واللہ سزاوارِ اعزاز نہیں ہوتی
واللہ سزاوارِ اعزاز نہیں ہوتی
وہ ذات جو حق ھو کی ہمراز نہیں ہوتی
غرقاب خطایا سے کہ دو کہ بآسانی
بھیگے ہوئے پر سے تو. پرواز نہیں ہوتی
اڑتی ہے خلاؤں میں رہتی ہے پہاڑوں میں
اک چیل مگر ہرگز شہباز نہیں ہوتی
کچھ لوگ ہیں جو آنسو پی جانے میں ہیں ماہر
ہر آنکھ حقیقت کی غماز نہیں ہوتی
آواز سریلی ہے پر درد ہے لہجے میں
شہنائی کی ہر اک لے دمساز نہیں ہوتی
رہ رہ کے خبر گیری کرلیتے اگر میری
اتنی بھی مری حالت ناساز نہیں ہوتی
اک دو نہیں لاکھوں مرغ افلاک میں اڑتے ہیں
شاہین سی پر سب کی پرواز نہیں ہوتی
لگ جاتی ہے بھیڑ اکثر ویسے ہی جنازے میں
ہر بھیڑ کوئی وجہِ اعزاز نہیں ہوتی
کرتے ہو ستم کرلو پر اتنا سمجھ لینا
اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی
صفدر ترا ذوقِ فن عامی ہی اگر ہوتا
تو ذات تری سب سے ممتاز نہیں ہوتی
از صفدر نریاؤں امبیڈکر نگر
Comments
Post a Comment