استاد کا وقار اور درس و تدریس کا تقدس: ہمیں کہاں لے جا رہی ہے باہمی کشمکش؟خصوصی پیشکش۔محمد وسیم (آکوٹ)۔۔تحریر: عقیل خان بیاولی۔

استاد کا وقار اور درس و تدریس کا تقدس: ہمیں کہاں لے جا رہی ہے باہمی کشمکش؟
خصوصی پیشکش۔
محمد وسیم (آکوٹ)۔۔
تحریر: عقیل خان بیاولی۔۔

"استاد محترم… تمہیں مصلح؟ تمہیں رہبر؟
نو نہالانِ قوم محوِ راہگزر؟" 
سرمست و مست قلندر کی نگری، علم و امن کا وہ باغ جہاں کے تصوف اور روحانیت نے انسانیت کو پیغامِ محبت دیا، اسی مقدس سرزمین پر ماہِ رمضان المبارک کے دوران آشتی نگر میں واقع قدوائی ہائی اسکول و جونیئر کالج میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے معلم کے وقار اور تعلیم کے تقدس پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق تعلیمی ادارے میں صدر معلم (پرنسپل) پٹھان مجیب اور ان کے ساتھی معتصم خان کی جانب سے صغیر احمد معاون معلم پر تشدد کیا گیا، اسٹیل کی سلاخ سے پٹائی کی گئی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو کر مقامی جی ایم سی کے آئی سی یو وارڈ میں زیرِ علاج ہیں۔ پولیس اس معاملے کی چھان بین کر رہی ہے۔
متاثرہ معاون معلم کا الزام ہے کہ ادارے والے ان سے ماہانہ رقم وصول کرتے تھے، اور جب انہوں نے یہ رقم دینا بند کی تو تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔ جو گزشتہ کئی دنوں سے اندر ہی اندر چل رہا تھا ۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ محض ایک فرد یا ایک ادارے کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ پورے تعلیمی نظام اور ملت کے وقار سے جڑا سوال بن جائے گا۔ یہ وہ پیشہ ہے جسے پیغمبروں کی وراثت کہا جاتا ہے۔ استاد وہ معمار ہے جس کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہوتا ہے۔ وہ نسلِ نو کا مصور ہے، کرداروں کا معمار ہے اور معاشرے کی فکری سمت متعین کرنے والا اہم جزو ہے۔ اگر ایسے مقدس منصب پر فائز افراد خود قانون شکنی، تشدد اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ہو جائیں تو نہ صرف اداروں کا وقار مجروح ہوتا ہے بلکہ پوری قوم شرمندگی کے احساس سے دوچار ہو جاتی ہے۔
آج حالات پہلے ہی نازک ہیں۔ اقلیتی طبقات کے دستوری حقوق پر قدغنیں، اقلیتی ریزرویشن کا مسئلہ، اسکالرشپس کی بندش، تربیتی کلاسس، مسابقتی امتحانات کی سہولتیں اور وقف بورڈ کے معاملات ، یہ سب ملت کے لیے کم آزمائش نہیں۔ ایسے ماحول میں اگر تعلیمی اداروں کے اندر ہی تنازعات تشدد کی شکل اختیار کریں تو دشمن عناصر کو ہمارے خلاف مزید مواد فراہم ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ کہ اختلافِ رائے، نظریاتی تضادات اور ذاتی رنجشیں انسانی معاشرے کا حصہ ہیں، مگر اختلاف کا مطلب تصادم نہیں۔
*حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے*۔
اگر کسی ادارے میں اختلاف اس حد تک بڑھ جائے کہ اس کے تقدس پر حرف آنے لگے تو سب سے پہلا فریضہ افہام و تفہیم ہے۔ انتظامیہ ہو یا معاون عملہ، دونوں پر لازم ہے کہ معاملات کو اپنی سطح پر حل کرنے کی کوشش کریں۔ جب مسئلہ تھانے اور عدالت تک پہنچ جائے تو یہ کسی ایک کی نہیں بلکہ پوری تعلیمی برادری کی شکست ہوتی ہے۔
ہر شہر میں اساتذہ کی تنظیمیں موجود ہیں، جو ایسے تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔ غیر تعلیمی اور سیاسی عناصر کو اس دائرے میں داخل ہونے دینا مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم ایک نہایت حساس اور ذمہ دار پیشے سے وابستہ ہیں۔ ہمارے مقابل محض افراد نہیں بلکہ پورا سماجی ماحول کھڑا ہے۔ اس لیے صبر، تحمل، حکمت اور تدبر ہی ہمارا اصل ہتھیار ہونا چاہیے۔
یہ واقعہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ہمیں اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ تخلیقی ذہن، سنجیدہ رویہ اور اخلاقی جرات ہی اس بحران کا حل ہیں۔ ہمارے سامنے وہی طلبہ کھڑے ہیں جو ہماری راہ پر چلیں گے۔ اگر ہم انہیں باہمی نفرت، تشدد اور بدعنوانی کی مثال دیں گے تو ان سے کردار کی بلندی کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم معلم کے منصب کو محض ملازمت نہ سمجھیں بلکہ امانت تصور کریں۔ اتحاد، وقار اور باہمی احترام ہی وہ راستہ ہے جس سے تعلیمی ادارے مضبوط ہوں گے اور قوم کو صحیح سمت ملے گی۔ اگر ہم نے آج اپنے گھروں اور اداروں میں اصلاح نہ کی تو کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
یہ تحریر کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ ایک رویے کے خلاف ہے،اس رویے کے خلاف جو استاد کو رہبر کے بجائے متحارب فریق بنا دیتا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم رہبر بننا چاہتے ہیں یا راہ سے بھٹکے ہوئے مسافر۔؟؟

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ