۔ لیکن کم سے کم تم یہ جان لو کہ ہم میں سے کچھ لوگ جانتے ہیں کہ ہم واقعی ناکام ہوئے۔" 
لڑکا مسکرایا۔ "شکریہ سر۔ ویسے بھی، اب ہم نے اپنا انتظام خود ہی کر لیا ہے۔" 
کچھ دیر بعد راؤ صاحب نے دیکھا۔ وہ لڑکا اپنے دوستوں کے ساتھ انسٹاگرام ریل بنا رہا تھا، پولیٹیکل سٹائر پر۔ جہاں لاکھوں ویوز موجود تھے۔  
شام کو راؤ صاحب گھر پہنچے۔ اندر داخل ہوتے ہی دیکھا کہ بیوی پوجا روم میں دیا جلا رہی تھیں۔ اسی دوران بیٹے کی کینیڈا سے ویڈیو کال آئی، جہاں پس منظر میں ہلکی ہلکی برف باری ہو رہی تھی۔ بیٹا وہاں کسی کمپنی میں انجینئر تھا۔ بیٹی کا لندن سے میسج آیا کہ آج یہاں موسم بہت خوشگوار ہے، وہ پارک میں کتاب پڑھ رہی ہے۔ بیٹی لندن میں قانون میں پی ایچ ڈی کر رہی تھی۔  
یہ سب دیکھ کر بھی راؤ صاحب کے چہرے پر فکر کی لکیریں نمایاں تھیں۔  
تبھی بیوی نے مخاطب ہو کر کہا:
"کیا ہوا؟ آج آپ بہت پریشان لگ رہے ہو۔" 
"کچھ نہیں۔ بس سوچ رہا تھا۔ ہم نے اپنے بچوں کو بھی یہاں سے بھیج دیا۔ اور اب نئی نسل کو ملامت کرتے ہیں کہ وہ اپنا دیش چھوڑ کر کیوں جانا چاہتے ہیں۔" 
"آپ نے جو بھی کیا، بچوں کی بہتری کے لیے کیا۔" 
"بس یہی تو غلط ہے۔ ہم سب نے اپنے بچوں کی بہتری کی، دیش کی بہتری کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں۔" 
تبھی موبائل پر نیہا کا میسج آیا:  
"سر، اسٹینفورڈ میں ایڈمشن مل گیا ہے۔ مکمل اسکالرشپ کے ساتھ۔ اگلے چند مہینوں میں جا رہی ہوں۔ آج آپ نے سچ بولنے کی جو ہمت دکھائی اس کے لیے شکریہ۔" 

راؤ صاحب نے جواب لکھا: 
"کانگریچولیشن بیٹا، جاؤ، جو ہم نہیں دے سکے وہ وہاں سے حاصل کرو۔ آل د بیسٹ۔" 
پھر انہوں نے صوفے پر پڑے ہوئے ریموٹ کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور ٹی وی کھولا۔ کوئی نیتا تقریر کر رہا تھا:  
"ہمارا بھارت مہان... یوا شکتی۔۔۔ آتم نربھر بھارت۔۔۔"  
راؤ صاحب نے فوراً چینل بدل دیا۔  
کھڑکی کے باہر چند لڑکے چائے کی دکان پر بیٹھے تھے۔ ہنسی مذاق میں گم، فون پر کچھ دیکھ رہے تھے۔ شاید کیری مناتی کی نئی ویڈیو یا کوئی طنزیہ میم۔  
راؤ صاحب نے انہیں دیر تک دیکھا۔ لگا کہ یہ لڑکے ایک الگ دنیا کے باسی ہیں؛ ان کی زبان بھی الگ ہے اور خواب بھی۔ پہلی بار شدت سے انہیں یہ احساس ہوا کہ ہم نے انہیں کھو دیا۔  
وہ کھڑکی کے پاس کھڑے اپنی بیوی سے آہستہ لہجے میں بولے: 
"آج میں نے ان نوجوانوں کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں مایوسی نہیں تھی بلکہ ایک فیصلہ تھا۔ انہوں نے ہمیں نہیں چھوڑا، ہم ہی نے انہیں چھوڑ دیا۔ اور پھر ہم سوال کرتے ہیں: تم دیش بھکت کیوں نہیں ہو؟  
کیونکہ محبت دو طرفہ ہوتی ہے، اور ہم نے کبھی ان سے محبت کی ہی نہیں۔"  
بیوی نے خاموشی سے بات سنی، پھر دھیرے سے کہا: 
"شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ان سے محبت کرنا سیکھیں، ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔"  
راؤ صاحب نے کھڑکی کا شیشہ ہلکا سا کھولا۔ ٹھنڈی ہوا اندر آئی۔ ایک لمحے کے لیے انہیں لگا کہ وہ ہنسی ان کی طرف بھی آ رہی ہے۔  
وہ خاموش رہے۔ نہ بیوی سے کچھ کہا، نہ خود سے۔ بس دیر تک کھڑکی کے پاس کھڑے اندھیرے میں باہر کی روشنی دیکھتے رہے۔ اندر کی خاموشی سنتے رہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔